اسلام آباد میں پانی

اسلام آباد میں پانی کامسئلہ

آپ اسلام آباد میں رہیں تو آپ کاسب سے بڑا مسئلہ پانی ہے۔ جی سیون ٹو کے ایک دوست گریڈ 12سے گریڈ 14میں پروموٹ ہوئے تو مبارکباد ینے گیا ۔ وہ گھر نہیں تھے۔ معلوم ہوا پانی لینے گئے ہیں۔ تھوڑانتظار کیا تو موٹر سائیکل پر گوالوں کی طرح دائیں بائیں دودھ والے کین لٹکائے آگئے اور ہنستے ہوئے کہنے لگے ۔اسلام آباد میں پانی کا سٹیٹس دودھ کے برابر ہوگیا ہے۔

سی ڈی اے کی طرف سے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں پیش کردہ رپورٹ میں تسلیم کیا گیا ہے کہ ڈیمانڈ اورسپلائی میں  پچاس فی صد فرق ہے۔اس لیے پانی کی راشننگ ہورہی ہے۔

اس وقت اسلام آباد میں تین ذرائع سے پانی آتاہے۔ سملی ڈیم، خان پور ڈیم اور شہر میں نصب ٹیوب ویلز لیکن تینوں ذرائع مل کربھی شہر کی ضرورت کے مطابق پانی فراہم نہیں کرپاتے۔ انتظامیہ کی جمع تفریق کے مطابق اسلام آباد میں روزانہ120ملین گیلن پانی کی ضرورت ہے اور اس وقت صرف 48ملین گیلن پانی حاصل اورسپلائی ہو رہا ہے ۔

سی ڈی اے کے دلائل ہیں کہ آبادی بڑھ رہی ہے۔ انڈر گراؤنڈ واٹر لیول نیچے جارہا ہے۔ شہری پانی چوری کرتے ہیں۔سی ڈی اے کے مطابق یہ سب ناقبال کنٹرول فیکٹر ہیں۔ جوصورتحال  کوبحرانی بنا رہے ہیں۔

مختار احمد بھٹی وزارت خزانہ سے ڈپٹی سیکرٹری ریٹائرڈ ہوئے ہیں۔ وہ ایک سینئر شہری کی حیثیت سے اسلام آباد کے مسائل کی بنیادیں جانتے ہیں۔ ان کاکہنا ہے کہ دنیا کاہر بڑا شہر کسی دریا کے کنارے آباد ہے ۔آج بھی نئے شہر دریا کنارے بنائے جارہے ہیں تاکہ شہر میں انڈر گراﺅنڈ واٹر لیول کم نہ ہو لیکن اسلام آباد ایک کاسمیٹک شہر ہے ۔یہ کسی دریا کنارے بنایاجاتا تو ہر گھر میں ہینڈ پمپ لگتا اورہر گھر میں بورنگ سے پانی آتا۔ان کے خیال میں اس شہر کی تعمیر میں ہی ایک خرابی کی صورت مضمر ہے۔جس کے باعث آج تک واٹر سپلائی کبھی نیوٹرل پوزیشن پرنہیں آسکی۔

اسلام آباد میں واٹر سپلائی کاایک اہم سورس ٹیوب ویلز ہیں۔ جن پرانحصارسے گراﺅنڈ لیول 70فٹ مزید کم ہوگیا ہے۔ جو ٹیوب ویلز فی منٹ پانچ سو گیلن پانی حاصل کرنے کے لیے لگائے گئے تھے ۔ وہ فی منٹ پچاس گیلن پانی بھی نہیں دے رہے ۔اس کے باوجود ٹیوب ویلز سے روزانہ 24ملین گیلن پانی لیا جارہا تھا جو کم ہوکر صرف پندرہ ملین گیلن روزانہ رہ گیا ہے۔

سی ڈی اے کاشکوہ ہے کہ شہری پانی مس یوز اورچوری کرتے ہیں۔ انہوں نے کئی شہریوں کواس جرم پرجرمانے بھی کئے ہیں لیکن   ایس ڈی پی آئی کی رپورٹ کے مطابق حاصل شدہ پانی کا 60فی صد ٹوٹے ہوئے پائپوں سے ضائع ہورہا ہے۔ سی ڈی اے کے ایک ذمہ دار نے اس رپورٹ کومبالغہ آمیز قراردیتے ہوئے رازداری سے بتایا کہ پرانے پائپوں سے صرف35فی صد پانی ضائع ہوتاہے۔ جی نائن مرکز کے حاجی عبدالقدوس کہتے ہیں کہ فجر کے لیے گھر سے نکلتا ہوں تو گلی میں ٹوٹے پائپوں سے پانی کااتنا گند ہوتا ہے کہ پاﺅں اورکپڑے ناپاک ہوجاتے ہیں۔ کبھی مسجد میں بھی پانی نہیں ہوتا۔

شہریوں کاشکوہ ہے کہ1960میں بچھائی جانے والی پائپ لائنیں ٹوٹ چکی ہیں۔ قدم قدم پر سیوریج اورواٹر لائن مل کرایک نیا مسئلہ پید اکررہی ہیں۔ کئی گھروں میں پیلے رنگ کاپانی آتا ہے۔ پانی بظاہر صاف بھی ہو تو اس میں بدبو ہوتی ہے۔

اس بحران میں سی ڈی اے نے ٹینکروں سے پانی سپلائی کرنے کی کوشش کی ۔ ہمارے ملک کانظام ایسا ہے کہ مسئلہ حل کرنے کی کوشش خود ایک مسئلہ بن جاتی ہے۔ سی ڈی اے کے پاس51 واٹر ٹینکر ہیں۔ان میں سے 15خراب اورناکارہ ہیں۔ باقی36 دن رات چل رہے ہیں۔ان میں سے10 ٹینکرزماڈل ایریاز کے لیے ہیں اورباقی26 شہر میں چلتے ہیں۔

ایک روز سی ڈی اے دفتر میں واٹر ٹینکرز موومنٹ کاریکارڈ دیکھ رہا تھا کہ روزانہ پانچ سو شہری پانی کا ٹینکر حاصل کرنے کے لیے درخواست دیتے ہیں۔ صبح سویرے بکنگ کرائی جائے اورشام تک ٹینکر آجائے تو معجزاتی خوش قسمتی ہے ورنہ کئی دن لگ سکتے ہیں۔ یہ ٹینکر مفت ملنے چاہئیں لیکن سی ڈی اے پیسے لیتی ہے۔ کبھی یہ ٹینکر 50روپے کاتھا۔ اب یہ دوڈھائی سوروپے کا ہے لیکن شکایت ہے کہ ہزار دوہزار روپے طلب کئے جارہے ہیں۔ سی ڈی اے حکام اس کی تردید کرتے ہیں۔ سی ڈی اے کے مقابلے میں پرائیویٹ ٹینکرز جلد مل جاتا ہے لیکن ریٹ کئی ہزار روپے ہے۔ اسلام آباد کے ایک ٹیچر نے حکومت سے سوال کیا ہے کہ سرکاری پے اسکیل کے مطابق مجھے اتنی تنخواہ ملتی ہے کہ روٹی کے پیسے پورے نہیں ہوتے۔ ٹینکر کہاں سے لاﺅں۔

رکن قومی اسمبلی کی حیثیت سے اسلام آباد میں پانی کامسئلہ حل کرنے کے لیے شارٹ ٹرم اورلانگ ٹرم دونوں طرح کے منصوبوں کی منظوری حاصل کی تھی ۔ شارٹ ٹرم منصوبے کے مطابق شہر میں ٹیوب ویلزکے لیے گرڈ اسٹیشنوں سے ڈائریکٹ کنکشن دینے کی تجویز پیش کی تھی تا کہ لوڈشیڈنگ سے پانی کی سپلائی متاثر نہ ہو ۔لانگ ٹرم منصوبے کے مطابق دریائے سندھ سے پانی لانے کے لیے پانچ سال کی جدوجہد کے بعد غازی بروتھا واٹر سپلائی پراجیکٹ کی منظوری حاصل کرلی تھی۔ جس سے آئندہ سو سال کے لیے اسلام آباد میں پانی کامسئلہ حل ہوجاتا ۔ یہ منصوبہ شوکت عزیز کابینہ میں پیش ہوا تھا۔ واپڈا سے مذاکرات ہوئے۔ کثیر لاگت سے فیزیبلٹی رپورٹ بنی ۔ پھر منصوبہ پلاننگ کمیشن کے پاس پہنچا لیکن یہ اس لیے فائلوں میں بند ہے کہ سرحد حکومت نے دریائے سندھ سے اسلام آبا د کوپانی دینے پر تحفظات پیش کئے ہیں ۔ یہ تحفظات دور کرکے منظورشدہ سکیم پرعمل کی ضرورت ہے تاکہ پانی کامسئلہ مستقل بنیادوں پر حل ہوسکے۔

اس کے بعد سرکاری افسران نے چراہ ڈیم کا منصوبہ پیش کیا ۔جس سے 8ملین گیلن پانی روزانہ مل سکے گا۔ ماہرین کے مطابق اسلام آباد کے گرد 6 نئے ڈیم بنائے جاسکتے ہیں۔ جن سے پانی بھی ملے گااورگراؤنڈ لیول بڑھے گا تو نئے ٹیوب ویلز بھی لگائے جاسکیں گے۔

انتظامیہ نے باتوں اوراعلانات کے شعبہ میں بہت کچھ کیاہ ے لیکن میدان عمل میں معاملات اپ گریڈیشن کی بجائے ڈاؤن گریڈیشن میں جارہے ہیں۔ گذشتہ ماہ مجموعی سپلائی 60ملین گیلن روزانہ تھی ۔اب 48ملین گیلن روزانہ ہے اور سی ڈی اے کے مطابق آئندہ ہفتے 46ملین گیلن روزانہ رہ جائے گی۔ ایک آفیسر اپنے دفتر میں ہرآنے والے کومشورہ دیتے ہیں کہ یہ آزمائیش کاوقت ہے۔اس لیے گاڑی دھوکر پانی ضائع نہ کریں۔

 ادارہ موسمیات کے مطابق اس سال ڈرائی میں اضافہ سے بارشوں میں 30فی صد کمی ہوگی۔اسلام آباد ایک تعمیر ہوتا اورپھیلتا ہوا شہر ہے ۔ یہاں عالمی معیار کے فائیوسٹار ہوٹلز اورآسمان سے چھوتی عمارتیں زیر تعمیر ہیں۔دس نئے سیکٹروں کاآغاز ہورہا ہے۔ ابھی یہ شہر آدھا تعمیر ہوا ہے اور پانی کی سپلائی کم ہوتی جارہی ہے ۔ آئندہ چند سال میں آبادی اورسیکٹروں کی تعداد بڑھے گی تو پانی کہاں سے ملے گا؟
..........

یکم فروری 2010





حالات حاضرہ

ملک پر دہشت کی حکمرانی ہے۔ سڑکوں پر خوف کے سائے ہیں۔ ہرقدم پر مورچے،ناکے اوربندوقیں ہیں۔ سرکاری عمارتوں کے گردریت کی بوریاں اور خاردار تاریں ہیں۔ ہرطرف میدان جنگ کا نقشہ ہے ۔ پشاور کے ہسپتال زخمیوں سے بھر چکے ہیں۔ مرکزی شہروں میں تعلیمی ادارے بند ہیں۔ جو کھلے ہیں ،ان میں طلبہ وطالبات کی حاضری کم ہے۔ مائیں بچوں کوسکول بھیجنے سے ڈرتی ہیں۔

حکومت سہمے ہوئے عوام کو تسلی دے رہی ہے کہ یہ دہشت گردی کے بجھتے چراغ کی آخری ٹمٹماہٹ ہے ۔اخبارات کے صفحات اورٹی وی سکرین پر نظر ڈالیں توحکمرانوں کا اپناچراغ کسی روشنی سے محروم ہے۔ پارلیمنٹ بے بسی اوربے عملی کی تصویر ہے۔ صدر مملکت اپنی تنہائی کے سامنے بے بس ہیں۔ عوام چینی ، آٹے، بجلی، گیس کے بحران کے سامنے بے بس ہیں۔وزیرستا ن میں فوجی جوان شہادتیں پیش کررہے ہیں۔اس صورتحال نے عوام کے ذہن پر شدید اثر ڈالا ہے۔

ہر محفل میں عوام یہی سوال کرتے ہیں کہ حکومت کی رٹ کہاں ہے؟ہم خارجی اورداخلی دونوں محاذوں پر پٹ رہے ہیں۔امریکہ اپنی من مانی کررہا ہے اور دہشت گرد بھی ہماری جان لے رہے ہیں۔ ایک عرصہ ہوگیا ہے کہ ہم لاشیں گننے میں مصروف ہیں۔

ہر دھماکے کے بعد حکومت کی انگلی اپنے ہی ملک کے ایک حصے وزیرستان کی طرف اٹھتی ہے ۔ کسی اورکی طرف کیوں نہیں اٹھتی۔ حکومت بھارتی جاسوس گرفتار کرتی ہے اورپھر خاموش ہوجاتی ہے۔ سوات میں غیر مسلم دہشت گردوں کی برہنہ لاشیں دیکھ کربھی وزارت داخلہ فریب نظر میں ہے۔ کیاہم ان غلاموں کی طرح ہیں ۔جو صرف وہی بول سکتے ہیں جو آقا چاہتاہے۔

حکومت بے بس اورناکام ہے تو اپوزیشن کیا کررہی ہے۔ اپوزیشن بھی وہی کررہی ہے جو حکومت کررہی ہے۔ سید منور حسن صاحب کاکہنا ہے کہ دونوں ایک ہیں۔ایک باری لگا رہا ہے اوردوسراسرجھکائے منتظر ہے۔

دونوں جماعتیں امریکہ کے سامنے ڈھیر ہیں۔90فی صد عوام امریکی پالیسیوں کے خلاف ہیں۔ دونوں جماعتوں کا اپناووٹ بنک حیران اورپریشان ہے کہ کسے وکیل کریں اورکس سے منصفی چاہیں۔

سوال یہ ہے کہ حکومت اوراپوزیشن دونوں کاگراف نیچے جائے گا تو کس کاگراف اوپر جائے گا۔ موجودہ حالات میں ایک نئی سیاسی قوت کے آنے کے امکانات بڑھتے جارہے ہیں۔ میڈیا صدر زرداری کے جانے پر ڈبیٹ کررہاہے ۔ تجزیہ نگار حساب لگا رہے ہیں کہ فوج کے اقتدار سنبھالنے کے کتنے امکانات ہیں۔ ہمار ا خیال ہے کہ زیرو۔ فوج کاادارہ حالات کی پیچیدگی سے بے خبر نہیں ہوسکتا۔

امریکہ نے صدر زرداری سے بھی  ڈو مور     کامطالبہ کیا ہے۔ صدر مشرف چلے گئے لیکن ان کی ہر پالیسی جاری ہے۔ جس کے مطابق ہماری حکومت ملک دشمنوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کی بجائے دشمنوں کی خوشامد کررہی ہے ۔ اس پیش گوئی کے لیے کسی نجومی کی ضرورت نہیں ہے کہ صدر زرادری بھی صدر مشرف کے راستے پر چلیں گے تو اسی منزل پر پہنچیں گے۔

صدرزرداری کاخیال ہے کہ جمہوریت اور حکومت کے خلاف سازش ہورہی ہے۔ لیکن اس وقت مسئلہ یہ نہیں ہے کہ حکومت کون کرے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ ملک کیسے بچایا جائے۔عوام کی جان کیسے بچائی جائے۔ حکومت سے زیادہ ریاست کی سلامتی خطرے میں نظر آتی ہے۔ صوبہ سرحد میں نا ن سٹاپ دھماکے کرنے والے ریاست کی ناکامی چاہتے ہیں۔

قومی ذرائع ابلاغ مسلسل خبریں دے رہے ہیں کہ دشمن ہمیں گھیر رہے ہیں۔ افغانستان، بھارت اوراسرائیل کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے۔ پاک افغان سرحد پر امریکہ اور نیٹو نے اپنی چوکیاں پیچھے ہٹا کرطالبان کی آڑ میں را  اور موساد کے ایجنٹ پاکستان میں داخل کردئے ہیں۔

خارجی محاذ پر دشمن ہمیں گھیر نا چاہتے ہیں تو داخلی محاذ پر ہمارے حکمران اپنے عوام کوہرطرح کاعذاب دے کردشمن کا کام آسان بنا رہے ہیں۔ بجلی، گیس، آٹا، چینی سمیت ہر طرح کا بحران پیدا کرکے عوام کوحواس باختہ کیاجارہا ہے۔اس صورتحال میں حکمرانوں سے کیا مطالبہ کیا جائے۔ ان کے پاس کوئی حل ہوتا تو اس ڈیڑھ سال میں ملک وقوم کوفائدہ ہوتا۔عوام دیکھ رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی کی حکومت سے ملک سنبھالا نہیںجارہا۔

جماعت اسلامی کی تمام توقعات عوام سے وابستہ ہیں۔ عوام منظم اورمتحرک ہو جائیں تودونوں کام ہوسکتے ہیں۔ عالمی سازشوں کامقابلہ بھی کیاجاسکتا ہے اور ملک سے جبر، ظلم ، بے حسی، خود غرضی، لالچ، حرص، بدکرداری، ضمیر فروشی، عاقبت نااندیشی، بے اصولی اور لاقانونیت کانظام بھی ختم ہوسکتا ہے۔

19 Nov 2009

این آر او

این آر او

عوام نے عدلیہ کی بحالی اورآزادی کے لیے جو تحریک چلائی تھی ۔وہ ثمر آور ثابت ہوئے ہے۔آج  این آر او  اور آئین کافرق ہمارے سامنے آگیا ہے۔ قومی مفاہمت کے نام پر صدارتی آرڈیننس نے مجرموں کو وی آئی پی بنا دیا لیکن آئین نے مجرموں کوسزا دے کرجیل بھیجنے کاتقاضا کیاہے ۔
پاکستان میں قومی زوال کی کیفیت پر ایک حدیث پاک کاحوالہ دیاجاتا ہے کہ پرانی قومیں اس لیے تباہ ہوئیں کہ ان کے بڑے لوگ جرم کرتے تو انہیں چھوڑدیاجاتا اورچھوٹے لوگ جرم کرتے تو انہیں سزا ملتی لیکن پاکستان کے حالات پرانی قوموں سے بھی گئے گذرے ہیں۔ جھنگی سیداں کے معروف سماجی کارکن سید تنویر حسین شاہ کا کہنا ہے کہ ہمارے ملک میں جوجرم کرے اس سے مک مکا کیا جاتا ہے اورجو کوئی جرم نہ کرسکے اسے جیل بھیج دیا جاتا ہے۔ شیخ رشید احمد جب وفاقی وزیر تھے تو انہوں نے اپنی معلومات کی بنیاد پر کہا تھا کہ اڈیالہ جیل کے 90فی صد قیدی بے گناہ ہیں۔
یہ کیسا نظام ہے کہ بڑے لوگوں کی عزت واہمیت میں بڑے بڑے جرائم سے اضافہ ہوتا ہے۔ ان کی گاڑیوں کے آگے ہوٹر بجائے جاتے ہیں۔ پولیس سیلوٹ پیش کرتی ہے۔انہیں بربنائے عہدہ قیمتی گاڑیاں، خوراک اوررہائش کی سہولتیں مفت ملتی ہیں۔ کیایہ وہی سسٹم ہے ،جسے بچانے کے لیے صدر،وزیر اعظم اور اپوزیشن رہنماءیک زبان کہتے ہیں کہ ہم ہرقیمت پر سسٹم بچائیں گے۔
اس سسٹم سے فائدہ اٹھانے والے ہرقیمت پر یہ سسٹم بچانا چاہتے ہیں کیونکہ اس سسٹم میں تمام وسائل حکمران طبقہ کے لیے اورتمام مسائل غریبوں کے لیے ہیں۔ اسی لیے اس سسٹم نے ایسی شخصیات اورپارٹیاں پیدا کردی ہیں۔جو ہرقیمت پر ہرحکومت کاحصہ رہنا چاہتے ہیں۔
غیر ملکی اخبارات کے مطابق پاکستان کی اشرافیہ کے بیرون ملک اربوں ڈالرز کے اکاﺅنٹس ہیں۔اس طبقے کی سوچ قومی اورمقامی نہیں ہے ۔ اس لیے ان کی وفاداریاں بھی بیرون ملک ہیں۔ دولت ، جائیداد، رہائش ، علاج معالجہ اور ریٹائرمنٹ کی زندگی گذارنے کااہتمام بھی بیرون ملک ہوتا ہے۔
بدقسمتی سے یہ کرپٹ لوگ کسی ایک سیاسی پارٹی تک محدود نہیں ہیں۔ این آر او کے بعد قرضے معاف کرنے والوں کی فہرست بھی آ گئی تو معلوم ہوگا کہ اس سیاسی حمام میں کسی کے پاس لباس نہیں ہے۔
اس صورتحال میں جماعت اسلامی کاموقف ہمیشہ یہی رہا ہے کہ جمہوریت جیسی بھی ہو اسے چلنے دیا جائے تاکہ ان رہنماﺅں کے اصل چہرے پوری طرح قوم کے سامنے بے نقاب ہوجائیں اور یہ قوم کومزید دھوکہ نہ دے سکیں۔
ہمارے عوام کی اکثریت ناخواندہ ہے لیکن ہمارے عوام جاہل نہیں ہیں۔عوام کی اکثریت اسلامی احکامات، اسلامی معاشرے کے اصو ل ضوابط اور اسلامی روایات کاعلم رکھتی ہے۔ ہمارے عوام کے دل ودماغ میں ایک ایسے پیکر اخلاص اور عظیم الشان رہنماءکی مثال ہے جس کے پیٹ پر بھوک کی وجہ سے دوپتھر بندھے ہوتے ہیں۔ ایسے حکمران کی مثا ل بھی ہے جو دریا کنارے بھوک سے مرنے والے جانور کو اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے۔ عوام جانتے ہیں کہ یہ کتابی باتیں نہیں ہیں۔ یہ اسلامی نظام زندگی کی عملی مثالیں ہیں کہ سربراہ مملکت اپنے غلام کے اونٹ کی نکیل پکڑ کے چلتا ہے اور جسٹس کا معیار یہ ہے کہ جج اپنے بیٹے کوبھی سزادیتا ہے۔
پاکستان ایک اسلامی ملک ہے ، عوام بھی مسلمان ہیں اور اسلام کے مطابق ایک آئین بھی موجود ہے لیکن یہاں کوئی حکومت آئین پر عمل کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ہماراحکمران طبقہ آئین پر عمل کی بجائے ماورائے آئین زندگی گذارنے کاعادی ہے۔ ابھی ایک این آر او سامنے آیا ہے۔ پاکستان کی 62سال کی تاریخ میں قدم قدم پر این آر او ہیں۔ ہمارے حکمران طبقے نے 62سال میں ایک دن کے لیے بھی عوام سے انصاف نہیں کیا۔۔ جس کے نتیجے میں عوام کی اکثریت مہنگائی، بے روزگاری اورغربت کی مار کھارہی ہے۔ پاکستان میں وسائل کی کمی نہیں ہے لیکن ہمارے کسانوں کے گھر میں آٹا نہیں ہے۔ دن بھر مزدوری کرنے والے کے پاس بچوں کی فیس کے لیے پیسہ نہیں ہے۔آئین پرعمل کیا جاتا تو انصاف کے ساتھ ہر شہری کو عزت سے روٹی ،پانی، رہائش، علاج ،تعلیم اور رائے کی آزادی کاحق مل جاتا ۔ آئین پرعمل نہ کیا جائے تو پھر جنگل کاقانون ہے۔ جس میں صرف درندوں کی مرضی چلتی ہے۔ جیسے ہمارے معاشرے میں ایک محدود طبقہ وسائل لوٹ کر عیش وعشرت کی زندگی گزار رہا ہے ۔ یہ اپنی دولت اورطاقت سے پوری قوم کویرغمال بناکرخود کوشیر خیال کرتے ہیں اورعوام کوبھیڑیں سمجھ کران کاخون پیتے ہیں۔
این آر او کا پردہ اٹھنے کے بعد مجرموں کی نشاندہی ہوگئی ہے۔ ابھی سزا کامرحلہ باقی ہے۔ جن لوگوں پر کرپشن ،بوری بند لاشوں ،قتل ،زنا، کرپشن اور اغواءکے مقدمات ہیں۔ انہیں اب پارلیمینٹ کی بجائے عدالت کارخ کرنا ہوگا۔
جماعت اسلامی نے عوام کی ترجمانی کرتے ہوئے این آر او زدگان سے مستعفی ہونے کامطالبہ کیا ہے۔ حکومت مستعفی ہویا نہ ہو۔ اس کی ساکھ زیرو ہوچکی ہے۔ پاکستان کی جگہ کوئی دوسرا ملک ہوتا تو اب تک کئی وزراء شرم کے مارے خودکشی کرچکے ہوتے ۔ یہاں لوٹ مارگروپ کواپنی رسوائی کی پراوہ نہیں ہے لیکن میڈیا نے عوام کو باخبر اور باشعور بنادیا ہے۔ آزاد میڈیا اورآزاد عدلیہ کی موجودگی میں مجرموں کے معصوم بننے کاسلسلہ ختم ہوسکتا ہے اورہم ایک نئے سفر کاآغاز کرسکتے ہیں۔

٭٭٭
دسمبر 17 ، 2009

کیری لوگر بل

قوم نے اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دے دیا
جماعت اسلامی نے امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ کے دورہ پاکستان سے پانچ روز قبل کیری لوگر بل اور امریکی پالیسیوں پر ملک گیر عوامی ریفرنڈم کرایا۔ اس ریفرنڈم کے نتائج نے ثابت کردیا کہ ہماری قوم زندہ ہے۔ بیلٹ پیپر میں عوام کوہاں یا نہ دونوں کااختیار تھا۔ ملک بھر سے ووٹ کاسٹ کرنے والے99فی صد عوام نے کیری لوگر بل مسترد کرنے کا فیصلہ کیا۔
اپنی رائے کے اظہار کے لیے ملک بھر سے2کروڑ 19لاکھ 79ہزار2سو87 مرد و خواتین نے ووٹ ڈالے۔ کیری لوگر بل کے حق میں ایک لاکھ 37 ہزار9سو43 اورمخالفت میں 2کروڑ 17لاکھ61ہزار6سو91ووٹ آئے۔
یہ ریفرنڈم جماعت اسلامی کی جمہوری روایات کا آئینہ تھا جو قومی تاریخ کاحصہ بن گیا ہے۔ جب کسی فورم پر پاکستان میں امریکی پالیسیوں کی مقبولیت یا مخالفت کی بات ہوگی ۔اس ریفرنڈم کاحوالہ ضرور دیا جائے گا۔
اسی حوالے سے امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ نے اسلام آباد میں کہا کہ مجھے احساس ہے کہ پاکستانی عوام اور امریکہ  کے درمیان  غلط فہمیاں ہیں ۔ اس لیے میں غلط فہمیاں دور کرنے آئی ہوں۔ اس کے جواب میں ایک صحافی نے واضح کیا کہ بات غلط فہمیوں کی نہیں ہے ، پالیسیوں کی ہے۔
یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ امداد دینے والے اپنی پالیسی اور مفاد کے لیے اپنی شرائط پر امداددیتے ہیں۔اس سے پہلے بھی امریکہ کے امدادی بل آتے رہے ہیں۔ ان میں کوئی بل شرائط کے بغیر نہیں تھا۔ لیکن امریکی سینیٹروں جان کیری اور رچرڈ لوگر کے پیش کردہ بل کی شرائط نے پاکستان کے سیاسی منظر میں ہلچل مچا دی ہے ۔
یہ بل ایک کھلا دھوکہ ہے۔ جسے قبول کرنے کا مطلب دشمنوں کے تمام الزامات قبول کرنا ہے۔ یہ بل کہتا ہے کہ پاکستانی فوج اورایجنسیاں سرحد پار دہشت گردتنظیموں کی مدد کرتی ہیں۔ یہ ایک بے بنیاد الزام ہے جو بل منظور ہونے کے بعد تسلیم شدہ جرم بن جائے گا۔
اس بل میں بھارت کایہ الزام بھی شامل ہے کہ جماعت الدعوہ کاتعلق القاعدہ سے ہے اوریہ تنظیم بھارت اورکشمیر میں دہشت گردی کررہی ہے۔ یہ بل منظور ہونے کے بعد بھارت کوتحفظ مل جائے گااور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے تمام مظالم دہشت گردی کے خلاف جنگ قرار پائیں گے ۔
اس بل میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے کئی علاقوں میں پاکستان کی عملداری نہیں ہے۔ یہ بل پاس ہو گیا تو کوئی بھی ملک ان علاقوں میں سرجیکل سٹرائیک کرسکے گا اور پاکستان کو اس پر اعتراض نہیں ہوگا کہ بل کے مطابق یہ علاقے پاکستان کی عملداری سے باہر ہیں۔
اس بل کاخلاصہ ہے کہ ڈیڑھ ارب ڈالرسالانہ کے عوض یہ پاک فوج پر بالادستی چاہتا ہے۔ امریکی فوج کو پاکستان میں مداخلت کا قانونی جواز فراہم کرتا ہے۔ پاکستان کو ایٹمی پھیلاﺅ کامجرم کہتاہے۔ کشمیری مجاہدین کی جدوجہد آزادی کو دہشت گردی بناتاہے۔ مریدکے اوربلوچستان میں آپریشن اور کوئٹہ پرڈرون حملے ضروری قراردیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فوجی قیادت نے یہ بل مسترد کردیا ہے اور عوام کی طرح میڈیا کی اکثریت اس بل کی مخالفت میں بول رہی ہے۔
سید منور حسن کے بقول یہ بل ہمارے ماتھے پر کلنک کاٹیکہ،پاؤں کی بیڑیاں اورہاتھوں کی ہتھکڑیاں بن جائے گا۔ایک انگریزی اخبار کے ایڈیٹر کے مطابق اس بل کامقصد پاکستان کی سلامتی کی ذمہ داری پاک فوج سے چھین کربھارت اورامریکہ کے حوالے کرنا ہے۔ ہماری حکومت یہ سب کچھ جانتی ہے لیکن وہ تالیاں بجانے میں مصروف ہے۔
جماعت اسلامی کے ریفرنڈم کامقصد دنیا کویہ بتانا تھا کہ پاکستانی عوام کیا سوچتے اور کیا چاہتے ہیں۔ جماعت اسلامی نے پیپلز پارٹی اورمسلم لیگ سمیت تمام جماعتوں کے کارکنوں کوریفرنڈم میں ووٹ ڈالنے کی دعوت دی تھی۔ جس کے ردعمل میں دونوں جماعتوں نے کیری لوگر بل کے حق میں بیانات دے کر امریکہ کوخوش کرنے کی کوشش کی۔ پیپلز پارٹی کا موقف سمجھ میں آتا ہے لیکن مسلم لیگ ن کاموقف نیرنگی سیاست دوراں کانمونہ ہے۔ایک دوست کا کہنا ہے کہ اب سمجھ میں آیا ہے کہ فرینڈلی اپوزیشن کیا ہوتی ہے۔ حکومت اوراپوزیشن دونوں ایک کشتی میں سوار امریکی مفادات کے بھنور میں ہیں۔ جوسب کچھ جانتے ہوئے بھی کچھ نہیں جانتے۔اس وقت قومی عزت زندہ رکھنا ایک بہت بڑی خدمت ہے اوراس خدمت پر جماعت اسلامی کے کارکن شاباش کے مستحق ہیں۔
   2009,روزنامہ نوائے وقت اسلام آباد۔ نومبر5

ہلال عید ہنسی اڑاتا رہا

عید خوشی اور محبت کا دن ہے۔
میٹھی عید سے ہرچیز میں مٹھاس آجاتی ہے۔
ہرچہرے پر ایک ہی رنگ،مسکراہٹ، خوشیاں اورعید مبارک۔
کھلے میدانوں میں نماز کے اجتماعات ہماری یکجہتی اورقوت ظاہر کرتے ہیں۔
ہمیں سبق ملتا ہے کہ اسلامی معاشرے کی روایت مل جل کرخوشیاں منانا ہے۔
نئے لباس، کھانے پینے کا اہتمام،غریبوں کی امداد، بچوں کے لیے عیدی، خاندان کے سب افراد کااکٹھے ہونا، گلی محلے اورعزیزوں سے ملاقاتیں،کیک ،مٹھائی اورکھانے کی چیزیں بھیجنا، کہا سنا معاف کرنا، ناراض دوستوں کومنانا ،بچوں کے ہمراہ سیر کے لیے جانا، ایک دن کی تقریبات تین دن تک پھیل جاتی ہیں۔

جب سے پاکستان بنا ہے ہم63 عیدیں منا چکے ہیں۔ لیکن موجودہ حالات میں لوگ خوشی کیسے منائیں گے ۔ جناح سپر سے راجہ بازار تک دکانداروں کا شکوہ ہے کہ عید پھیکی جارہی ہے۔ اس بار شاپنگ کا وہ روائیتی زور نہیں ہے۔

عید کی تیاریوں پر ایک سرکاری ملازم کی گفتگو بہت طویل اور دردبھری تھی۔اس کاکہنا تھاکہ "جس شخص کی جیب خالی ہو ،اس کے لیے عید پرخوش ہونا بہت مشکل ہے۔اگرچہ ماہ رمضان تنگدستی میں گزرا پھر بھی میرے گھر میں یہ برکتوں کامہینہ تھا کہ بیٹی اوربیٹا اچھے نمبروں سے پاس ہوئے۔ بیٹے نے الیکٹریکل سائنس کے لیے اردو یونیورسٹی میں داخلہ لیا توجو کچھ گھر میں تھا ،سب جمع کرکے فیس ادا کی۔ اب بیٹی نے ایم اے فزکس میں داخلہ لیا ہے۔ پڑوسیوں سے پیسے ادھار لے کرفیس پوری کی ہے۔ بچوں کی تعلیم پر خوش ہوں لیکن قرض سے پریشان ہوں۔حال اس بڑھیا جیسا ہوگیا ہے جس کی ایک آنکھ روتی ہے، دوسری "ہنستی ہے۔   
وہ اپنی پریشانی کے اظہار میں بولتا جارہا تھا کہ " ڈیوٹی پوری محنت سے کرتا ہوں لیکن تنخواہ اتنی ہے کہ گذارہ نہیں ہوتا۔ ہر آنے والا دن گذرے ہوئے دن سے زیادہ مشکل ہورہا ہے۔ پہلے پہل مہینے کے شروع میں دن اچھے گذرتے تھے۔ صرف آخری دنوں میں پریشان ہوتی تھی۔اب مہینے کے آغاز ہی میں تنخواہ ختم اورپریشانی شروع ہوجاتی ہے۔ جس کے نتیجے میں ہم میاں بیوی ذہنی مریضوں بن رہے ہیں۔ شوگر بھی ہوگئی ہے۔ بلڈ پریشر بھی ہائی رہتا ہے۔ نیندکی گولیاں بھی مہنگی ہورہی ہیں۔ دوچھوٹے بچے ابھی چھوٹی "کلاسز میں ہیں لیکن وہ اپنی عمر سے بڑے سوال کرنے لگے ہیں۔جن کاجواب ہمارے پاس نہیں ہے۔

یہ ایک سرکاری ملازم کا نوحہ نہیں ہے۔ پوری قوم بین کررہی ہے لیکن کوئی سننے والا نہیں ہے۔ اسلام آباد میں ایک شاہ صاحب کا تصوف سے لگاؤہے۔ وہ سب کے لیے دعا کرتے ہیں۔ ہرسائل کویقین دلاتے ہیں کہ آپ کی فریادیں سننے والا اوپر موجود ہے۔ وہ لوگوں کوصبراور قناعت کی تلقین کرتے ہیں اوراچھے وقت کاانتظار کرنے کے لیے کہتے ہیں لیکن بھوکے پیٹ انتظار کرنے والی کراچی کی کتنی خواتین آٹے کے لیے ہاتھ پھیلاتے ہوئے رزق ِخاک ہوگئیں۔ اس گلوبل ویلیج کے زمانے میں ٹی وی سکرین پرہمارے ملک کا یہ حال دیکھ کردنیا ہمارے اورہمارے حکمرانوں کے بارے میں کیا سوچتی ہوگی۔ منو بھائی کی نظم یاد آتی ہے۔جس میں وہ حیران ہوکرسوال کرتے ہیں کہ قیامت ابھی نہیں آئی؟
یہ قیامت کی نشانیاں ہیں کہ پاکستان میں لوگ زندگی پر موت کوترجیح دینے لگے ہیں۔ اخبار میں خبر آتی ہے کہ مامتا نے غربت سے تنگ آکر بچے نہر میں پھینک دیے ہیں تو پوری خبر پڑھنے سے پہلے آنکھیں آنسوؤں سے دھندلا جاتی ہے۔محسوس ہوتا ہے کہ آج قیامت کادن ہے۔
ہمیں اس بات کاجائزہ لینا ہوگا کہ ہماری یہ حالت کیوں ہوگئی ہے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث مبارکہ ہے کہ چاند رات" لیلة الجائزہ" ہوتی ہے۔ علماءفرماتے ہیں کہ اس رات اپنی کارکردگی کا سالانہ تنقیدی جائزہ لینا چاہئے۔ کچھ عرصہ قبل تہران کے ایک سمینار میں شرکت کاموقع ملاتھا۔ وہاں ایک بزرگ نے اپنے مقالہ میں کہا کہ" ماہ رمضان اورعید کاسب سے بڑا درس خودسازی ہے کہ انسان اپنے کردار اوررفتار پر تنقیدی نظر ڈالے۔ اپنے عیوب واضح طور پر باریک بینی سے دیکھے۔ یہ وہ کام ہے جو کوئی دوسرا نہیں "کرسکتا،صرف ہم خود ہی کرسکتے ہیں۔
اس مقالے کامخاطب حکمران اورعوام دونوں تھے۔

جہلم کے ایک بہت بڑے عالم دین بیرون ملک یونی ورسٹی میں پڑھاتے ہیں۔ اپنے ملک اورعوام کے بارے میں ان کاموقف بہت سخت ہے۔ وہ چارباتیں فرماتے ہیں کہ
  ہم نے دین کومساجد اور خانقاہوں تک محدود کرلیا ہے۔جس کی وجہ سے ہماری انفرادی زندگی کسی حد تک دین پر اوراجتماعی زندگی مکمل طور پر حالات کے رحم وکرم پر ہے۔
  ہماری تجارت کی بنیاد خدمت کی بجائے منافع پر ہے۔ جس کی وجہ سے غربت بڑھ رہی ہے۔
  سیاست کی بنیاد انصاف اورخیر خواہی کی بجائے کرپشن اورچالاکی پر ہے۔جس کی وجہ سے ملک پر کرپٹ اور چالاک لوگوں کاقبضہ ہوگیا ہے اور ہرطرف ناانصافی کا دوردورہ ہے۔
  چونکہ کرپٹ حکمران بزدل اورخوشامدی ہوتے ہیں۔ اس لیے ہماری قومی پالیسیاں بزدلی اورکاسہ لیسی پر مبنی ہیں۔
ایک بار ان سے شکوہ کیا کہ آپ ہمیشہ مایوسی کی بات کیوں کرتے ہیں۔ تو انہوں نے فرمایا کہ پاکستان کی ضرورت ایسے حکمران ہیں جو عوام میں سے ہوں اورعوام کی طرح ہوں۔ جس دن ایسا ہوجائے گا۔ وہ ہماری عید کادن ہوگا۔ ہم مایوسی کی بات نہیں کرتے۔ ہم درپیش صورتحال کی بات کرتے ہیں۔ سارے مسائل کی جڑ یہ ہے کہ ہم میں عمل کا فقدان ہے۔ا گر ہم اپنی غربت، مسائل اوربے سروسامانی کے باوجود اللہ کی راہ میں نکل کھڑے ہوں اور اپنے اور ملک کے حالات بدلنے کی کوشش کریں تو پھر علامہ اقبال نےفرمایا ہے کہ ہم فضائے بدر پیدا کریں تو آج بھی ہماری نصرت کے لیے فرشتے قطاریں بنا کراتریں گے۔ ورنہ عید آئے گی اورہماری غربت ،بے بسی اوربے حسی دیکھ کر ہلال ِعید ہماری ہنسی اڑائے گا۔

پیام عیش وعشرت ہمیں سناتا ہے

ہلالِ عید  ہماری ہنسی  اُڑاتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
24 Sep 2009

یہ زمین مادروطن ہے اسے غیروں کے ہاتھ نہ بیچو

  19 sep2009
نوائے وقت اسلام آباد
یہ زمین،    مادر وطن ہے،    اسے غیروں کے ہاتھ نہ بیچو

ایک نیا کھیل شروع ہوگیاہے ۔
پاکستان کی پانچ  لاکھ ایکڑ زمین فروخت کی جارہی ہے۔ یہ ہانگ کانگ کے کل رقبہ سے دگنی ہوگی۔
 دوسرے لفظوں میں ہم پاکستان کے اندر ہانگ کانگ سائز کے دوملک فروخت کرنے والے ہیں۔ اس زمین کاخریدار ایک مسلم دوست ملک ہے۔عید کے بعد معاہدے پر دستخط ہوں گے۔ دوست ملک اس زمین کی حفاظت کے لیے اپنی سپیشل سیکورٹی فورس لائے گا۔ اس کے لیے وہ پاکستا ن کے چاروں صوبوں میں زمین خریدناچاہتا ہے۔



اس وقت دنیا میں فوڈ اورانرجی کرائسس ہے اور انسانی خوراک کابنیادی ذریعہ زراعت ہے ۔ جس سے امیر ملکوں کے ہاتھوں زرعی ممالک کی شامت آ گئی ہے۔ہ ونا تو یہ چاہئے تھا کہ پیداوار بڑھانے میں زرعی ملکوں کی مدد کی جاتی لیکن دنیا بہت میٹریلائز ہوگئی ہے۔ بڑے ملکوں کی ایگری بزنس کمپنیوں کی پالیسی پیداوار بڑھانے کی بجائے زمین خریدنا ہے۔



پاکستانی وزارت زراعت کے ریجنل ڈائریکٹر توقیر احمد فائق نے میڈیا میں وضاحت کی ہے کہ ہم یہ زمین 99سال کی لیز پر دیں گے۔عید کے بعد غیر ملکی وفد زمین دیکھنے آئے گا اور ڈیل فائنل ہوگی۔ وزارت زراعت کے مطابق اس کے علاوہ بھی کئی ملکوں نے زمین خریدنے کی پیش کش کی ہے ۔ جس پر غور ہورہا ہے۔اقوام متحدہ نے زمین کی اتنی بڑی فروخت کواہمیت دیتے ہوئے ایک بیان میں کہا ہے کہ امیر ممالک کوزمین فروخت کرنے والے اپنے کسانوں کے حقوق کاخیال رکھیں۔



اس سودے پر ہماری حکومت بہت خوش ہے کہ پاکستان کوایک بڑی رقم اورپاکستانیوں کو روزگار ملے گا۔ایک سرکاری افسر خوشی سے چلا رہا تھا کہ ہم روزگار کے لیے وہاں جاتے تھے ۔اب وہ یہاں آرہے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کون آرہاہے۔ کیا صرف دوست یا ان کے پردے میں کوئی اورہے۔ اس معاہدے میں زمین کا سیکورٹی سسٹم شامل ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ ہمارے دوست کی صنعت وتجارت اورسیکورٹی کے ٹھیکے ایک عالمی طاقت کے پاس ہیں۔
عالمی طاقتوں کی دوستی اور دشمنی کی منزل ان کے مفادات ہیں۔ وہ انسانی حقوق کا منشورا یک طرف رکھ کر کسی پر آگ برساتے ہیں اور کسی کوشاہی تحت پربٹھاتے ہیں۔



ایک صحافی کاتجزیہ ہے کہ اسلام آ باد میں 56ایکٹر کاسفارتی قلعہ، ملحقہ سیکٹروں میں2سو مکانات، تربیلا،کراچی اورپشاور کے نوگوایریاز ، بلیک واٹرز کی بھرتی، پشاور میں امریکی فوجی ہیڈکوارٹر کے لیے فائیو سٹار ہوٹل کی خریداری اور چاروں صوبوں میں زرعی زمین کی لیز سے آٹے اورچینی کے لیے لائن لگوانے تک ایک ہی تھیوری کام کررہی ہے کہ جوملک اپنے عوام کوآٹے اورچینی کے لیے ڈنڈے ماررہاہے وہ اپنے ایٹمی اثاثوں کی حفاظت کیسے کرے گا۔ان کے خیال میں زمین کی فروخت بہت بڑی غلطی ہوگی۔ یہ ٹیک اوور جیسامعاہدہ ہے ۔اگر زمین بیچنا اچھا ہے تو ہمارا دوست ملک بھی اپنی کچھ زمین ہمیں فروخت کرے۔



ہماری زرعی زمین میں اتنی کشش ہے کہ خریداروں کارش لگ گیا ہے تو اس زمین پر ہم خود بہترکاشتکاری کیوں نہیں کرسکتے۔ زراعت شروع دن سے ایک سائنس اورآرٹ ہے۔ دنیاکے 42فی صد مزدوروں ک اتعلق زراعت سے ہے۔ ہماری آدھی سے زیادہ آبادی نسل در نسل زرعی سائنس اورآرٹ کی ماہر ہے۔ ان میں عورتیں اورمرد دونوں شامل ہیں۔ پنجاب میں کھیتی باڑی ایک فیملی ورک، روایت اورثقافت ہے لیکن زرعی زوال کے باعث ہمارے کسان شہروں میں کلرک اور قاصد کی نوکریاں تلاش کرتے ہیں۔



پاکستان کے ابتدائی دور میں قومی آمدنی میں زراعت کاحصہ پچاس فی صد تھا جو اب صرف بیس فی صد ہے۔اس کے باوجود پاکستان کی پیداوار پورے براعظم افریقہ سے زیادہ ہے اورہمارا آبپاشی کانظام روس سے تین گنا بڑا ہے ۔اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان زرعی پیداوار کے ٹاپ ٹین ممالک میں شامل ہے ۔ جن اشیاء میں ہم عالمی نمبر1 سے ٹاپ 10 تک کی پوزیشن میں ہیں ۔ان میں تازہ دودھ، سفیدچنا، کاٹن، پیاز، مصالحے، کھجور، مرچ، گنا، دالیں، گندم، سبزیاں، خوبانی، مالٹے ،آم، ڈرائی فروٹ، کسٹرآئل اورتمباکو جیسی قیمتی فصلیں ہیں ۔ ایگری مارکیٹ میں پیداوار سے زیادہ کوالٹی کی قیمت ہے۔ زرعی کوالٹی میں بھارت اورپاکستان دونوں نمبر ون ہیں۔



 ماہرین کے مطابق پاکستان کے پاس دنیا کی بہترین زرعی زمین ہے ۔ جسے انگریزوں نے سونے کی چڑیا کہا  اوریہاں سب سے زیادہ انویسٹمنٹ زراعت پرکی ۔ پنجاب میں نہری نظام بنایا اورفصلیں برطانیہ لے جانے کے لیے ریلوے برانچ لائنوں کاجال بچھایا اور پنجاب کواناج گھر کانام دیا۔ قدیم کہاوت ہے کہ پنجاب سے آدھی دنیا کی غذائی ضروریات پوری ہوسکتی ہیں۔



ایک ذاتی تجربہ ہے کہ جب زراعت میں ایم ایس سی کرنے کے بعد ایک بڑے قومی زرعی فارم میں سرکاری افسر کی حیثیت سے ملک وقوم کی خدمت کاموقع ملا تو اس فارم میں کم پانی اورکم وقت میں زیادہ پروڈکشن کا کامیاب تجربہ کیا۔ اس ماڈرن پریکٹس سے اتنی پروڈکشن ہوئی کہ غیر ملکی ماہرین پریشان ہوگئے ۔آج بھی منٹگمری ساہیوال کے علاقے میں مکئی کی تین فصلیں ہوتی ہیں۔ یہ پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ یہاں چار موسم ہیں اور خط استوا پر ہونے کی وجہ سے یہاں سورج چمکتا ہے جس کی بدولت یہاں ایک سال میں مختلف اقسام کی کئی کئی فصلیں کاشت ہوسکتی ہیں۔



برصغیر کی تقسیم کے بعدحکومت نے زراعت پررقم خرچ نہیں کی۔ ریسرچ، مشینری اورماڈرن ایگر ی ٹیکنالوجی سے استفادہ نہیں کیا گیا۔ جس کے نتیجے میں ہماری فی ایکڑ پیداوار بہت کم ہے ۔ اب یہ کمی ایک امیر دوست پوری کرے گا۔ وہ پاکستان کا ایک حصہ خرید کر جدید زراعت سے فصلیں ، سبزیاں اورپھل کاشت کرکے اپنے ملک لے جائے گا اوراپنی ضروریات کے بعد باقی پیداوار عالمی منڈی میں فروخت کرکے منافع کمائے گا۔ یہ کارپوریٹ ایگری بزنس کی نئی دنیا ہے۔جو تیل کے بعد سب سے بڑا ذریعہ آمدنی ہے۔



ایک ریٹائرڈ افسر کاکہنا ہے کہ اگر ہم زمین بیچنا شروع کردیں تو اس آمدنی سے کتناعرصہ گذارہ کریں گے۔ان کے اندازے کے مطابق پاکستان کو پانچ لاکھ ایکٹرزمین کے عوض پانچ بلین ڈالرز ملیں گے۔ یہ کتنے دن چلیں گے۔لائل پوریا فیصل آباد کے ایک چوہدری صاحب نے اپنی زمین کے ٹکڑے بیچنا شروع کردیےتھے ۔ جس سے وہ اپنی زندگی میں خوشحال ہوگئے۔ جس کے بعد ان کی زمین ،خوشحالی او زندگی کااختتام ایک ساتھ ہوا ۔ اب لاری اڈے پران کی اولاد بوجھ اٹھاتی نظر آتی ہے۔ ہم نے پاکستان کی زمین فروخت کردی تو آنے والی نسلیں ہماری قبروں کے کتبوں پر کیا لکھنا پسند کریں گی۔



ہمارے عوام کی سوچ حکومت سے مختلف ہے۔ عوام کے خیال میں یہ ملک فروخت کرنے اورلیز پردینےکے لیے کموڈیٹی نہ سمجھا جائے۔یہ ملک لیز پردینے کے لیے نہیں بنایا گیا۔ یہ مادروطن ہے اورہماری لوک شاعری میں زمین کوماں کہا  گیا ہے۔



ہمارے پاس یہ آپشن موجود ہے کہ ہم اپنے دوستوں سے زمین کی بجائے فصلوں کے معاہدے کرلیں ۔ وہ پیداواری صلاحیت
بڑھانے کے لیے انویسٹ کریں اور ہماری زرعی ترقی سے فائدہ اٹھائیں۔  ہماری زمین ہمارے عوام کاپیٹ بھرے اوراضافی پیداوار دوست ملک خرید لے ۔ اس میں دونوں کافائدہ ہوگا لیکن یہاں صورتحال یہ کہ 

ہرشاخ پر الّو بیٹھا ہے

انجام گلستاں کیا ہوگا



۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



















































یہ دورنگی کیا رنگ لائے گی؟

یہ دورنگی کیا رنگ لائے گی



یہاں کسی چیز کی کمی نہیں ہے۔ ہر گلی محلے میں مساجد ہیں۔ درس دینے والے علماءکرام ہیں۔ ہرگھر میں قران مجید کی تلاوت ہوتی ہے۔عوام کی اکثریت دین سے محبت کرتی ہے لیکن یہ سب کچھ ہونے کے باوجود عوام سمجھتے ہیں کہ ہماری زندگی میں برکت نہیں ہے۔ سکون ،چین اورزندگی کالطف نہیں ہے۔ ہم مسلمان ہیں لیکن ہمارے سروں پر بے یقینی ، خوف اورغربت کاعذاب مسلط ہے۔ ہماری دعائیں قبولیت سے محروم اورعبادات کا اثر عملی زندگی میں کم ہی نظر آتا ہے۔

حاجی سلطان بہت بڑ ے تاجر ہیں۔ کئی بار حج اورعمرے کی سعادت حاصل کرچکے ہیں۔ نماز، روزے اور اعتکاف کے پابند ہیں لیکن وہ حاجی بلیک کے نام سے مشہور ہیں۔ عوام نے انہیں یہ نام اس لیے دیا ہے کہ ان کی عبادت کا اثر ان کی تجارت پر نظر نہیں آتا۔ ان کی زندگی میں دورنگ ہیں۔ ذاتی زندگی میں وہ اخلاقیات سے مزّین ایک باشرع مسلمان ہیں لیکن تجارتی زندگی میں وہ کسی اخلاقی اصول ضابطے کے پابند نہیں ہیں۔ ان کی تجارت دوسروں کونقصان پہنچا کر منافع حاصل کرنے کے اصول پر چلتی ہے۔ ان کی شخصیت کے حوالے سے ایک دوست نے ایک پُرانی فلم کامکالمہ سنایا ۔ جس میں ہیرو کہتا ہے کہ چوری میرا پیشہ ہے اورنماز میرا فرض ہے۔

ہمارا معاشرہ ایسے ہیروز سے بھرگیا ہے۔ راولپنڈی میں جوئے کاسب سے بڑا اڈا چلانے والا خاندان اپنے علاقے میں مساجد کاسرپرست اورخیراتی سرگرمیوں کاچمپئین ہے۔ ہمارے عوام بُرے نہیں ہیں ۔ اس کے باوجود معاشرے میں یہ دورنگی اورتناقص بڑھ رہا ہے۔ ہمارے حکمران سرکاری تقریبات کا آغاز تلاوت اورنعتوں سے کرنے کے بعد میوزک سنتے اورڈانس دیکھتے ہیں۔
اسلامی یونی ورسٹی کے ایک استاد کا موقف ہے کہ ہماری قیادت کرنے والے دو لباس پہنتے ہیں۔عوام میں سفید لباس پہن کر کہتے ہیں ،ہم آپ میں سے ہیں اورجب سیاہ سوٹ پہن کر آپس میں مل بیٹھتے ہیں توہنستے ہیں کہ ہم عوام کوبیوقوف بنارہے ہیں۔
قائد اعظم کے بعد سے قیادت کے منصب پر انہی لوگوں کا قبضہ ہے جو عوام کی سادگی، دین سے محبت اوراخلاص کااستحصال کررہے ہیں۔حکومت اوراپوزیشن دونوں میں یہ سیاہ وسفید ہیروموجود ہیں اور اب نصف صدی میں ایک دوسرے کے رشتہ دار بن چکے ہیں۔ چینی اورآٹے کابحران یہی پیدا کرتے ہیں۔ یہ دوسروں کونقصان پہنچا کر منافع کمانے والے تاجر ہیں ۔ یہ چند خاندان ہیں جنہوں نے لمیٹڈ کمپنیوں کی طرز پرسیاسی جماعتیں بنائی ہوئی ہیں۔ جن میں کوئی دوسرا دخل نہیں دے سکتا۔ ہرجماعت کسی نہ کسی خاندان کے قبضے میں ہے۔ بزرگ صحافی غلام اکبر صاحب کہتے ہیں کہ اگر قبضہ ہی قیادت کااصول ہے تو ملک پر بھی قبضہ کااصول ہی چلے گااوریہ قبضہ کسی کابھی ہوسکتا ہے۔
عوام دیکھ رہے ہیں کہ کسی جرنیل کی آمریت آئے یا ان خاندانوں کی جمہوریت آئے۔ کشتہ ستم غریب ہی بنتے ہیں۔ حکومت کے اپوزیشن اوراپوزیشن کے حکومت بن جانے سے عوام کی زندگی پرکوئی اثر نہیں ہوتا۔ یہ جمہوریت کوبھی عوام کے لیے آمریت جیسا بنا دیتے ہیں اورجب چاہیں عوام کوآٹے ،چینی اورگھی کے لیے قطاروں میں کھڑا کرکے ڈنڈے برسانا شروع کردیتے ہیں۔ان سیاسی تاجروں کا بجلی،پٹرول اوراشیائے خوردونوش پر مکمل قبضہ ہے۔ان کے اختیار میں ہے کہ عوام کوجتناچاہیں اورجیسے چاہیں لوٹتے رہیں۔
ہمارا معاشرہ ان قبضہ گروپوں کے قبضے میں ہے۔ یہ معاشرے کوگائیڈ کرنے کی بجائے مس گائیڈ اورلیڈ ر بن کر مس لیڈ کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے معاشرے اورسیاست میں قیادت ہی عوام کے لیے رول ماڈل ہوتی ہے۔ یہ اس قیادت کاشاخسانہ ہے کہ خرابی اوپر سے نیچے تک آچکی ہے اور اس قیادت کی پیروی میں گلی گلی قبضہ گروپ پیدا ہورہے ہیں۔
سرگودھا میں ایک سیاسی کارکن نے روداد سنائی کہ وہ ایم اے سیاسیات ہے اور تین بار کونسلر کا الیکشن ہارچکا ہے۔اسے ہمیشہ ایک منشیات فروش شکست دے جاتا ہے۔ اس سیاسی کارکن کا خیال ہے کہ عوام باشعور نہیں ہیں۔ یہ بات جزوی طور پردرست ہوسکتی ہے کہ ہمارے ملک کی 70فی صد آبادی اپنا نام بھی نہیں لکھ سکتی لیکن تجربہ یہ ہے کہ عوام باشعور ہیں اور قبضہ گروپوں کے مقابلے میں کسی کمزور شخص کوووٹ نہیں دیتے کیونکہ عوام نے گلے محلے میں رہنا ہے۔
اس خرابی کا ایک ہی علاج ہے کہ معاشرے کے باشعورافراد قیادت کے لیے جرأت سے آگے بڑھیں اورقبضہ گروپوں کے مقابلے میں ڈٹ کرکھڑے ہوجائیں اورعوام کوتحفظ فراہم کریں۔
ہمارے معاشرے کو اس مقام تک پہنچنے کے لیے ایک سماجی ارتقاءکی ضرورت ہے ۔ جس سے ملک میں سیاسی انقلاب آجائے۔ جماعت اسلامی کاموقف ہے کہ عوام میں فکر ی بیداری، تنظیم اور معاشرتی اصلاح سے اصول واقدار  کی  بنیاد پر ایک جرأت مند, باصلاحیت اوردیانت دار قیادت سامنے آئے گی۔
یہ درست ہے کہ جماعت اسلامی جس نظریاتی، دینی، سماجی اورسیاسی انقلاب کے لیے کوشش کررہی ہے وہ ابھی تک نہیں آیا لیکن وہ اسی جمہوری راستے کودرست سمجھتی ہے اوراسی پر اپنی استطاعت کے مطابق گامزن ہے۔ ہمارے بہت سے دوست اس طریق انقلاب سے اختلاف کرتے ہیں۔ وہ اسے ایک طویل ہومیوپیتھک طریقہ انقلاب کہتے ہیں لیکن وہ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ عوام کی سوچ بدلے گی تومعاشرے کی قیادت بدل جائے گی۔
پاکستان میں ایک امید افزاءاور اہم تبدیلی میڈیا کاجادو ہے جوسر چڑھ کربول رہاہے۔ یہ انفارمیشن ایج کا دورہے جوانسانی زندگی میں زراعت اور صنعت کے بعد آنے والی سب سے بڑی تبدیلی ہے۔ صحافت کی دنیا میں خاندانی قبضہ اورسرکاری عہدہ نہیں چلتا ۔ صحافی کارکن معاشرے کی باٹم لائن سے آتے ہیں اور ذاتی حیثیت میں عوام کی سوچ، دکھ اورتمناﺅں سے واقف ہیں۔ اس لیے کسی قبضہ گروپ سے ذہنی طور پر سمجھوتہ نہیں کرتے۔
اب صحافیوں کے ہاتھوں بڑے بڑوں کے پول کھل رہے ہیں۔ عوام حیران ہیں کہ کیسے کیسوں کا کیسا کیساک ردارسامنے آرہاہے۔ اس طوفان میں بڑے بڑے ٹائی ٹینک ڈوب رہے ہیں۔ اس خوش آئند تبدیلی سے عوام کی سوچ کا رخ بدل رہا ہے۔عوام کی سوچ بدلے گی تو بہت کچھ بدل جائے گا۔ معاشرے سے منافقت رخصت ہو گی تو برکت آئے گی اورپھر عبادت مسجد تک
محدود نہیں رہے گی۔ ہماری پوری زندگی عبادت بن جائے گی۔انشاءاللہ۔  

(نوائے وقت، اسلام آباد 10ستمبر2009)

 

میں روزے سے ہوں


میں روزے سے ہوں



رمضان المبارک ایسے حالات میں شروع ہوا ہے کہ پاکستان بہت سے مسائل سے دوچار ہے۔ کچھ مسائل دنیا کے حالات کی وجہ سے ہیں۔ کچھ عالمی طاقتوں کی سازشوں کا نتیجہ ہیں لیکن کئی مسائل ایسے ہیں جنہیں ہم نے خود پیدا کیا ہے۔

روزے اسلامی معاشرہ کا حسن ہیں لیکن اسلامی ماحول نہ ہو تو عبادات محض ایک رسم اوردکھاوا بن کر رہ جاتی ہیں۔

ایک وقت تھا کہ پنجاب میں لوگ نمک یا کھجور سے روزہ افطار کرتے ،کھانا کھاتے اور پانی پیتے تھے۔ اب ہمارا لائف سٹائل بدل گیا ہے۔ہرگھر میں حسبِ استطاعت افطاری ایک تقریب بن گئی ہے۔ پکوڑے، سموسے، قیمہ رول، چاٹ، دہی بھلے،پھل، مشروبات سب کچھ درکار ہے۔ افطاری کادسترخوان اتنا بڑا ہو گیا ہے کہ اس کے بعد کھانے کی گنجائش نہیں رہتی۔

اسلام نے سادگی کادرس دیا ہے لیکن ہمارا معاشرہ تضادات کا معاشرہ ہے۔ا یک طرف چند لوگوں کے گھر میں کھانے کے انبار ہیں اوردوسری طرف کروڑوں عوام کے لیے اتنی غربت ہے کہ کئی گھروں میں روٹی پکانے کے لیے آٹا نہیں ہے۔

روزے برکت کا باعث ہیں لیکن مہنگائی نے عجب صورتحال پیدا کر دی ہے۔ ہر چیز مہنگی ہے۔ ماہ مقدس میں مہنگائی اور ہر گھر کا خرچ دونوں ساتھ ساتھ بڑھتے ہیں۔اخراجات کا ایک بوجھ ہے جوکسی اٹھانے والے سے نہیں اٹھتا۔ ان دنوں چوراہوں پر چینی اور آٹے کے ٹرکوں پرغریب لوگوں کی قطاریں ہیں۔ گھنٹوں قطار کے بعد کنٹرول ریٹ پر آٹے کا ایک توڑا حاصل ہوتا ہے۔یہی حال یوٹیلٹی سٹورز کاہے ۔ طویل انتظار اورلمبی قطار کا مرحلہ طے کرنے کے بعد شناختی کارڈ دکھا کر کنٹرول ریٹ پر دوکلو چینی مل رہی ہے۔ حکومت کے اس انتظام میں عوام کی سہولت اوررسوائی دونوں کا اہتمام ہے۔ سفید پوش اور ملازمت کرنے والوں کے پاس قطار اورانتظار کی سکت اور ٹائم نہ ہو تو کیا کریں۔

عوام سمجھتے ہیں کہ حکمران چاہیں تو ہر دکان سے سستی چینی اور آٹا دستیاب ہوسکتا ہے۔ اصل مسئلہ سپلائی کاہے اورسپلائی کرنے والی حکومت ہے، جس میں افسر بھی ہیں اورسیاست دان بھی ہیں۔ پاکستان کی مارکیٹ حکومت کے ہاتھ کنٹرول کرتے ہیں۔ حکومت میں شامل ایک قسم کے لوگ چینی اور آٹے سے مال بنا رہے ہیں اوردوسری قسم کے لوگ کنٹرول ریٹ پر چینی اور آٹا فروخت کر کے سیاسی کارکردگی بہتر بنا رہے ہیں۔

گذشتہ سے پیوستہ رمضان المبارک میں چوہدری پرویز وزیراعلیٰ تھے ۔ ان کاموقف تھا کہ پنجاب کاآٹا ترکمانستان، افغانستان اورایران میں بک رہا ہے۔ وفاقی حکومت کے لوگ ذاتی مفاد کے لیے آٹے، سوجی اور میدے کے کنٹینرز باہر جانے دیتے ہیں ۔اب میاں شہباز وزیراعلیٰ ہیں لیکن آٹے کا بحران روایت بن گئی ہے۔

پاکستان کا شماردنیا کے ان ملکوں میں ہوتا ہے جہاں سیلز ٹیکس بہت زیادہ ہے۔اس کے بعد منڈی میں آنے والی ہر چیز پر مارکیٹ فیس بھی ہے۔ جس کے نتیجے میں ہر چیز کی قیمت دگنی ہے۔ علماء کرام فرماتے ہیں کہ رمضان میں ہرکام کا ثواب کئی گنا ہوتا ہے۔ عوام کہتے ہیں کہ رمضان میں ہرچیز کی قیمت کئی گنا ہوتی ہے۔ یہ حکمرانوں کی طے شدہ پالیسی ہے کہ عوام کو روٹی کے چکر سے باہر نہ آنے دیا جائے اورانہیں غربت کی دلدل میں ڈال کر اتنا حواس باختہ کردیا جائے کہ وہ ملکی حالات کے حوالے سے کچھ سوچنے اور کچھ کرنے کے قابل نہ رہ جائیں۔

راولپنڈی میں ہمارے دوست صاحبزادہ عبدالنعیم کا شکوہ ہے کہ روزے میں لڑائی جھگڑے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں۔ مہنگائی کے ستائے اور روزے کے بھوکے پیاسے عوام آپس میں الجھتے رہتے ہیں۔ سہ پہر کے وقت ٹریفک کی افراتفری اور تلخ کلامی کے واقعات ایک معمول ہیں۔

اسی طرح اسلام آباد کے ایک دوست ڈاکٹر تہذیب الحسن کا تجربہ ہے کہ ہمارے ہاں روزے کی وجہ سے کام نہ کرنے کا رواج ہے۔ دفتروں میں لوگ اونگھتے رہتے ہیں کہ نیند پوری نہیں ہوئی ۔ سائلین سے معذرت کرتے ہیں کہ مجھے پریشان نہ کرو،میرا روزہ ہے۔ کام نہ کرنے کی دلیل یہ ہے کہ روزے میں کمزوری سے زیادہ کام نہیں ہوسکتا۔ دوردراز سے آنے والے سائل پریشان ہوتے ہیں۔





اس صورتحال پر ضمیر جعفری مرحوم نے ایک غزل لکھی تھی کہ

مجھ سے مت کر یار کچھ گفتار، میں روزے سے ہوں
ہو نہ جائے تجھ سے بھی تکرار، میں روزے سے ہوں

 
اسلام نے انسان کی زندگی کوآسان بنایا ہے لیکن ہم ناسمجھی سے اپنی زندگی مشکل بنا لیتے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ ہم اجتماعی سوچ سے محروم ہیں۔ ایک دوست کا خیال ہے کہ ہم کسی بھی سوچ سے محروم ہیں۔ جماعت اسلامی کاموقف ہے کہ اسلام سب کے لیے سلامتی اورعدل وانصاف کادین ہے۔ اسلام کی برکات سے فائدہ اٹھانے کے لیے ہمیں سلامتی اورعدل وانصاف کا نظام قائم کرنا ہوگا۔ اسی کے نتیجے میں ہم ایک قوم بن سکتے ہیں۔ ایک مسلمان کی حیثیت سے ہمارا فرض ہے کہ سب سے پہلے اپنی ذاتی زندگی میں ایک دوسرے سے انصاف کریں اور اس کے بعد انصاف کرنے والے حکمران لانے کی جستجو کریں۔

( 31 اگست2009 روزنامہ نوائے وقت راولپنڈی)




اسلام آباد قدم قدم پر ناکے







قدم قدم پر ناکے ۔۔۔۔ اسلام آباد کا چہرہ داغ دار





بغداد کی سڑکوں پر ناکوں اورچیک پوسٹوں کے جو مناظر ٹی وی سکرین پردیکھے تھے۔ اب اسلام آباد کی سڑکوں تک آپہنچے ہیں۔ شہری پریشان ہوکر سوال کرتے ہیں کہ ہماری یہ تصویرکیوںبنائی جارہی ہے؟
اسلام آباد میں 133ناکے ہیں۔ جن پر کنکریٹ کے بلاکوں سے زگ زیگ رکاوٹیں بنائی گئی ہیں۔فوجی جوان ، رینجرز یا پولیس والے خوفناک اسلحہ تانے کھڑے ہیں۔ شہریوں کی گاڑیاںروک کر سوال کیاجاتا ہے کہ کہاں سے آرہے ہو ؟ کہاں جارہے ہو؟
جواب تسلی بخش ہے توجاو ¿۔ ورنہ سائیڈ پرہوجاﺅ اورتلاشی دو۔
رات کاوقت ہے توپولیس والا اپنے سگریٹ لائٹر کی ٹارچ سے آپ ، ہم سفروں اور گاڑی کا ملاحظہ کرے گا۔پولیس کاموقف ہے کہ ہماری ڈیوٹی ایسی ہے کہ ہمیں ہرشہری مشکوک نظر آتا ہے۔
دوسرے شہروں سے ہرروزہزاروں لوگ کام کے لیے وفاقی دارالحکومت آتے ہیں۔ جن کااستقبال ایک مشکوک شہری کی حیثیت سے کیا جاتا ہے۔ پولیس والوں کے نزدیک بیرون شہر کی نمبرپلیٹ گاڑیاں زیادہ مشکوک ہیں اور ٹیکسیاں تو بالکل ہی ناقابل برداشت ہے۔
شہر کے داخلی راستوں پر ناکے توسمجھ میں آتے ہیں لیکن اندرون شہرہر سڑک پر تین سے پانچ ناکے ہیں۔سیکرٹریٹ جانے والے سرکاری ملازمین میریٹ سے پہلے اتارلیے جاتے ہیں اورانہیں سیکرٹریٹ تک ڈیڑھ کلومیٹر پیدل چلا کرسیکورٹی یقینی بنائی جاتی ہے ۔گرمی کے مارے پسینہ سے شرابورمردوخواتین حکومت کے اس اہتمام کی جوتعریف کرتے ہیں وہ سننے کے لائق نہیں ہے۔
ایک خاتون سرکای ملازم نے حکومت کے نام درخواست لکھی ہے کہ میںنے ایل ایل بی کیا ہے ۔ اس لیے قانون سمجھتی ہوں۔آئین میںشہریوں کوآزادانہ نقل وحرکت کاحق دیا گیا ہے۔اس لیے یہ ناکے شہریوں کے بنیادی حقوق اور آئین کے مطابق نہیںہیں۔
اسی طرح ہمارے پبلک سیکرٹریٹ میں آنے والے ایک ریٹائرڈ بزرگ کاکہنا ہے کہ ناکوں کامطلب ہے کہ ہماری سیکورٹی کے ادارے کامیاب نہیںہیں ۔ اس لیے سیکورٹی کی کمی ناکوںسے پوری کی جارہی ہے۔
گذشتہ دنوں چیف کمشنر صاحب سے ملاقات ہوئی تو ان سے شکوہ کیا کہ عوام کے لیے یہ ناکے دردسر ہیں۔انہوںنے ہمارے موقف سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں شہریوںکی پریشانی کااحساس ہے لیکن ان ناکوں پر ہم نے اسلحہ اورمجرم پکڑے ہیں ۔اس لیے عوام کوبرداشت کرنا ہوگاکیونکہ ناکے عوام کوپریشان کرنے کے لیے نہیں بلکہ انہیں جرائم پیشہ افراد سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے لگائے گئے ہیں۔
چیف کمشنر سمیت انتظامیہ کے ہر ذمہ دا رکایہی موقف ہے ۔اسے درست مان لیا جائے توناکوں پر پابندی سے شہر میںجرائم کاگراف گرنا چاہئے تھا۔ لیکن اخبارات شہر میں جرائم کی خبروں سے بھرے پڑے ہیں۔ایک ستم ظریف صحافی کاتبصرہ ہے کہ جہاںناکے لگتے ہیں وہاں جرائم بڑھ جاتے ہیں۔جس دن سے شہر کی80فی صد پولیس ناکوں پر ہے ۔ عوام ڈاکوﺅں کے حوالے ہیں۔ اسی شہر کے شاعر کاشعر ہے کہ
اِدھر ناکے پہ ناکہ چل رہا ہے
اُدھر ڈاکے پہ ڈاکہ چل رہا ہے
اسلام آباد میں ہرناکے پر چیکنگ کامختلف طریقہ کار ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس کوچیکنگ کی کوئی باضابطہ تربیت نہیں دی گئی اور یہ بھی طے نہیں ہے کہ کیا چیز چیک کی جائے گی۔
ایک المناک اندھیری رات ایک خاتون کی میت لکڑی کے تابوت میں ہسپتال سے گھر منتقل کی جارہی تھی ۔ ناکے پر مسئلہ بن گیا کہ تابوت میں میت ہے یا اسلحہ ہے۔پولیس والے ثبوت کے لیے تابوت کھولنے پر بضد تھے۔ غم زدہ لواحقین نے دوسوروپے نقد ثبوت فراہم کیا تو ناکہ انچارج نے تسلیم کرلیاکہ یہ میت ہے اورتابوت کھولے بغیر جانے دیا۔یہ واقعہ میرے ایک جاننے والوں کے ساتھ پیش آیا ہے۔اس لیے مجھے معلوم ہے کہ تابوت میں کیا تھا۔
حکومت اورانتظامیہ کی کارکردگی ایسی ہے کہ وزراءکرام عام شہریوں سے دوررہنے میں عافیت سمجھتے ہیں۔ حکومت کاعوامی رابطہ ٹی وی سکرین اوراخباری بیانات پر منحصر ہے۔
پہلے ایک بیان میں وزیر داخلہ نے عوام کوتسلی دی کہ اسلام آباد میں ناکوں پر صرف عوام کی گاڑیاں چیک نہیں ہورہیں۔میر ی گاڑی سمیت وزیروں کی گاڑیاں بھی چیک کی جاتی ہےں۔ اس کے بعدو زیر داخلہ نے عوام کی مزید تسلی کے لیے حکم دیا کہ ناکوں پرارکان اسمبلی کوبھی خاطر میں نہ لایاجائے اورمکمل چھان بین اورتحقیقات کے بعد جانے دیا جائے۔جس پرحکومتی ارکان نے اسمبلی میں اتنا ہنگامہ کیا کہ سپیکر قومی اسمبلی نے ایک فارغ وفاقی وزیر کوصورتحال کاجائزہ لے کر رپورٹ پیش کرنے ہدایت جاری کرکے ارکان اسمبلی کوخاموش کرایا۔عوام حیران ہیں کہ ہمارے ارکان اسمبلی جو بات عوام کے لیے پسند کرتے ہیں ۔ اپنے لیے کیوں نہیںکرتے۔
اسلام آباد پورے پاکستان کاFaceہے۔ جس سے پورے ملک کااندازہ کیا جاتا ہے۔ناکوں نے یہ چہرہ داغدارکردیا ہے۔اسلام آباد ایک قدیم قلعہ بن گیا ہے ۔جس میں داخل ہونے سے پہلے شریف شہری ہونے کاامتحان پاس کرنا لازم ہے۔
کیا یہ کوئی سازش ہے کہ حکومت جان بوجھ کر پریشان حال اورمایوس کن تصویر پینٹ کررہی ہے کہ شاہراہ دستور پرعوام کاداخلہ ممنوع ہے۔سرکاری دفاتر کے چاروں طرف سٹرکیں بند ہیں، خاردار تاریں اورمورچوں میںبندوقیں تانے سیکورٹی فورسز کے جوان ہیں۔شہریوں کے چاروں طرف ناکے ہیں۔ تمام تھانے ممنوعہ علاقے ہیں۔جن کی اونچی دیواروں پر خاردار تاریں اعلان کررہی ہیںکہ اپنی جان بچانا فرض ہے۔سڑکوں پر ڈرے سہمے وزراءکے دوڑ لگاتے سیکورٹی سکوارڈ کے قافلے اورہر سڑک پر ریت کی بوریاں اورکنکریٹ بلاکوںکے بے ترتیب ڈھیر ہیں۔ یہ سب ایک بیمار ذہنیت کی علامت ہےں۔بیمار ذہن کے لوگ جوکچھ کرسکتے ہیں ۔وہ ہمارے ملک میں ہورہا ہے۔



9 اگست 2009 روزنامہ نوائے وقت اسلام آباد



میرا نصب العین اسلامی نظام زندگی اور اللہ تعالیٰ کی رضا کاحصول ہے اور زندگی میں کامیابی کے لئے اخلاق، دیانت ،خدمت اورجرٲت پر یقین ہے۔