یہ زمین مادروطن ہے اسے غیروں کے ہاتھ نہ بیچو

  19 sep2009
نوائے وقت اسلام آباد
یہ زمین،    مادر وطن ہے،    اسے غیروں کے ہاتھ نہ بیچو

ایک نیا کھیل شروع ہوگیاہے ۔
پاکستان کی پانچ  لاکھ ایکڑ زمین فروخت کی جارہی ہے۔ یہ ہانگ کانگ کے کل رقبہ سے دگنی ہوگی۔
 دوسرے لفظوں میں ہم پاکستان کے اندر ہانگ کانگ سائز کے دوملک فروخت کرنے والے ہیں۔ اس زمین کاخریدار ایک مسلم دوست ملک ہے۔عید کے بعد معاہدے پر دستخط ہوں گے۔ دوست ملک اس زمین کی حفاظت کے لیے اپنی سپیشل سیکورٹی فورس لائے گا۔ اس کے لیے وہ پاکستا ن کے چاروں صوبوں میں زمین خریدناچاہتا ہے۔



اس وقت دنیا میں فوڈ اورانرجی کرائسس ہے اور انسانی خوراک کابنیادی ذریعہ زراعت ہے ۔ جس سے امیر ملکوں کے ہاتھوں زرعی ممالک کی شامت آ گئی ہے۔ہ ونا تو یہ چاہئے تھا کہ پیداوار بڑھانے میں زرعی ملکوں کی مدد کی جاتی لیکن دنیا بہت میٹریلائز ہوگئی ہے۔ بڑے ملکوں کی ایگری بزنس کمپنیوں کی پالیسی پیداوار بڑھانے کی بجائے زمین خریدنا ہے۔



پاکستانی وزارت زراعت کے ریجنل ڈائریکٹر توقیر احمد فائق نے میڈیا میں وضاحت کی ہے کہ ہم یہ زمین 99سال کی لیز پر دیں گے۔عید کے بعد غیر ملکی وفد زمین دیکھنے آئے گا اور ڈیل فائنل ہوگی۔ وزارت زراعت کے مطابق اس کے علاوہ بھی کئی ملکوں نے زمین خریدنے کی پیش کش کی ہے ۔ جس پر غور ہورہا ہے۔اقوام متحدہ نے زمین کی اتنی بڑی فروخت کواہمیت دیتے ہوئے ایک بیان میں کہا ہے کہ امیر ممالک کوزمین فروخت کرنے والے اپنے کسانوں کے حقوق کاخیال رکھیں۔



اس سودے پر ہماری حکومت بہت خوش ہے کہ پاکستان کوایک بڑی رقم اورپاکستانیوں کو روزگار ملے گا۔ایک سرکاری افسر خوشی سے چلا رہا تھا کہ ہم روزگار کے لیے وہاں جاتے تھے ۔اب وہ یہاں آرہے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کون آرہاہے۔ کیا صرف دوست یا ان کے پردے میں کوئی اورہے۔ اس معاہدے میں زمین کا سیکورٹی سسٹم شامل ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ ہمارے دوست کی صنعت وتجارت اورسیکورٹی کے ٹھیکے ایک عالمی طاقت کے پاس ہیں۔
عالمی طاقتوں کی دوستی اور دشمنی کی منزل ان کے مفادات ہیں۔ وہ انسانی حقوق کا منشورا یک طرف رکھ کر کسی پر آگ برساتے ہیں اور کسی کوشاہی تحت پربٹھاتے ہیں۔



ایک صحافی کاتجزیہ ہے کہ اسلام آ باد میں 56ایکٹر کاسفارتی قلعہ، ملحقہ سیکٹروں میں2سو مکانات، تربیلا،کراچی اورپشاور کے نوگوایریاز ، بلیک واٹرز کی بھرتی، پشاور میں امریکی فوجی ہیڈکوارٹر کے لیے فائیو سٹار ہوٹل کی خریداری اور چاروں صوبوں میں زرعی زمین کی لیز سے آٹے اورچینی کے لیے لائن لگوانے تک ایک ہی تھیوری کام کررہی ہے کہ جوملک اپنے عوام کوآٹے اورچینی کے لیے ڈنڈے ماررہاہے وہ اپنے ایٹمی اثاثوں کی حفاظت کیسے کرے گا۔ان کے خیال میں زمین کی فروخت بہت بڑی غلطی ہوگی۔ یہ ٹیک اوور جیسامعاہدہ ہے ۔اگر زمین بیچنا اچھا ہے تو ہمارا دوست ملک بھی اپنی کچھ زمین ہمیں فروخت کرے۔



ہماری زرعی زمین میں اتنی کشش ہے کہ خریداروں کارش لگ گیا ہے تو اس زمین پر ہم خود بہترکاشتکاری کیوں نہیں کرسکتے۔ زراعت شروع دن سے ایک سائنس اورآرٹ ہے۔ دنیاکے 42فی صد مزدوروں ک اتعلق زراعت سے ہے۔ ہماری آدھی سے زیادہ آبادی نسل در نسل زرعی سائنس اورآرٹ کی ماہر ہے۔ ان میں عورتیں اورمرد دونوں شامل ہیں۔ پنجاب میں کھیتی باڑی ایک فیملی ورک، روایت اورثقافت ہے لیکن زرعی زوال کے باعث ہمارے کسان شہروں میں کلرک اور قاصد کی نوکریاں تلاش کرتے ہیں۔



پاکستان کے ابتدائی دور میں قومی آمدنی میں زراعت کاحصہ پچاس فی صد تھا جو اب صرف بیس فی صد ہے۔اس کے باوجود پاکستان کی پیداوار پورے براعظم افریقہ سے زیادہ ہے اورہمارا آبپاشی کانظام روس سے تین گنا بڑا ہے ۔اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان زرعی پیداوار کے ٹاپ ٹین ممالک میں شامل ہے ۔ جن اشیاء میں ہم عالمی نمبر1 سے ٹاپ 10 تک کی پوزیشن میں ہیں ۔ان میں تازہ دودھ، سفیدچنا، کاٹن، پیاز، مصالحے، کھجور، مرچ، گنا، دالیں، گندم، سبزیاں، خوبانی، مالٹے ،آم، ڈرائی فروٹ، کسٹرآئل اورتمباکو جیسی قیمتی فصلیں ہیں ۔ ایگری مارکیٹ میں پیداوار سے زیادہ کوالٹی کی قیمت ہے۔ زرعی کوالٹی میں بھارت اورپاکستان دونوں نمبر ون ہیں۔



 ماہرین کے مطابق پاکستان کے پاس دنیا کی بہترین زرعی زمین ہے ۔ جسے انگریزوں نے سونے کی چڑیا کہا  اوریہاں سب سے زیادہ انویسٹمنٹ زراعت پرکی ۔ پنجاب میں نہری نظام بنایا اورفصلیں برطانیہ لے جانے کے لیے ریلوے برانچ لائنوں کاجال بچھایا اور پنجاب کواناج گھر کانام دیا۔ قدیم کہاوت ہے کہ پنجاب سے آدھی دنیا کی غذائی ضروریات پوری ہوسکتی ہیں۔



ایک ذاتی تجربہ ہے کہ جب زراعت میں ایم ایس سی کرنے کے بعد ایک بڑے قومی زرعی فارم میں سرکاری افسر کی حیثیت سے ملک وقوم کی خدمت کاموقع ملا تو اس فارم میں کم پانی اورکم وقت میں زیادہ پروڈکشن کا کامیاب تجربہ کیا۔ اس ماڈرن پریکٹس سے اتنی پروڈکشن ہوئی کہ غیر ملکی ماہرین پریشان ہوگئے ۔آج بھی منٹگمری ساہیوال کے علاقے میں مکئی کی تین فصلیں ہوتی ہیں۔ یہ پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ یہاں چار موسم ہیں اور خط استوا پر ہونے کی وجہ سے یہاں سورج چمکتا ہے جس کی بدولت یہاں ایک سال میں مختلف اقسام کی کئی کئی فصلیں کاشت ہوسکتی ہیں۔



برصغیر کی تقسیم کے بعدحکومت نے زراعت پررقم خرچ نہیں کی۔ ریسرچ، مشینری اورماڈرن ایگر ی ٹیکنالوجی سے استفادہ نہیں کیا گیا۔ جس کے نتیجے میں ہماری فی ایکڑ پیداوار بہت کم ہے ۔ اب یہ کمی ایک امیر دوست پوری کرے گا۔ وہ پاکستان کا ایک حصہ خرید کر جدید زراعت سے فصلیں ، سبزیاں اورپھل کاشت کرکے اپنے ملک لے جائے گا اوراپنی ضروریات کے بعد باقی پیداوار عالمی منڈی میں فروخت کرکے منافع کمائے گا۔ یہ کارپوریٹ ایگری بزنس کی نئی دنیا ہے۔جو تیل کے بعد سب سے بڑا ذریعہ آمدنی ہے۔



ایک ریٹائرڈ افسر کاکہنا ہے کہ اگر ہم زمین بیچنا شروع کردیں تو اس آمدنی سے کتناعرصہ گذارہ کریں گے۔ان کے اندازے کے مطابق پاکستان کو پانچ لاکھ ایکٹرزمین کے عوض پانچ بلین ڈالرز ملیں گے۔ یہ کتنے دن چلیں گے۔لائل پوریا فیصل آباد کے ایک چوہدری صاحب نے اپنی زمین کے ٹکڑے بیچنا شروع کردیےتھے ۔ جس سے وہ اپنی زندگی میں خوشحال ہوگئے۔ جس کے بعد ان کی زمین ،خوشحالی او زندگی کااختتام ایک ساتھ ہوا ۔ اب لاری اڈے پران کی اولاد بوجھ اٹھاتی نظر آتی ہے۔ ہم نے پاکستان کی زمین فروخت کردی تو آنے والی نسلیں ہماری قبروں کے کتبوں پر کیا لکھنا پسند کریں گی۔



ہمارے عوام کی سوچ حکومت سے مختلف ہے۔ عوام کے خیال میں یہ ملک فروخت کرنے اورلیز پردینےکے لیے کموڈیٹی نہ سمجھا جائے۔یہ ملک لیز پردینے کے لیے نہیں بنایا گیا۔ یہ مادروطن ہے اورہماری لوک شاعری میں زمین کوماں کہا  گیا ہے۔



ہمارے پاس یہ آپشن موجود ہے کہ ہم اپنے دوستوں سے زمین کی بجائے فصلوں کے معاہدے کرلیں ۔ وہ پیداواری صلاحیت
بڑھانے کے لیے انویسٹ کریں اور ہماری زرعی ترقی سے فائدہ اٹھائیں۔  ہماری زمین ہمارے عوام کاپیٹ بھرے اوراضافی پیداوار دوست ملک خرید لے ۔ اس میں دونوں کافائدہ ہوگا لیکن یہاں صورتحال یہ کہ 

ہرشاخ پر الّو بیٹھا ہے

انجام گلستاں کیا ہوگا



۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



















































No comments:

Post a Comment

Note: Only a member of this blog may post a comment.


میرا نصب العین اسلامی نظام زندگی اور اللہ تعالیٰ کی رضا کاحصول ہے اور زندگی میں کامیابی کے لئے اخلاق، دیانت ،خدمت اورجرٲت پر یقین ہے۔