میں روزے سے ہوں


میں روزے سے ہوں



رمضان المبارک ایسے حالات میں شروع ہوا ہے کہ پاکستان بہت سے مسائل سے دوچار ہے۔ کچھ مسائل دنیا کے حالات کی وجہ سے ہیں۔ کچھ عالمی طاقتوں کی سازشوں کا نتیجہ ہیں لیکن کئی مسائل ایسے ہیں جنہیں ہم نے خود پیدا کیا ہے۔

روزے اسلامی معاشرہ کا حسن ہیں لیکن اسلامی ماحول نہ ہو تو عبادات محض ایک رسم اوردکھاوا بن کر رہ جاتی ہیں۔

ایک وقت تھا کہ پنجاب میں لوگ نمک یا کھجور سے روزہ افطار کرتے ،کھانا کھاتے اور پانی پیتے تھے۔ اب ہمارا لائف سٹائل بدل گیا ہے۔ہرگھر میں حسبِ استطاعت افطاری ایک تقریب بن گئی ہے۔ پکوڑے، سموسے، قیمہ رول، چاٹ، دہی بھلے،پھل، مشروبات سب کچھ درکار ہے۔ افطاری کادسترخوان اتنا بڑا ہو گیا ہے کہ اس کے بعد کھانے کی گنجائش نہیں رہتی۔

اسلام نے سادگی کادرس دیا ہے لیکن ہمارا معاشرہ تضادات کا معاشرہ ہے۔ا یک طرف چند لوگوں کے گھر میں کھانے کے انبار ہیں اوردوسری طرف کروڑوں عوام کے لیے اتنی غربت ہے کہ کئی گھروں میں روٹی پکانے کے لیے آٹا نہیں ہے۔

روزے برکت کا باعث ہیں لیکن مہنگائی نے عجب صورتحال پیدا کر دی ہے۔ ہر چیز مہنگی ہے۔ ماہ مقدس میں مہنگائی اور ہر گھر کا خرچ دونوں ساتھ ساتھ بڑھتے ہیں۔اخراجات کا ایک بوجھ ہے جوکسی اٹھانے والے سے نہیں اٹھتا۔ ان دنوں چوراہوں پر چینی اور آٹے کے ٹرکوں پرغریب لوگوں کی قطاریں ہیں۔ گھنٹوں قطار کے بعد کنٹرول ریٹ پر آٹے کا ایک توڑا حاصل ہوتا ہے۔یہی حال یوٹیلٹی سٹورز کاہے ۔ طویل انتظار اورلمبی قطار کا مرحلہ طے کرنے کے بعد شناختی کارڈ دکھا کر کنٹرول ریٹ پر دوکلو چینی مل رہی ہے۔ حکومت کے اس انتظام میں عوام کی سہولت اوررسوائی دونوں کا اہتمام ہے۔ سفید پوش اور ملازمت کرنے والوں کے پاس قطار اورانتظار کی سکت اور ٹائم نہ ہو تو کیا کریں۔

عوام سمجھتے ہیں کہ حکمران چاہیں تو ہر دکان سے سستی چینی اور آٹا دستیاب ہوسکتا ہے۔ اصل مسئلہ سپلائی کاہے اورسپلائی کرنے والی حکومت ہے، جس میں افسر بھی ہیں اورسیاست دان بھی ہیں۔ پاکستان کی مارکیٹ حکومت کے ہاتھ کنٹرول کرتے ہیں۔ حکومت میں شامل ایک قسم کے لوگ چینی اور آٹے سے مال بنا رہے ہیں اوردوسری قسم کے لوگ کنٹرول ریٹ پر چینی اور آٹا فروخت کر کے سیاسی کارکردگی بہتر بنا رہے ہیں۔

گذشتہ سے پیوستہ رمضان المبارک میں چوہدری پرویز وزیراعلیٰ تھے ۔ ان کاموقف تھا کہ پنجاب کاآٹا ترکمانستان، افغانستان اورایران میں بک رہا ہے۔ وفاقی حکومت کے لوگ ذاتی مفاد کے لیے آٹے، سوجی اور میدے کے کنٹینرز باہر جانے دیتے ہیں ۔اب میاں شہباز وزیراعلیٰ ہیں لیکن آٹے کا بحران روایت بن گئی ہے۔

پاکستان کا شماردنیا کے ان ملکوں میں ہوتا ہے جہاں سیلز ٹیکس بہت زیادہ ہے۔اس کے بعد منڈی میں آنے والی ہر چیز پر مارکیٹ فیس بھی ہے۔ جس کے نتیجے میں ہر چیز کی قیمت دگنی ہے۔ علماء کرام فرماتے ہیں کہ رمضان میں ہرکام کا ثواب کئی گنا ہوتا ہے۔ عوام کہتے ہیں کہ رمضان میں ہرچیز کی قیمت کئی گنا ہوتی ہے۔ یہ حکمرانوں کی طے شدہ پالیسی ہے کہ عوام کو روٹی کے چکر سے باہر نہ آنے دیا جائے اورانہیں غربت کی دلدل میں ڈال کر اتنا حواس باختہ کردیا جائے کہ وہ ملکی حالات کے حوالے سے کچھ سوچنے اور کچھ کرنے کے قابل نہ رہ جائیں۔

راولپنڈی میں ہمارے دوست صاحبزادہ عبدالنعیم کا شکوہ ہے کہ روزے میں لڑائی جھگڑے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں۔ مہنگائی کے ستائے اور روزے کے بھوکے پیاسے عوام آپس میں الجھتے رہتے ہیں۔ سہ پہر کے وقت ٹریفک کی افراتفری اور تلخ کلامی کے واقعات ایک معمول ہیں۔

اسی طرح اسلام آباد کے ایک دوست ڈاکٹر تہذیب الحسن کا تجربہ ہے کہ ہمارے ہاں روزے کی وجہ سے کام نہ کرنے کا رواج ہے۔ دفتروں میں لوگ اونگھتے رہتے ہیں کہ نیند پوری نہیں ہوئی ۔ سائلین سے معذرت کرتے ہیں کہ مجھے پریشان نہ کرو،میرا روزہ ہے۔ کام نہ کرنے کی دلیل یہ ہے کہ روزے میں کمزوری سے زیادہ کام نہیں ہوسکتا۔ دوردراز سے آنے والے سائل پریشان ہوتے ہیں۔





اس صورتحال پر ضمیر جعفری مرحوم نے ایک غزل لکھی تھی کہ

مجھ سے مت کر یار کچھ گفتار، میں روزے سے ہوں
ہو نہ جائے تجھ سے بھی تکرار، میں روزے سے ہوں

 
اسلام نے انسان کی زندگی کوآسان بنایا ہے لیکن ہم ناسمجھی سے اپنی زندگی مشکل بنا لیتے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ ہم اجتماعی سوچ سے محروم ہیں۔ ایک دوست کا خیال ہے کہ ہم کسی بھی سوچ سے محروم ہیں۔ جماعت اسلامی کاموقف ہے کہ اسلام سب کے لیے سلامتی اورعدل وانصاف کادین ہے۔ اسلام کی برکات سے فائدہ اٹھانے کے لیے ہمیں سلامتی اورعدل وانصاف کا نظام قائم کرنا ہوگا۔ اسی کے نتیجے میں ہم ایک قوم بن سکتے ہیں۔ ایک مسلمان کی حیثیت سے ہمارا فرض ہے کہ سب سے پہلے اپنی ذاتی زندگی میں ایک دوسرے سے انصاف کریں اور اس کے بعد انصاف کرنے والے حکمران لانے کی جستجو کریں۔

( 31 اگست2009 روزنامہ نوائے وقت راولپنڈی)




No comments:

Post a Comment

Note: Only a member of this blog may post a comment.


میرا نصب العین اسلامی نظام زندگی اور اللہ تعالیٰ کی رضا کاحصول ہے اور زندگی میں کامیابی کے لئے اخلاق، دیانت ،خدمت اورجرٲت پر یقین ہے۔