اسلام آباد قدم قدم پر ناکے







قدم قدم پر ناکے ۔۔۔۔ اسلام آباد کا چہرہ داغ دار





بغداد کی سڑکوں پر ناکوں اورچیک پوسٹوں کے جو مناظر ٹی وی سکرین پردیکھے تھے۔ اب اسلام آباد کی سڑکوں تک آپہنچے ہیں۔ شہری پریشان ہوکر سوال کرتے ہیں کہ ہماری یہ تصویرکیوںبنائی جارہی ہے؟
اسلام آباد میں 133ناکے ہیں۔ جن پر کنکریٹ کے بلاکوں سے زگ زیگ رکاوٹیں بنائی گئی ہیں۔فوجی جوان ، رینجرز یا پولیس والے خوفناک اسلحہ تانے کھڑے ہیں۔ شہریوں کی گاڑیاںروک کر سوال کیاجاتا ہے کہ کہاں سے آرہے ہو ؟ کہاں جارہے ہو؟
جواب تسلی بخش ہے توجاو ¿۔ ورنہ سائیڈ پرہوجاﺅ اورتلاشی دو۔
رات کاوقت ہے توپولیس والا اپنے سگریٹ لائٹر کی ٹارچ سے آپ ، ہم سفروں اور گاڑی کا ملاحظہ کرے گا۔پولیس کاموقف ہے کہ ہماری ڈیوٹی ایسی ہے کہ ہمیں ہرشہری مشکوک نظر آتا ہے۔
دوسرے شہروں سے ہرروزہزاروں لوگ کام کے لیے وفاقی دارالحکومت آتے ہیں۔ جن کااستقبال ایک مشکوک شہری کی حیثیت سے کیا جاتا ہے۔ پولیس والوں کے نزدیک بیرون شہر کی نمبرپلیٹ گاڑیاں زیادہ مشکوک ہیں اور ٹیکسیاں تو بالکل ہی ناقابل برداشت ہے۔
شہر کے داخلی راستوں پر ناکے توسمجھ میں آتے ہیں لیکن اندرون شہرہر سڑک پر تین سے پانچ ناکے ہیں۔سیکرٹریٹ جانے والے سرکاری ملازمین میریٹ سے پہلے اتارلیے جاتے ہیں اورانہیں سیکرٹریٹ تک ڈیڑھ کلومیٹر پیدل چلا کرسیکورٹی یقینی بنائی جاتی ہے ۔گرمی کے مارے پسینہ سے شرابورمردوخواتین حکومت کے اس اہتمام کی جوتعریف کرتے ہیں وہ سننے کے لائق نہیں ہے۔
ایک خاتون سرکای ملازم نے حکومت کے نام درخواست لکھی ہے کہ میںنے ایل ایل بی کیا ہے ۔ اس لیے قانون سمجھتی ہوں۔آئین میںشہریوں کوآزادانہ نقل وحرکت کاحق دیا گیا ہے۔اس لیے یہ ناکے شہریوں کے بنیادی حقوق اور آئین کے مطابق نہیںہیں۔
اسی طرح ہمارے پبلک سیکرٹریٹ میں آنے والے ایک ریٹائرڈ بزرگ کاکہنا ہے کہ ناکوں کامطلب ہے کہ ہماری سیکورٹی کے ادارے کامیاب نہیںہیں ۔ اس لیے سیکورٹی کی کمی ناکوںسے پوری کی جارہی ہے۔
گذشتہ دنوں چیف کمشنر صاحب سے ملاقات ہوئی تو ان سے شکوہ کیا کہ عوام کے لیے یہ ناکے دردسر ہیں۔انہوںنے ہمارے موقف سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں شہریوںکی پریشانی کااحساس ہے لیکن ان ناکوں پر ہم نے اسلحہ اورمجرم پکڑے ہیں ۔اس لیے عوام کوبرداشت کرنا ہوگاکیونکہ ناکے عوام کوپریشان کرنے کے لیے نہیں بلکہ انہیں جرائم پیشہ افراد سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے لگائے گئے ہیں۔
چیف کمشنر سمیت انتظامیہ کے ہر ذمہ دا رکایہی موقف ہے ۔اسے درست مان لیا جائے توناکوں پر پابندی سے شہر میںجرائم کاگراف گرنا چاہئے تھا۔ لیکن اخبارات شہر میں جرائم کی خبروں سے بھرے پڑے ہیں۔ایک ستم ظریف صحافی کاتبصرہ ہے کہ جہاںناکے لگتے ہیں وہاں جرائم بڑھ جاتے ہیں۔جس دن سے شہر کی80فی صد پولیس ناکوں پر ہے ۔ عوام ڈاکوﺅں کے حوالے ہیں۔ اسی شہر کے شاعر کاشعر ہے کہ
اِدھر ناکے پہ ناکہ چل رہا ہے
اُدھر ڈاکے پہ ڈاکہ چل رہا ہے
اسلام آباد میں ہرناکے پر چیکنگ کامختلف طریقہ کار ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس کوچیکنگ کی کوئی باضابطہ تربیت نہیں دی گئی اور یہ بھی طے نہیں ہے کہ کیا چیز چیک کی جائے گی۔
ایک المناک اندھیری رات ایک خاتون کی میت لکڑی کے تابوت میں ہسپتال سے گھر منتقل کی جارہی تھی ۔ ناکے پر مسئلہ بن گیا کہ تابوت میں میت ہے یا اسلحہ ہے۔پولیس والے ثبوت کے لیے تابوت کھولنے پر بضد تھے۔ غم زدہ لواحقین نے دوسوروپے نقد ثبوت فراہم کیا تو ناکہ انچارج نے تسلیم کرلیاکہ یہ میت ہے اورتابوت کھولے بغیر جانے دیا۔یہ واقعہ میرے ایک جاننے والوں کے ساتھ پیش آیا ہے۔اس لیے مجھے معلوم ہے کہ تابوت میں کیا تھا۔
حکومت اورانتظامیہ کی کارکردگی ایسی ہے کہ وزراءکرام عام شہریوں سے دوررہنے میں عافیت سمجھتے ہیں۔ حکومت کاعوامی رابطہ ٹی وی سکرین اوراخباری بیانات پر منحصر ہے۔
پہلے ایک بیان میں وزیر داخلہ نے عوام کوتسلی دی کہ اسلام آباد میں ناکوں پر صرف عوام کی گاڑیاں چیک نہیں ہورہیں۔میر ی گاڑی سمیت وزیروں کی گاڑیاں بھی چیک کی جاتی ہےں۔ اس کے بعدو زیر داخلہ نے عوام کی مزید تسلی کے لیے حکم دیا کہ ناکوں پرارکان اسمبلی کوبھی خاطر میں نہ لایاجائے اورمکمل چھان بین اورتحقیقات کے بعد جانے دیا جائے۔جس پرحکومتی ارکان نے اسمبلی میں اتنا ہنگامہ کیا کہ سپیکر قومی اسمبلی نے ایک فارغ وفاقی وزیر کوصورتحال کاجائزہ لے کر رپورٹ پیش کرنے ہدایت جاری کرکے ارکان اسمبلی کوخاموش کرایا۔عوام حیران ہیں کہ ہمارے ارکان اسمبلی جو بات عوام کے لیے پسند کرتے ہیں ۔ اپنے لیے کیوں نہیںکرتے۔
اسلام آباد پورے پاکستان کاFaceہے۔ جس سے پورے ملک کااندازہ کیا جاتا ہے۔ناکوں نے یہ چہرہ داغدارکردیا ہے۔اسلام آباد ایک قدیم قلعہ بن گیا ہے ۔جس میں داخل ہونے سے پہلے شریف شہری ہونے کاامتحان پاس کرنا لازم ہے۔
کیا یہ کوئی سازش ہے کہ حکومت جان بوجھ کر پریشان حال اورمایوس کن تصویر پینٹ کررہی ہے کہ شاہراہ دستور پرعوام کاداخلہ ممنوع ہے۔سرکاری دفاتر کے چاروں طرف سٹرکیں بند ہیں، خاردار تاریں اورمورچوں میںبندوقیں تانے سیکورٹی فورسز کے جوان ہیں۔شہریوں کے چاروں طرف ناکے ہیں۔ تمام تھانے ممنوعہ علاقے ہیں۔جن کی اونچی دیواروں پر خاردار تاریں اعلان کررہی ہیںکہ اپنی جان بچانا فرض ہے۔سڑکوں پر ڈرے سہمے وزراءکے دوڑ لگاتے سیکورٹی سکوارڈ کے قافلے اورہر سڑک پر ریت کی بوریاں اورکنکریٹ بلاکوںکے بے ترتیب ڈھیر ہیں۔ یہ سب ایک بیمار ذہنیت کی علامت ہےں۔بیمار ذہن کے لوگ جوکچھ کرسکتے ہیں ۔وہ ہمارے ملک میں ہورہا ہے۔



9 اگست 2009 روزنامہ نوائے وقت اسلام آباد


No comments:

Post a Comment

Note: Only a member of this blog may post a comment.


میرا نصب العین اسلامی نظام زندگی اور اللہ تعالیٰ کی رضا کاحصول ہے اور زندگی میں کامیابی کے لئے اخلاق، دیانت ،خدمت اورجرٲت پر یقین ہے۔