عید خوشی اور محبت کا دن ہے۔
میٹھی عید سے ہرچیز میں مٹھاس آجاتی ہے۔
ہرچہرے پر ایک ہی رنگ،مسکراہٹ، خوشیاں اورعید مبارک۔
کھلے میدانوں میں نماز کے اجتماعات ہماری یکجہتی اورقوت ظاہر کرتے ہیں۔
ہمیں سبق ملتا ہے کہ اسلامی معاشرے کی روایت مل جل کرخوشیاں منانا ہے۔
نئے لباس، کھانے پینے کا اہتمام،غریبوں کی امداد، بچوں کے لیے عیدی، خاندان کے سب افراد کااکٹھے ہونا، گلی محلے اورعزیزوں سے ملاقاتیں،کیک ،مٹھائی اورکھانے کی چیزیں بھیجنا، کہا سنا معاف کرنا، ناراض دوستوں کومنانا ،بچوں کے ہمراہ سیر کے لیے جانا، ایک دن کی تقریبات تین دن تک پھیل جاتی ہیں۔
جب سے پاکستان بنا ہے ہم63 عیدیں منا چکے ہیں۔ لیکن موجودہ حالات میں لوگ خوشی کیسے منائیں گے ۔ جناح سپر سے راجہ بازار تک دکانداروں کا شکوہ ہے کہ عید پھیکی جارہی ہے۔ اس بار شاپنگ کا وہ روائیتی زور نہیں ہے۔
عید کی تیاریوں پر ایک سرکاری ملازم کی گفتگو بہت طویل اور دردبھری تھی۔اس کاکہنا تھاکہ "جس شخص کی جیب خالی ہو ،اس کے لیے عید پرخوش ہونا بہت مشکل ہے۔اگرچہ ماہ رمضان تنگدستی میں گزرا پھر بھی میرے گھر میں یہ برکتوں کامہینہ تھا کہ بیٹی اوربیٹا اچھے نمبروں سے پاس ہوئے۔ بیٹے نے الیکٹریکل سائنس کے لیے اردو یونیورسٹی میں داخلہ لیا توجو کچھ گھر میں تھا ،سب جمع کرکے فیس ادا کی۔ اب بیٹی نے ایم اے فزکس میں داخلہ لیا ہے۔ پڑوسیوں سے پیسے ادھار لے کرفیس پوری کی ہے۔ بچوں کی تعلیم پر خوش ہوں لیکن قرض سے پریشان ہوں۔حال اس بڑھیا جیسا ہوگیا ہے جس کی ایک آنکھ روتی ہے، دوسری "ہنستی ہے۔
وہ اپنی پریشانی کے اظہار میں بولتا جارہا تھا کہ " ڈیوٹی پوری محنت سے کرتا ہوں لیکن تنخواہ اتنی ہے کہ گذارہ نہیں ہوتا۔ ہر آنے والا دن گذرے ہوئے دن سے زیادہ مشکل ہورہا ہے۔ پہلے پہل مہینے کے شروع میں دن اچھے گذرتے تھے۔ صرف آخری دنوں میں پریشان ہوتی تھی۔اب مہینے کے آغاز ہی میں تنخواہ ختم اورپریشانی شروع ہوجاتی ہے۔ جس کے نتیجے میں ہم میاں بیوی ذہنی مریضوں بن رہے ہیں۔ شوگر بھی ہوگئی ہے۔ بلڈ پریشر بھی ہائی رہتا ہے۔ نیندکی گولیاں بھی مہنگی ہورہی ہیں۔ دوچھوٹے بچے ابھی چھوٹی "کلاسز میں ہیں لیکن وہ اپنی عمر سے بڑے سوال کرنے لگے ہیں۔جن کاجواب ہمارے پاس نہیں ہے۔
یہ ایک سرکاری ملازم کا نوحہ نہیں ہے۔ پوری قوم بین کررہی ہے لیکن کوئی سننے والا نہیں ہے۔ اسلام آباد میں ایک شاہ صاحب کا تصوف سے لگاؤہے۔ وہ سب کے لیے دعا کرتے ہیں۔ ہرسائل کویقین دلاتے ہیں کہ آپ کی فریادیں سننے والا اوپر موجود ہے۔ وہ لوگوں کوصبراور قناعت کی تلقین کرتے ہیں اوراچھے وقت کاانتظار کرنے کے لیے کہتے ہیں لیکن بھوکے پیٹ انتظار کرنے والی کراچی کی کتنی خواتین آٹے کے لیے ہاتھ پھیلاتے ہوئے رزق ِخاک ہوگئیں۔ اس گلوبل ویلیج کے زمانے میں ٹی وی سکرین پرہمارے ملک کا یہ حال دیکھ کردنیا ہمارے اورہمارے حکمرانوں کے بارے میں کیا سوچتی ہوگی۔ منو بھائی کی نظم یاد آتی ہے۔جس میں وہ حیران ہوکرسوال کرتے ہیں کہ قیامت ابھی نہیں آئی؟
یہ قیامت کی نشانیاں ہیں کہ پاکستان میں لوگ زندگی پر موت کوترجیح دینے لگے ہیں۔ اخبار میں خبر آتی ہے کہ مامتا نے غربت سے تنگ آکر بچے نہر میں پھینک دیے ہیں تو پوری خبر پڑھنے سے پہلے آنکھیں آنسوؤں سے دھندلا جاتی ہے۔محسوس ہوتا ہے کہ آج قیامت کادن ہے۔
ہمیں اس بات کاجائزہ لینا ہوگا کہ ہماری یہ حالت کیوں ہوگئی ہے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث مبارکہ ہے کہ چاند رات" لیلة الجائزہ" ہوتی ہے۔ علماءفرماتے ہیں کہ اس رات اپنی کارکردگی کا سالانہ تنقیدی جائزہ لینا چاہئے۔ کچھ عرصہ قبل تہران کے ایک سمینار میں شرکت کاموقع ملاتھا۔ وہاں ایک بزرگ نے اپنے مقالہ میں کہا کہ" ماہ رمضان اورعید کاسب سے بڑا درس خودسازی ہے کہ انسان اپنے کردار اوررفتار پر تنقیدی نظر ڈالے۔ اپنے عیوب واضح طور پر باریک بینی سے دیکھے۔ یہ وہ کام ہے جو کوئی دوسرا نہیں "کرسکتا،صرف ہم خود ہی کرسکتے ہیں۔
اس مقالے کامخاطب حکمران اورعوام دونوں تھے۔
جہلم کے ایک بہت بڑے عالم دین بیرون ملک یونی ورسٹی میں پڑھاتے ہیں۔ اپنے ملک اورعوام کے بارے میں ان کاموقف بہت سخت ہے۔ وہ چارباتیں فرماتے ہیں کہ
ہم نے دین کومساجد اور خانقاہوں تک محدود کرلیا ہے۔جس کی وجہ سے ہماری انفرادی زندگی کسی حد تک دین پر اوراجتماعی زندگی مکمل طور پر حالات کے رحم وکرم پر ہے۔
ہماری تجارت کی بنیاد خدمت کی بجائے منافع پر ہے۔ جس کی وجہ سے غربت بڑھ رہی ہے۔
سیاست کی بنیاد انصاف اورخیر خواہی کی بجائے کرپشن اورچالاکی پر ہے۔جس کی وجہ سے ملک پر کرپٹ اور چالاک لوگوں کاقبضہ ہوگیا ہے اور ہرطرف ناانصافی کا دوردورہ ہے۔
چونکہ کرپٹ حکمران بزدل اورخوشامدی ہوتے ہیں۔ اس لیے ہماری قومی پالیسیاں بزدلی اورکاسہ لیسی پر مبنی ہیں۔
ایک بار ان سے شکوہ کیا کہ آپ ہمیشہ مایوسی کی بات کیوں کرتے ہیں۔ تو انہوں نے فرمایا کہ پاکستان کی ضرورت ایسے حکمران ہیں جو عوام میں سے ہوں اورعوام کی طرح ہوں۔ جس دن ایسا ہوجائے گا۔ وہ ہماری عید کادن ہوگا۔ ہم مایوسی کی بات نہیں کرتے۔ ہم درپیش صورتحال کی بات کرتے ہیں۔ سارے مسائل کی جڑ یہ ہے کہ ہم میں عمل کا فقدان ہے۔ا گر ہم اپنی غربت، مسائل اوربے سروسامانی کے باوجود اللہ کی راہ میں نکل کھڑے ہوں اور اپنے اور ملک کے حالات بدلنے کی کوشش کریں تو پھر علامہ اقبال نےفرمایا ہے کہ ہم فضائے بدر پیدا کریں تو آج بھی ہماری نصرت کے لیے فرشتے قطاریں بنا کراتریں گے۔ ورنہ عید آئے گی اورہماری غربت ،بے بسی اوربے حسی دیکھ کر ہلال ِعید ہماری ہنسی اڑائے گا۔
پیام عیش وعشرت ہمیں سناتا ہے
ہلالِ عید ہماری ہنسی اُڑاتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
24 Sep 2009
No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.