13 May 2010 نوائے وقت ، اسلام آباد
سکواڈرن لیڈر(ر)خالد خواجہ کاجسد خاکی ایچ ایٹ اسلام آباد کے قبرستان میں رکھا تھا۔سوگوار فضا میں سابق آرمی چیف مرزا
اسلم بیگ اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ حمید گل سمیت کئی اہم شخصیات موجود تھیں۔ مولانا عبدالعزیز خطیب لال مسجد نے نماز جنازہ پڑھائی۔ خالد خواجہ کاشمار لال مسجد سے محبت کرنے والوں میں ہوتا تھا۔ انہیں جنرل ضیاءالحق نے آئی ایس آئی سے نکال دیا تھا۔ گذشتہ دنوں وہ بہت پراسرار حالات میں اغواءاورقتل ہوئے۔
پاکستان میں ایک عرصہ سے افراد کے غائب، اغوااورقتل کا ایسا پُراسرارسلسلہ چل رہا ہے۔ جس کا تانا بانا عوام کی سمجھ سے باہر ہے۔عام لوگ سمجھ میں نہ آنے والے ان واقعات سے لاتعلق ہی رہتے ہیں۔ شاید عوام نے تسلیم کرلیا ہے کہ بڑے لوگوں کی باتیں بڑے لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں۔لیاقت علی سے بے نظیر بھٹو تک ان خفیہ ہاتھوں کاذکر ہوتا ہے جو موجود ہونے کے باوجود کسی کونظر نہیں آتے۔
ان دنوںپاکستان ایک بلیک ہول بنا ہوا ہے۔ جس کے ا ندھیرے میں سب کچھ گم ہے۔ فلکیاتی سائنس میں بلیک ہول ایک ایسا جسم ہے جو ہرچیز اپنے اندر اس طرح جذب کرلیتا ہے کہ کوئی شے اس کے دائرہ اثر میں آجائے تو باہر نہیں نکل سکتی۔ بلیک ہول کواسی وجہ سے بلیک ہول کہا جاتا ہے کہ اس کی کشش ثقل اتنی شدیدہوتی ہے کہ روشنی بھی باہر نہیں نکل سکتی۔ڈاکٹر شاہد مسعود ایک جہاندیدہ شخص ہیں وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ان اندھیروں میں جوبھی مارا جائے وہ شہید ہے۔ ہم اس کے درجات کی بلندی کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا ہی کرسکتے ہیں۔
جماعت اسلامی نے ڈاکٹر عافیہ کے حق میںاسلام آباد میں ایک عوامی ریلی کا اہتمام کیا۔جس میں اہل اسلام آباد کی ایک بڑی تعداد نے شریک ہوکر قوم کی اس بیٹی پر ہونے والے ظلم پر احتجاج کیا۔دنیا اسلام کے علماءکرام کامتفقہ موقف ہے کہ اگر کفار ایک مسلمان بڑھیا اغوا کرلیں تو اس کی رہائی کے لیے امت مسلمہ کے تمام فوجی اورمعاشی وسائل خرچ ہوجائیں تو سودا مہنگا نہیں ہے۔
اس تعلیم یافتہ اور دھان پان سی عورت پر اپنے وزن سے بھاری بندوق اٹھا کر ایک امریکی فوجی کومارنے کی کوشش کاالزام ہے۔یہ ایسا ہی ہے جیسے عراق کے بارے کہا گیا تھا کہ اس کے پاس ایسے خطرناک ہتھیار ہیں جس سے امریکی سلامتی خطرے میں ہے۔عالمی طاقتیں ایک جھوٹ کی بنیاد پر ظلم اور جبر کاطوفا ن اٹھا رہی ہیں لیکن امت مسلمہ کے 57 ممالک کے حکمرانوں میں سے کوئی انہیں روکنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ڈاکٹر عافیہ کے اغوائ میں کون کون شریک تھا۔اجرت کس نے وصول کی۔سب کچھ صیغہ راز میں ہے۔ ہمارے حکمران اتنے بے بس یابے حس ہیں کہ خواتین ،بچے ،جوان اور بوڑھے تک فروخت کئے جارہے ہیں۔جنرل پرویز مشرف کی کتاب کے مطابق ان کے دور میں پانچ ہزار ڈالر فی کس وصول کئے جارہے تھے۔ان کے جانے کے بعدیہ کاروبار مزید بڑھ گیا ہے۔کون کیا کرتا ہے اور کیوں کرتا ہے۔ ان محیر العقول واقعات پر اخبارات میں کالموں پر کالم سیاہ ہو رہے ہیں۔ٹی وی پر باتوں کاانبار لگا ہوا ہے لیکن جو جانتے ہیں وہ چپ رہتے ہیں۔جو نہیں جانتے وہ بولتے رہتے ہیں۔اک م ±عمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا۔
کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے سال 2010ءکی رپورٹ میں پاکستان کوصحافیوں کے لیے ایک خطرناک ملک قراردیا ہے۔جہاں صحافی قتل کردیے جاتے ہیں اور قاتلوں کاکوئی سراغ نہیں ملتا۔
اس بلیک ہول کے سامنے میڈیا، عدلیہ اور پارلیمنٹ بے بس دکھائی دیتی ہے۔سپریم کورٹ نے حکومت سے سوال کیا ہے کہ ہم کب تک لاپتہ افراد کے لواحقین کے آنسو برداشت کریں۔
2005 میں لاپتہ ہونے والے راولپنڈی کے مسعود احمد جنجوعہ کی اہلیہ اور تنظیم ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کی سربراہ آمنہ مسعود جنجوعہ کے مطابق لاپتہ افراد کی اکثریت اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے۔ ان میں ڈاکٹرز، انجینئرز ، سائنسدان شامل ہیں۔ اکثریت کی ایف آئی آر بھی درج نہیں کی گئی۔۔ایک صحافی مصور علی بلوچ کے مطابق بلوچستان سے ایک سو اکسٹھ خواتین غائب ہیں۔ یہ لاپتہ خواتین مجرم ہیں تو ان کاجرم بتایا جائے۔
اسلام آباد سے ایک ساٹھ سالہ بزرگ خاتون کی گمشدگی اور رہائی اور چیف جسٹس کے ازخود نوٹس لینے کا قصہ اخبارات میں شائع ہوا ہے۔ لیکن کتنے قصے ہیں جو اخبارات میں شائع نہیں ہوتے ۔گذشتہ دنوں اسلام آباد کا ایک نوجوان تاجر اغواہوا۔ ننگا کرکے الٹا لٹکا کر مارا پیٹا گیا۔ دوستوں اور روابط کی تحقیق کی گئی اور ایک ہفتہ بعد بے گناہ قراردے کر زند ہ چھوڑدیا گیا لیکن ٹارچر سے اس کی جسامت آدھی رہ گی ہے۔
اس نوجوان نے تفتیش کاروں سے بے بسی کی حالت میں کہا کہ آپ لوگوں نے میرے ساتھ جو ناقابل برداشت شرمناک سلوک کیاہے۔ اس سے میرا دماغ پھٹ رہا ہے ۔اب جی چاہتا ہے کہ میں بم بن کرپھٹ جاو ¿ں اور تمہیں ساتھ لے کر جہنم میں چلاجاو ¿ں ۔اسلام آباد انتظامیہ اورپولیس کے اعلیٰ حکام کہتے ہیں کہ ہمیں معلوم نہیں کہ اس بے چارے کوکس نے اورکیوں اغواکیا اور تفتیش کار کس دنیا سے آئے تھے۔ ایسے واقعات صرف اسلام آباد میں نہیں ہورہے۔ ملک کاہر شہر ایسی ہی اندھیر نگری ہے۔لواحقین کودیکھ کررونا آتا ہے ، شرمندگی ہوتی ہے۔ایسا جنگل میں بھی نہیں ہوتا۔
ان بے گناہوں کے لیے امید کی صرف ایک کرن ہے اور یہ کرن پاکستان کے عوام ہیں۔ پاکستان سمیت مسلمانوں کے کسی بھی ملک میں حکمرانوں اور عوام کی سوچ ایک نہیں ہے۔اسی لیے جماعت اسلامی نے امریکہ ، فوج اور حکومت سے مطالبات کرنے کی بجائے عوام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گمشدہ افراد کی بازیابی اورعافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے متحد ہو کر دنیا کے سامنے اپنے جذبات کااظہار کریں۔ اس ظلم پر چیخنا تو ہمارے بس میں ہے۔
