حالات حاضرہ

ملک پر دہشت کی حکمرانی ہے۔ سڑکوں پر خوف کے سائے ہیں۔ ہرقدم پر مورچے،ناکے اوربندوقیں ہیں۔ سرکاری عمارتوں کے گردریت کی بوریاں اور خاردار تاریں ہیں۔ ہرطرف میدان جنگ کا نقشہ ہے ۔ پشاور کے ہسپتال زخمیوں سے بھر چکے ہیں۔ مرکزی شہروں میں تعلیمی ادارے بند ہیں۔ جو کھلے ہیں ،ان میں طلبہ وطالبات کی حاضری کم ہے۔ مائیں بچوں کوسکول بھیجنے سے ڈرتی ہیں۔

حکومت سہمے ہوئے عوام کو تسلی دے رہی ہے کہ یہ دہشت گردی کے بجھتے چراغ کی آخری ٹمٹماہٹ ہے ۔اخبارات کے صفحات اورٹی وی سکرین پر نظر ڈالیں توحکمرانوں کا اپناچراغ کسی روشنی سے محروم ہے۔ پارلیمنٹ بے بسی اوربے عملی کی تصویر ہے۔ صدر مملکت اپنی تنہائی کے سامنے بے بس ہیں۔ عوام چینی ، آٹے، بجلی، گیس کے بحران کے سامنے بے بس ہیں۔وزیرستا ن میں فوجی جوان شہادتیں پیش کررہے ہیں۔اس صورتحال نے عوام کے ذہن پر شدید اثر ڈالا ہے۔

ہر محفل میں عوام یہی سوال کرتے ہیں کہ حکومت کی رٹ کہاں ہے؟ہم خارجی اورداخلی دونوں محاذوں پر پٹ رہے ہیں۔امریکہ اپنی من مانی کررہا ہے اور دہشت گرد بھی ہماری جان لے رہے ہیں۔ ایک عرصہ ہوگیا ہے کہ ہم لاشیں گننے میں مصروف ہیں۔

ہر دھماکے کے بعد حکومت کی انگلی اپنے ہی ملک کے ایک حصے وزیرستان کی طرف اٹھتی ہے ۔ کسی اورکی طرف کیوں نہیں اٹھتی۔ حکومت بھارتی جاسوس گرفتار کرتی ہے اورپھر خاموش ہوجاتی ہے۔ سوات میں غیر مسلم دہشت گردوں کی برہنہ لاشیں دیکھ کربھی وزارت داخلہ فریب نظر میں ہے۔ کیاہم ان غلاموں کی طرح ہیں ۔جو صرف وہی بول سکتے ہیں جو آقا چاہتاہے۔

حکومت بے بس اورناکام ہے تو اپوزیشن کیا کررہی ہے۔ اپوزیشن بھی وہی کررہی ہے جو حکومت کررہی ہے۔ سید منور حسن صاحب کاکہنا ہے کہ دونوں ایک ہیں۔ایک باری لگا رہا ہے اوردوسراسرجھکائے منتظر ہے۔

دونوں جماعتیں امریکہ کے سامنے ڈھیر ہیں۔90فی صد عوام امریکی پالیسیوں کے خلاف ہیں۔ دونوں جماعتوں کا اپناووٹ بنک حیران اورپریشان ہے کہ کسے وکیل کریں اورکس سے منصفی چاہیں۔

سوال یہ ہے کہ حکومت اوراپوزیشن دونوں کاگراف نیچے جائے گا تو کس کاگراف اوپر جائے گا۔ موجودہ حالات میں ایک نئی سیاسی قوت کے آنے کے امکانات بڑھتے جارہے ہیں۔ میڈیا صدر زرداری کے جانے پر ڈبیٹ کررہاہے ۔ تجزیہ نگار حساب لگا رہے ہیں کہ فوج کے اقتدار سنبھالنے کے کتنے امکانات ہیں۔ ہمار ا خیال ہے کہ زیرو۔ فوج کاادارہ حالات کی پیچیدگی سے بے خبر نہیں ہوسکتا۔

امریکہ نے صدر زرداری سے بھی  ڈو مور     کامطالبہ کیا ہے۔ صدر مشرف چلے گئے لیکن ان کی ہر پالیسی جاری ہے۔ جس کے مطابق ہماری حکومت ملک دشمنوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کی بجائے دشمنوں کی خوشامد کررہی ہے ۔ اس پیش گوئی کے لیے کسی نجومی کی ضرورت نہیں ہے کہ صدر زرادری بھی صدر مشرف کے راستے پر چلیں گے تو اسی منزل پر پہنچیں گے۔

صدرزرداری کاخیال ہے کہ جمہوریت اور حکومت کے خلاف سازش ہورہی ہے۔ لیکن اس وقت مسئلہ یہ نہیں ہے کہ حکومت کون کرے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ ملک کیسے بچایا جائے۔عوام کی جان کیسے بچائی جائے۔ حکومت سے زیادہ ریاست کی سلامتی خطرے میں نظر آتی ہے۔ صوبہ سرحد میں نا ن سٹاپ دھماکے کرنے والے ریاست کی ناکامی چاہتے ہیں۔

قومی ذرائع ابلاغ مسلسل خبریں دے رہے ہیں کہ دشمن ہمیں گھیر رہے ہیں۔ افغانستان، بھارت اوراسرائیل کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے۔ پاک افغان سرحد پر امریکہ اور نیٹو نے اپنی چوکیاں پیچھے ہٹا کرطالبان کی آڑ میں را  اور موساد کے ایجنٹ پاکستان میں داخل کردئے ہیں۔

خارجی محاذ پر دشمن ہمیں گھیر نا چاہتے ہیں تو داخلی محاذ پر ہمارے حکمران اپنے عوام کوہرطرح کاعذاب دے کردشمن کا کام آسان بنا رہے ہیں۔ بجلی، گیس، آٹا، چینی سمیت ہر طرح کا بحران پیدا کرکے عوام کوحواس باختہ کیاجارہا ہے۔اس صورتحال میں حکمرانوں سے کیا مطالبہ کیا جائے۔ ان کے پاس کوئی حل ہوتا تو اس ڈیڑھ سال میں ملک وقوم کوفائدہ ہوتا۔عوام دیکھ رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی کی حکومت سے ملک سنبھالا نہیںجارہا۔

جماعت اسلامی کی تمام توقعات عوام سے وابستہ ہیں۔ عوام منظم اورمتحرک ہو جائیں تودونوں کام ہوسکتے ہیں۔ عالمی سازشوں کامقابلہ بھی کیاجاسکتا ہے اور ملک سے جبر، ظلم ، بے حسی، خود غرضی، لالچ، حرص، بدکرداری، ضمیر فروشی، عاقبت نااندیشی، بے اصولی اور لاقانونیت کانظام بھی ختم ہوسکتا ہے۔

19 Nov 2009

No comments:

Post a Comment

Note: Only a member of this blog may post a comment.


میرا نصب العین اسلامی نظام زندگی اور اللہ تعالیٰ کی رضا کاحصول ہے اور زندگی میں کامیابی کے لئے اخلاق، دیانت ،خدمت اورجرٲت پر یقین ہے۔