قوم نے اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دے دیا
جماعت اسلامی نے امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ کے دورہ پاکستان سے پانچ روز قبل کیری لوگر بل اور امریکی پالیسیوں پر ملک گیر عوامی ریفرنڈم کرایا۔ اس ریفرنڈم کے نتائج نے ثابت کردیا کہ ہماری قوم زندہ ہے۔ بیلٹ پیپر میں عوام کوہاں یا نہ دونوں کااختیار تھا۔ ملک بھر سے ووٹ کاسٹ کرنے والے99فی صد عوام نے کیری لوگر بل مسترد کرنے کا فیصلہ کیا۔
اپنی رائے کے اظہار کے لیے ملک بھر سے2کروڑ 19لاکھ 79ہزار2سو87 مرد و خواتین نے ووٹ ڈالے۔ کیری لوگر بل کے حق میں ایک لاکھ 37 ہزار9سو43 اورمخالفت میں 2کروڑ 17لاکھ61ہزار6سو91ووٹ آئے۔
یہ ریفرنڈم جماعت اسلامی کی جمہوری روایات کا آئینہ تھا جو قومی تاریخ کاحصہ بن گیا ہے۔ جب کسی فورم پر پاکستان میں امریکی پالیسیوں کی مقبولیت یا مخالفت کی بات ہوگی ۔اس ریفرنڈم کاحوالہ ضرور دیا جائے گا۔
اسی حوالے سے امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ نے اسلام آباد میں کہا کہ مجھے احساس ہے کہ پاکستانی عوام اور امریکہ کے درمیان غلط فہمیاں ہیں ۔ اس لیے میں غلط فہمیاں دور کرنے آئی ہوں۔ اس کے جواب میں ایک صحافی نے واضح کیا کہ بات غلط فہمیوں کی نہیں ہے ، پالیسیوں کی ہے۔
یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ امداد دینے والے اپنی پالیسی اور مفاد کے لیے اپنی شرائط پر امداددیتے ہیں۔اس سے پہلے بھی امریکہ کے امدادی بل آتے رہے ہیں۔ ان میں کوئی بل شرائط کے بغیر نہیں تھا۔ لیکن امریکی سینیٹروں جان کیری اور رچرڈ لوگر کے پیش کردہ بل کی شرائط نے پاکستان کے سیاسی منظر میں ہلچل مچا دی ہے ۔
یہ بل ایک کھلا دھوکہ ہے۔ جسے قبول کرنے کا مطلب دشمنوں کے تمام الزامات قبول کرنا ہے۔ یہ بل کہتا ہے کہ پاکستانی فوج اورایجنسیاں سرحد پار دہشت گردتنظیموں کی مدد کرتی ہیں۔ یہ ایک بے بنیاد الزام ہے جو بل منظور ہونے کے بعد تسلیم شدہ جرم بن جائے گا۔
اس بل میں بھارت کایہ الزام بھی شامل ہے کہ جماعت الدعوہ کاتعلق القاعدہ سے ہے اوریہ تنظیم بھارت اورکشمیر میں دہشت گردی کررہی ہے۔ یہ بل منظور ہونے کے بعد بھارت کوتحفظ مل جائے گااور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے تمام مظالم دہشت گردی کے خلاف جنگ قرار پائیں گے ۔
اس بل میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے کئی علاقوں میں پاکستان کی عملداری نہیں ہے۔ یہ بل پاس ہو گیا تو کوئی بھی ملک ان علاقوں میں سرجیکل سٹرائیک کرسکے گا اور پاکستان کو اس پر اعتراض نہیں ہوگا کہ بل کے مطابق یہ علاقے پاکستان کی عملداری سے باہر ہیں۔
اس بل کاخلاصہ ہے کہ ڈیڑھ ارب ڈالرسالانہ کے عوض یہ پاک فوج پر بالادستی چاہتا ہے۔ امریکی فوج کو پاکستان میں مداخلت کا قانونی جواز فراہم کرتا ہے۔ پاکستان کو ایٹمی پھیلاﺅ کامجرم کہتاہے۔ کشمیری مجاہدین کی جدوجہد آزادی کو دہشت گردی بناتاہے۔ مریدکے اوربلوچستان میں آپریشن اور کوئٹہ پرڈرون حملے ضروری قراردیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فوجی قیادت نے یہ بل مسترد کردیا ہے اور عوام کی طرح میڈیا کی اکثریت اس بل کی مخالفت میں بول رہی ہے۔
سید منور حسن کے بقول یہ بل ہمارے ماتھے پر کلنک کاٹیکہ،پاؤں کی بیڑیاں اورہاتھوں کی ہتھکڑیاں بن جائے گا۔ایک انگریزی اخبار کے ایڈیٹر کے مطابق اس بل کامقصد پاکستان کی سلامتی کی ذمہ داری پاک فوج سے چھین کربھارت اورامریکہ کے حوالے کرنا ہے۔ ہماری حکومت یہ سب کچھ جانتی ہے لیکن وہ تالیاں بجانے میں مصروف ہے۔
جماعت اسلامی کے ریفرنڈم کامقصد دنیا کویہ بتانا تھا کہ پاکستانی عوام کیا سوچتے اور کیا چاہتے ہیں۔ جماعت اسلامی نے پیپلز پارٹی اورمسلم لیگ سمیت تمام جماعتوں کے کارکنوں کوریفرنڈم میں ووٹ ڈالنے کی دعوت دی تھی۔ جس کے ردعمل میں دونوں جماعتوں نے کیری لوگر بل کے حق میں بیانات دے کر امریکہ کوخوش کرنے کی کوشش کی۔ پیپلز پارٹی کا موقف سمجھ میں آتا ہے لیکن مسلم لیگ ن کاموقف نیرنگی سیاست دوراں کانمونہ ہے۔ایک دوست کا کہنا ہے کہ اب سمجھ میں آیا ہے کہ فرینڈلی اپوزیشن کیا ہوتی ہے۔ حکومت اوراپوزیشن دونوں ایک کشتی میں سوار امریکی مفادات کے بھنور میں ہیں۔ جوسب کچھ جانتے ہوئے بھی کچھ نہیں جانتے۔اس وقت قومی عزت زندہ رکھنا ایک بہت بڑی خدمت ہے اوراس خدمت پر جماعت اسلامی کے کارکن شاباش کے مستحق ہیں۔
2009,روزنامہ نوائے وقت اسلام آباد۔ نومبر5
No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.