جماعت اسلامی کوالیکشن ہارنے کاشوق کیوں ہے؟
ایک دوست نے بدھ کی شام بہت غصے میں فون کیا۔ وہ توقع کررہے تھے کہ این اے 55کے ضمنی الیکشن میں جماعت اسلامی کامیاب ہوگی۔ ان کے خیال میں دوسری جماعتیں آزمائی جاچکی ہیں۔ حکومت اوراپوزیشن دونوں امریکی کیمپ میں ایک ہی سکے کے دورخ ہیں اور اب کھرے کھوٹے کی پہچان واضح ہوچکی ہے ۔ اس لیے نتیجہ مختلف ہوگ۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ وہ خفا تھے کہ جماعت اسلامی حالات اورعوام کے موڈ کا درست اندازہ کیوں نہیں لگاسکتی۔
ان سے عرض کیا کہ دن رات ہمارا واسطہ حالات اور رابطہ عوام سے ہے۔ ہمیں مقامی، قومی اورعالمی حالات وواقعات کااندازہ ہے۔ ہمیں ہارنے کاشوق نہیں۔ ہمیں جدوجہد کاشوق ہے۔ ہمارا کام عوام کودعوت دیناہے اورہمارے کارکنوں نے بھر پور انداز میں یہ فرض ادا کیا ہے۔ انہوں نے فون بند کرتے ہوئے کسی قدرسنبھل کر کہا کہ ٹھیک ہے ۔ لوگ جشن مناتے رہیں اور آپ بانگ دیتے رہیں۔
یہ ایک دوست کی سوچ نہیں ہے۔ بہت سے لوگ اسی قسم کے تبصرے کرتے ہیں۔ روزنامہ نوائے وقت کے اداریے میں بھی جماعت اسلای کو پالیسی پرنظرثانی کامشورہ دیا گیا ہے۔
جماعت اسلامی کے ناقدین اس حقیقت کونظر انداز کردیتے ہیں کہ جماعت اسلامی دوسری سیاسی جماعتوں سے بالکل مختلف ہے۔ اسے پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ کے پیمانے پر ناپ اورتول کر نہیں سمجھاجاسکتا۔
جماعت اسلامی کے کارکنوں کے لیے درس قران مہم کی طرح الیکشن مہم بھی ایک عبادت اورجہاد ہے ۔ جماعت اسلامی اور طالبان طرز کی جماعتوں میں بھی یہی بنیادی فرق ہے کہ ہم کسی اور طریقے کی بجائے صرف عوام کی واضح تائید اورووٹ سے اسلامی نظام کا نفاذ چاہتے ہے۔
جماعت اسلامی ایک دستور اورمنشور کانام ہے۔ آئینی طور پرہمارے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ ہم عوام کی تائید حاصل کرنے کے لیے جمہوری جدوجہد کریں۔ ہماری کامیابی اپنے اسی طے شدہ راستے پر چلنے میں ہے۔
اس ضمنی انتخاب کا نتیجہ جیسے بھی رہا ہو۔ جمہوریت کے لیے ہمارے کارکنوں کی پرخلوص جدوجہد ضائع نہیں جائے گی۔ کارکنوں نے محنت سے، مثبت انداز میں، بھرپور اور کامیاب انتخابی مہم چلائی ہے۔جس پر کارکنوں کوشاباش ہے ۔
کارکنوں نے ووٹ کے لیے گھر گھر دستک دی ۔ اپنی جیب کے ایثار سے انتخابی مہم چلائی۔ گلی محلے میں پیغام کے لیے بینرز اورپوسٹرز لگائے ۔ ہربستی میں عوامی اجتماعات کرکے اپنا موقف صراحت سے پیش کیا۔ جماعت اسلامی کے کارکن کسی محاذ پر پیچھے نہیں تھے لیکن حکمران کلب نے انتخابی عمل سے عوام کااعتماد ختم کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رہنے دی ۔
ہرالیکشن کے بعد دھاندلی کا الزام ایک روایت سمجھا جاتا ہے لیکن اصل روایت تودھاندلی ہے۔ اس الیکشن میں بھی کارپردازان حکومت نے پوری شان وشوکت سے فاؤل پلے کی یہ روایت نبھائی ہے۔
دن بھر کی ٹرن آؤٹ اور سرکاری نتائج میں زمین آسمان کافرق ہے۔ صبح سے شام تک ویران رہنے والے پولنگ اسٹیشنوں سے مسلم لیگ ن کے امیدوار کے حق میں یکدم ہزاروں ووٹ نکلنا سرکاری مشینری کا حیرت انگیز کرشمہ ہے ۔
پولنگ اسٹیشنوں میں خفیہ ایجنسیوں کے لوگ موجود تھے۔ اورپولیس نے صحافیوں کوووٹوں کی گنتی کاعمل دیکھنے کی اجازت نہیں دی۔ پولنگ ختم ہوتے ہی تین گھنٹوں میں250 پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج بنا کردیکھتی آنکھوں کو دھوکہ دیا گیا ۔
گنتی سے قبل تما م ٹی وی چینلز ٹرن آؤٹ کم ہونے کی خبردے رہے تھے۔ الیکشن کاجائزہ لینے والے ایک نجی ادارے فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک FAFEN کے مطابق ٹرن آؤٹ 25 فی صدسے کم تھا ۔
الیکشن آفیسرز کی طرف سے میڈیا کوجاری کئے جانے والے ابتدائی اعدادوشمار کے مطابق مسلم لیگ ن کے امیدوار نے 77309ووٹ حاصل کئے۔ رات گیارہ بجے ٹی وی چینلز پر یہی Ticker چل رہا تھا ۔اس طرح ملکی تاریخ میں پہلی بار ایک ضمنی انتخاب میں جنرل الیکشن سے زیادہ ووٹ ڈال دئے گئے۔اس حساب سے ٹرن آؤٹ 50فی صد تک پہنچ گیا۔
یہ بات ناقابل یقین ہے کہ آخری گھنٹے میںٹرن آؤٹ نے اتنا بڑا جمپ لگایا کہ 12فی صد لوگ ووٹ پول کرنے آگئے۔
رات گیارہ بجے کے بعد یہ فگرتھوڑا نیچے کرکے بتایا گیا کہ مسلم لیگ ن کے امیدوار نے 70ہزار ووٹ حاصل کئے ہیں اور صبح ہونے تک حکومت اپنے ووٹوں میں مزید کمی کرتے ہوئے 63 ہزار پر آگئی۔
ایک امیدوار کے مطابق پنڈی ہار گیا اورپنجاب پولیس جیت گئی ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ پنڈی والے اتنی آسانی سے ہار ماننے والے نہیں ہیں۔
مسلم لیگ ن کے کارکنوں کا دعوی ہے کہ ووٹ میاں نواز شریف کے نام پر ملے ہیں۔ ہمارے خیال میں اس حلقہ سے شیخ رشید کی بار بار فتح وشکست میں سب کے لیے پیغام ہے کہ سیاست میں کوئی ناقابل تسخیر نہیں ہوسکتا۔ حالات بدلنے سے واقعات بدل جاتے ہیں ۔ہمارا کام جدوجہد میں لگے رہناہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.