اسلام آباد میں پانی

اسلام آباد میں پانی کامسئلہ

آپ اسلام آباد میں رہیں تو آپ کاسب سے بڑا مسئلہ پانی ہے۔ جی سیون ٹو کے ایک دوست گریڈ 12سے گریڈ 14میں پروموٹ ہوئے تو مبارکباد ینے گیا ۔ وہ گھر نہیں تھے۔ معلوم ہوا پانی لینے گئے ہیں۔ تھوڑانتظار کیا تو موٹر سائیکل پر گوالوں کی طرح دائیں بائیں دودھ والے کین لٹکائے آگئے اور ہنستے ہوئے کہنے لگے ۔اسلام آباد میں پانی کا سٹیٹس دودھ کے برابر ہوگیا ہے۔

سی ڈی اے کی طرف سے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں پیش کردہ رپورٹ میں تسلیم کیا گیا ہے کہ ڈیمانڈ اورسپلائی میں  پچاس فی صد فرق ہے۔اس لیے پانی کی راشننگ ہورہی ہے۔

اس وقت اسلام آباد میں تین ذرائع سے پانی آتاہے۔ سملی ڈیم، خان پور ڈیم اور شہر میں نصب ٹیوب ویلز لیکن تینوں ذرائع مل کربھی شہر کی ضرورت کے مطابق پانی فراہم نہیں کرپاتے۔ انتظامیہ کی جمع تفریق کے مطابق اسلام آباد میں روزانہ120ملین گیلن پانی کی ضرورت ہے اور اس وقت صرف 48ملین گیلن پانی حاصل اورسپلائی ہو رہا ہے ۔

سی ڈی اے کے دلائل ہیں کہ آبادی بڑھ رہی ہے۔ انڈر گراؤنڈ واٹر لیول نیچے جارہا ہے۔ شہری پانی چوری کرتے ہیں۔سی ڈی اے کے مطابق یہ سب ناقبال کنٹرول فیکٹر ہیں۔ جوصورتحال  کوبحرانی بنا رہے ہیں۔

مختار احمد بھٹی وزارت خزانہ سے ڈپٹی سیکرٹری ریٹائرڈ ہوئے ہیں۔ وہ ایک سینئر شہری کی حیثیت سے اسلام آباد کے مسائل کی بنیادیں جانتے ہیں۔ ان کاکہنا ہے کہ دنیا کاہر بڑا شہر کسی دریا کے کنارے آباد ہے ۔آج بھی نئے شہر دریا کنارے بنائے جارہے ہیں تاکہ شہر میں انڈر گراﺅنڈ واٹر لیول کم نہ ہو لیکن اسلام آباد ایک کاسمیٹک شہر ہے ۔یہ کسی دریا کنارے بنایاجاتا تو ہر گھر میں ہینڈ پمپ لگتا اورہر گھر میں بورنگ سے پانی آتا۔ان کے خیال میں اس شہر کی تعمیر میں ہی ایک خرابی کی صورت مضمر ہے۔جس کے باعث آج تک واٹر سپلائی کبھی نیوٹرل پوزیشن پرنہیں آسکی۔

اسلام آباد میں واٹر سپلائی کاایک اہم سورس ٹیوب ویلز ہیں۔ جن پرانحصارسے گراﺅنڈ لیول 70فٹ مزید کم ہوگیا ہے۔ جو ٹیوب ویلز فی منٹ پانچ سو گیلن پانی حاصل کرنے کے لیے لگائے گئے تھے ۔ وہ فی منٹ پچاس گیلن پانی بھی نہیں دے رہے ۔اس کے باوجود ٹیوب ویلز سے روزانہ 24ملین گیلن پانی لیا جارہا تھا جو کم ہوکر صرف پندرہ ملین گیلن روزانہ رہ گیا ہے۔

سی ڈی اے کاشکوہ ہے کہ شہری پانی مس یوز اورچوری کرتے ہیں۔ انہوں نے کئی شہریوں کواس جرم پرجرمانے بھی کئے ہیں لیکن   ایس ڈی پی آئی کی رپورٹ کے مطابق حاصل شدہ پانی کا 60فی صد ٹوٹے ہوئے پائپوں سے ضائع ہورہا ہے۔ سی ڈی اے کے ایک ذمہ دار نے اس رپورٹ کومبالغہ آمیز قراردیتے ہوئے رازداری سے بتایا کہ پرانے پائپوں سے صرف35فی صد پانی ضائع ہوتاہے۔ جی نائن مرکز کے حاجی عبدالقدوس کہتے ہیں کہ فجر کے لیے گھر سے نکلتا ہوں تو گلی میں ٹوٹے پائپوں سے پانی کااتنا گند ہوتا ہے کہ پاﺅں اورکپڑے ناپاک ہوجاتے ہیں۔ کبھی مسجد میں بھی پانی نہیں ہوتا۔

شہریوں کاشکوہ ہے کہ1960میں بچھائی جانے والی پائپ لائنیں ٹوٹ چکی ہیں۔ قدم قدم پر سیوریج اورواٹر لائن مل کرایک نیا مسئلہ پید اکررہی ہیں۔ کئی گھروں میں پیلے رنگ کاپانی آتا ہے۔ پانی بظاہر صاف بھی ہو تو اس میں بدبو ہوتی ہے۔

اس بحران میں سی ڈی اے نے ٹینکروں سے پانی سپلائی کرنے کی کوشش کی ۔ ہمارے ملک کانظام ایسا ہے کہ مسئلہ حل کرنے کی کوشش خود ایک مسئلہ بن جاتی ہے۔ سی ڈی اے کے پاس51 واٹر ٹینکر ہیں۔ان میں سے 15خراب اورناکارہ ہیں۔ باقی36 دن رات چل رہے ہیں۔ان میں سے10 ٹینکرزماڈل ایریاز کے لیے ہیں اورباقی26 شہر میں چلتے ہیں۔

ایک روز سی ڈی اے دفتر میں واٹر ٹینکرز موومنٹ کاریکارڈ دیکھ رہا تھا کہ روزانہ پانچ سو شہری پانی کا ٹینکر حاصل کرنے کے لیے درخواست دیتے ہیں۔ صبح سویرے بکنگ کرائی جائے اورشام تک ٹینکر آجائے تو معجزاتی خوش قسمتی ہے ورنہ کئی دن لگ سکتے ہیں۔ یہ ٹینکر مفت ملنے چاہئیں لیکن سی ڈی اے پیسے لیتی ہے۔ کبھی یہ ٹینکر 50روپے کاتھا۔ اب یہ دوڈھائی سوروپے کا ہے لیکن شکایت ہے کہ ہزار دوہزار روپے طلب کئے جارہے ہیں۔ سی ڈی اے حکام اس کی تردید کرتے ہیں۔ سی ڈی اے کے مقابلے میں پرائیویٹ ٹینکرز جلد مل جاتا ہے لیکن ریٹ کئی ہزار روپے ہے۔ اسلام آباد کے ایک ٹیچر نے حکومت سے سوال کیا ہے کہ سرکاری پے اسکیل کے مطابق مجھے اتنی تنخواہ ملتی ہے کہ روٹی کے پیسے پورے نہیں ہوتے۔ ٹینکر کہاں سے لاﺅں۔

رکن قومی اسمبلی کی حیثیت سے اسلام آباد میں پانی کامسئلہ حل کرنے کے لیے شارٹ ٹرم اورلانگ ٹرم دونوں طرح کے منصوبوں کی منظوری حاصل کی تھی ۔ شارٹ ٹرم منصوبے کے مطابق شہر میں ٹیوب ویلزکے لیے گرڈ اسٹیشنوں سے ڈائریکٹ کنکشن دینے کی تجویز پیش کی تھی تا کہ لوڈشیڈنگ سے پانی کی سپلائی متاثر نہ ہو ۔لانگ ٹرم منصوبے کے مطابق دریائے سندھ سے پانی لانے کے لیے پانچ سال کی جدوجہد کے بعد غازی بروتھا واٹر سپلائی پراجیکٹ کی منظوری حاصل کرلی تھی۔ جس سے آئندہ سو سال کے لیے اسلام آباد میں پانی کامسئلہ حل ہوجاتا ۔ یہ منصوبہ شوکت عزیز کابینہ میں پیش ہوا تھا۔ واپڈا سے مذاکرات ہوئے۔ کثیر لاگت سے فیزیبلٹی رپورٹ بنی ۔ پھر منصوبہ پلاننگ کمیشن کے پاس پہنچا لیکن یہ اس لیے فائلوں میں بند ہے کہ سرحد حکومت نے دریائے سندھ سے اسلام آبا د کوپانی دینے پر تحفظات پیش کئے ہیں ۔ یہ تحفظات دور کرکے منظورشدہ سکیم پرعمل کی ضرورت ہے تاکہ پانی کامسئلہ مستقل بنیادوں پر حل ہوسکے۔

اس کے بعد سرکاری افسران نے چراہ ڈیم کا منصوبہ پیش کیا ۔جس سے 8ملین گیلن پانی روزانہ مل سکے گا۔ ماہرین کے مطابق اسلام آباد کے گرد 6 نئے ڈیم بنائے جاسکتے ہیں۔ جن سے پانی بھی ملے گااورگراؤنڈ لیول بڑھے گا تو نئے ٹیوب ویلز بھی لگائے جاسکیں گے۔

انتظامیہ نے باتوں اوراعلانات کے شعبہ میں بہت کچھ کیاہ ے لیکن میدان عمل میں معاملات اپ گریڈیشن کی بجائے ڈاؤن گریڈیشن میں جارہے ہیں۔ گذشتہ ماہ مجموعی سپلائی 60ملین گیلن روزانہ تھی ۔اب 48ملین گیلن روزانہ ہے اور سی ڈی اے کے مطابق آئندہ ہفتے 46ملین گیلن روزانہ رہ جائے گی۔ ایک آفیسر اپنے دفتر میں ہرآنے والے کومشورہ دیتے ہیں کہ یہ آزمائیش کاوقت ہے۔اس لیے گاڑی دھوکر پانی ضائع نہ کریں۔

 ادارہ موسمیات کے مطابق اس سال ڈرائی میں اضافہ سے بارشوں میں 30فی صد کمی ہوگی۔اسلام آباد ایک تعمیر ہوتا اورپھیلتا ہوا شہر ہے ۔ یہاں عالمی معیار کے فائیوسٹار ہوٹلز اورآسمان سے چھوتی عمارتیں زیر تعمیر ہیں۔دس نئے سیکٹروں کاآغاز ہورہا ہے۔ ابھی یہ شہر آدھا تعمیر ہوا ہے اور پانی کی سپلائی کم ہوتی جارہی ہے ۔ آئندہ چند سال میں آبادی اورسیکٹروں کی تعداد بڑھے گی تو پانی کہاں سے ملے گا؟
..........

یکم فروری 2010





No comments:

Post a Comment

Note: Only a member of this blog may post a comment.


میرا نصب العین اسلامی نظام زندگی اور اللہ تعالیٰ کی رضا کاحصول ہے اور زندگی میں کامیابی کے لئے اخلاق، دیانت ،خدمت اورجرٲت پر یقین ہے۔