اسلام آباد میں امریکی پیش رفت

زمین خریدی ہے ۔ اس پر83 ارب روپے سے عمارتیں بن رہی ہیں۔یہ دنیا میں امریکہ کا دوسرا سب سے بڑاسفارت خانہ ہوگا۔ اس وقت عراق کا سفارت خانہ سب سے بڑا ہے۔جو ایک مکمل ملٹری کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر ہے۔

حکومت پاکستان کی طرف سے امریکی سفارت خانہ کو 350افراد تک عملہ رکھنے کی اجازت ہے لیکن موجودہ تعداد750ہے ۔ اس میں میرین فوجی بھی شامل ہیں۔

اب کہا جارہا ہے کہ مزید میرین فوجی اور سینکڑں Dyncorp بکتر بند گاڑیاں منگوانے کے لیے حکومت پاکستان سے بات چیت ہورہی ہے۔جس کی کسی بھی عالمی اورمقامی سفارتی قانون میںگنجائش نہیں ہے۔

سندھ ہائی کورٹ میں ایک وکیل نے آئینی درخواست دائر کی ہے کہ اسلام آباد کے امریکی سفارت خانہ میں فوجی رہائش گاہوں کی تعمیر روکی جائے کیونکہ ڈپلومیٹک اینڈ قونصلر پریولیج ایکٹ مجریہ 1972کے مطابق کسی سفارت خانہ میںفوج نہیںرکھی جاسکتی اور ویانا کنونشن 1961 ڈپلومیٹک ریلیشنز کے مطابق بھی کوئی سفارت خانہ فوجی مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہوسکتا۔

عام پاکستانیوں کاخیال ہے کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں تک رسائی کے لیے امریکی سفارت خانہ میں زبردستی توسیع کی جارہی ہے۔بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ امریکہ اورچین کے درمیان سرد جنگ کاآغازہے۔ سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمدخان کے مطابق امریکہ یہاں بیٹھ کر پورا خطہ ریمورٹ کنٹرول سے چلاناچاہتا ہے۔

امریکہ کیا کرنا چاہتا ہے ۔اس کااندازہ ان واقعات سے لگایا جاسکتا ہے کہ حال ہی میں امریکی سفارت خانے نے ا سلام آباد میں کئی رہائشی بنگلے کرائے پر حاصل کئے ہیں۔جن میںمشکوک سرگرمیوں پر اسلام آباد کے کئی شہریوںنے احتجاج کیا ہے۔

جب میریٹ دھماکہ میں امریکی میرین کے مرنے ،زخمی اورفرارہونے کی خبریں آئیں تو مرزا اسلم بیگ نے بیان دیا تھا کہ اب ڈرون طیارے تربیلا سے کنٹرول ہوتے ہیں۔ تربیلا کی حقیقت یہ ہے کہ گذشتہ سال 300امریکی اہلکار ٹریننگ کے سلسلے میں تربیلا آئے تھے۔یہاں امریکہ نے کئی مربع کلو میٹر قطعہ اراضی خریدا ہے۔جس میںامریکی کنٹینرز رکھے گئے ہیںاورکسی پاکستانی کویہاںجانے کی اجازت نہیں ہے۔

یہ صورتحال اسلام آباد اورتربیلا تک محدود نہیں ہے۔کراچی کے اخبارات کے مطابق کراچی کے امریکی سفارت خانہ میں سمندر کی طرف سے ہیلی کاپٹروں کی براہ راست آمدورفت کااہتمام ہے۔ پورٹ قاسم انتظامیہ کوامریکی سفارت خانے کے لیے آنے والے کنٹینرز چیک کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

اسلام آباد کے ایک سینئر صحافی نے اپنی ویب سائٹ پریہ رپورٹ شائع کی ہے کہ پشاور میں ایک این جی او کے دفتر سے امریکی سیکورٹی ایجنسی بلیک واٹر کوکنٹرول کیاجاتا ہے اور این جی اوز کے دفاتر میں سیکورٹی گارڈز کے نام پربلیک واٹرزکے اہلکار رکھے جارہے ہیں۔یہ خبربھی ہے کہ بلوچستان کے ساحل پر امریکی نیول بیس کے قیام کے لیے پاکستان نیول ہیڈکوارٹر سے حکومت صلاح ومشورہ کررہی ہے۔

اسلام آباد میں امریکی پیش رفت کاسلسلہ اب سٹرکوںتک پہنچ گیا ہے۔ مقامی اخبارات کی خبر ہے کہ ایک امریکی صاحب نے اسلام آباد کی سڑک پرہمارے ایک پولیس والے کوپیٹ ڈالا۔ اس واقعہ پر حکومت نے احتجاج کیا توچند روز بعد ایک دوسرے امریکی صاحب نے راہ چلتے ایک شہری کے ساتھ یہی واقعہ دہرادیا ۔

ابھی پاکستان سے امریکی طالبان کا خونی شو ختم نہیں ہوا کہ ایک نیا کھیل شروع ہوگیا ہے ۔اس کھیل کے مقاصد امریکیوں کے بیانات سے سمجھے جاسکتے ہیں۔ ان دنوں امریکی پالیسیوں پر شائع ہونے والی کتاب

War of Necessity, War of Choice

کاشہرہ ہے۔ کتاب کے مصنف سابق امریکی پرنسپل ایڈوائزر Richard N. Haass نے ابھی دوماہ قبل نیویارکر سے انٹرویو میں پاکستان کی پوزیشن پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ

" پاکستان کے خلاف جنگ ناگزیرہے۔میں ایک مکمل جنگ یا قبضہ کی بات نہیںکررہا لیکن ایک ملٹری آپریشن کاتصور کرسکتا ہوں۔"

اس صورتحال میں امریکی سفارت خانہ میں توسیع ہمارے اخبارات کے لیے فرنٹ پیچ سٹوری تھی لیکن نوائے وقت کے علاوہ کسی نے اسے اہمیت ہی نہیں دی ۔ نہ کسی ٹی وی چینل کے ٹاک شو میں کسی اینکر نے اس پربات کی اورنہ کسی حکومتی یا اپوزیشن رہنماءنے اس پر تشویش کااظہار کیا۔اس مسئلہ پر ہماری حکومت اوراپوزیشن دونوں خاموش اوربے بس نظر آتے ہیں۔

صرف جماعت اسلامی نے اپنی روایات کے مطابق اپنا جمہوری حق استعمال کرتے ہوئے عوام سے احتجاج کی اپیل کی ہے۔جماعت اسلامی کاموقف ہے کہ امریکی سفارت خانہ میں چھاﺅنی اور پاکستان میں بڑھتے ہوئے امریکی اثرورسوخ کے خلاف آوازاٹھانا ہر پاکستانی کاقومی فرض اورجمہوری حق ہے۔ احتجاج کا مقصد پاکستانی حکومت کوغیرت دلانا اور امریکہ کوپیغام دینا ہے کہ پاکستانی عوام امریکہ کی پاکستان پرقبضے کی خواہش کبھی پوری نہیںہونے دیں گے۔پاکستان کی حفاظت ہمار افرض ہے اورہم اپنافرض ادا کریں گے۔

روزنامہ نوائے وقت، اسلام آباد 17 اگست2009

٭٭٭٭٭

یہ کیسا یوم آزادی ہےإ

یہ کیسا یوم آزادی ہے کہ عوام کی آنکھوں میں آنسو ہیں۔ ہرگھر میں پریشانی کے سائے ہیں ۔ ہر نیا دن کنفیوژن اور مسائل میں اضافہ کررہا ہے۔ہمارے ملک کوکس کی نظرلگ گئی ہے کہ لوگ اخبار پڑھتے اورٹی وی دیکھتے ہوئے ڈرتے ہیں ۔ ہرروز ایک بُری خبر آتی ہے۔ عوام سوال کرتے ہیں کہ دنیا ترقی کررہی ہے۔ ہمارا ملک ترقی کیوں نہیںکررہا؟ اس کاسادہ سا جواب ہے کہ ہم اس لیے ترقی نہیںکررہے کہ ہم نے ترقی کاراستہ اختیار نہیں کیا۔
ہماری بربادی کی وجہ آئین سے انحراف ہے۔ آئین اورقانون کے بغیر کسی ریاست کا تصور نہیں کیاجاسکتالیکن ہمارے حکمرانوںنے کبھی آئین کی پابندی نہیںکی ۔اسلام آباد کچی آبادی کے ایک مسیحی بھائی جمیل کھوکھر کا شکوہ ہے کہ ہمارے ملک میں کوئی سسٹم ہی نہیں ہے۔
ہماری 62سال کی تاریخ یہ ہے کہ یہاں کبھی قانُون کی حکمرانی نہیں رہی۔ ہمیشہ حکمرانوں کاقانُون چلتا رہاہے۔ ماورائے آئین اور جوڑتوڑ سے حکمران بننے والے صرف ذاتی فائدہ دیکھتے ہیں۔ ان کی حکومت عوام کی حمایت کی بجائے کرپشن اور لاقانونیت کے پہیوںسے چلتی ہے۔اس لیے 62برسوں میںجس چیز نے سب سے زیادہ ترقی کی ہے وہ لاقانونیت اور کرپشن ہے ۔ہم نے ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ فوجی راج کے سائے میں 62سال گذار دیے ہیں۔آزادی کے وقت نظریہ پاکستان اورویلفیئر سٹیٹ کاجو خواب دیکھا تھا ۔ اس کی تعبیر ابھی تک حاصل نہیں ہوئی۔
یہ آزادی ہمیں مفت میںنہیں ملی ۔ اس راہ میںخون کا دریا تھا ۔ آزادی کے لیے بوڑھے اورجوان قربان ہوئے۔ ہمارے خاندان سمیت کتنے قافلے راہ ِ آزادی میں لٹے۔یہ داستانیں بیان کرنے کے لیے جگر تھامناپڑتاہے۔ ہم نے آزادی کی جنگ دوقومی نظریے کے تحت لڑی کہ ہم اللہ کی زمین پر اللہ کانظام نافذ کرسکیں۔ہم دنیا کے سامنے اسلامی ریاست کانمونہ پیش کرنا چاہتے تھے۔
آج غریب آدمی کا یوم آزادی صرف کیلنڈر پرہے۔عوام کی اکثریت غذا، صحت،تعلیم اوررہائش کی سہولتوں سے محروم ہے۔ قومی ادارے ناکامی سے دوچار ہیں۔عام شہری کے لیے بجلی، پانی،ٹرانسپورٹ اوررہائش کی سہولت ایک خواب بن گئی ہے۔ عوام کی حالت دیکھ کر دِل خُون کے آنسور وتا ہے۔ ہرشہری بے بسی کی تصویر ہے۔گذشتہ دنوں ایک ماںاپنے بچوں کے گلے میں برائے فروخت کاکتبہ لگانے پر مجبور ہوگئی۔ اخبارات کے مطابق ہر ماہ کہیںنہ کہیں کوئی ماں بھوک سے تنک آکربچوں سمیت خوکشی کرلیتی ہے۔لاہور جیسے شہر میں 12گھنٹے لوڈشیڈنگ ہے۔جس سے تنگ آکرصنعتی یونٹ اورکاروباری ادارے بندہورہے ہیں۔بے روزگاری بڑھنے سے ڈکیتیاں بڑھ گئی ہیں۔
الفلاح ہال میں ایک سماجی تقریب کے دوران ایک غریب مزدور نے اٹھ کر مقررین سے سوال کیا کہ مجھے بتایا جائے کہ پاکستان نے مجھے کیا دیا ہے؟وہ کسی جواب سے مطمئن نہیں ہوا۔ اگرلوگ تنگ آکر کہتے ہیں کہ انگریز کادور اچھا تھا تواس کے ذمہ دار وہ حکمران ہیں جو62سال سے مختارکل ہیں۔
ہمارے پاس 8لاکھ مربع میل کاعلاقہ ہے ۔جس میں 60فی صد قیمتی پہاڑ ی علاقہ ہے ۔ تھل میں اتنا کوئلہ ہے کہ 4سوسال کے لیے بجلی پیدا ہوسکتی ہے۔ہمارا ملک خط استواپر ہے جہاں روزانہ 14گھنٹے سورج چمکتا ہے۔زراعت کے لیے 4موسم ہیں۔ بلندی سے نشیب کی طرف بہنے والے دریا اور سونا اگلتے دنیا کے بہترین زرعی میدان ہیں۔17کروڑ عوام محنت کے لیے موجود ہیں۔60فی صدسے زیادہ کھیتی باڑی جانتے ہیں۔ پاکستان گرم پانیوں کاملک ہے۔جس کے سمندر میں چوبیس گھنٹے جہازرانی ہوسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیںدو قدرتی بندرگاہیں دی ہیں۔وسیع کوسٹل ایریا ہے۔ ونڈ مل سے لاکھوں میگاواٹ بجلی پیدا ہوسکتی ہے۔تعلیمی صلاحیت کی کمی نہیںہے۔ ہمارے لوگ امریکہ اور برطانیہ جیسے ممالک میںان کے اداروں کے سربراہ ہیں۔
گذشتہ روز راولپنڈی پریس کلب میں اسلامی جمعیت طلبہ کی تقریب میں باصلاحیت طلبہ کوٹیلنٹ ایوارڈ دیے گئے ۔ذہین طلبہ اوران کے والدین کی گفتگو سن کراحساس ہوتا ہے کہ پاکستان میں ہرشخص اپنا پیٹ کاٹ کر بچوں کی اعلیٰ تعلیم کاشوق رکھتا ہے۔ اس وقت پاکستان میں ساڑھے تین کروڑ بچے زیر تعلیم ہیں۔ جن کی تعلیم و تربیت ہوجائے تو چند سال میں پاکستان تعلیم یافتہ افرادی قوت کابہترین ملک بن سکتا ہے لیکن کارپردازان حکومت اپنی ذات سے آگے سوچنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
ملک کے موجودہ بحران سے نکلنے کاایک ہی راستہ ہے کہ پاکستان میںدیانت دار، جرا
¿ت مند اورباصلاحیت قیادت میدان میںآئے۔جس کی سوچ انفرادی کی بجائے اجتماعی ہو اور سیاسی جماعتیں اپنے اقتدارکاکھیل کھیلنے کی بجائے قومی ادارے مضبوط بنائیں۔
وزارت خزانہ کہ سابق ڈپٹی سیکرٹری مختار احمد بھٹی ایک سینئر سٹیزن ہیں ۔ان کاشکوہ ہے کہ پاکستان کے فیصلے پاکستان میں نہیں ہوتے۔ یہ ملک ہمارا ہے ،حکمران ہمارے ہیں لیکن کھیل ہم عالمی طاقتوں کاکھیلتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ دنیا کی تاریخ کاسبق ہے کہ ا ٓزادی ایک نعمت ہے۔جس کی حفاظت نہ کی جائے تو یہ چھن بھی سکتی ہے۔
ایک مسلمان اورپاکستانی کی حیثیت سے دِلی تمنا ہے کہ پاکستان کامسقتبل روشن اورتابناک ہو ۔ہمارا عقیدہ ہے کہ یہ ملک اللہ کے نام پر بنا ہے اوراللہ کے نام پر قائم رہے گا ۔ آئیے، ہم عوام ہوں یاحکمران اپنے 63ویں یوم آزادی پر ہاتھ اٹھا کر عہد کریں کہ ہم مسلمان اورپاکستانی کی حیثیت سے زندہ رہیںگے اور اپنے ذاتی فائدے کی بجائے اس ملک کے فائدے کی فکر کریں گے۔ ﴿روزنامہ نوائےوقت ،راولپنڈی 14اگست 2009﴾

بجلی کتھے گئی؟


اسلام آباد میں لوڈشیڈنگ کامشکل وقت گذارنے کے لیے ہر رات ہزاروں خواتین، بچے اوربوڑھے پشاور موڑ کے قریب نئی شاہراہ کے کنارے گھومتے پھرتے، بیٹھے اورکبھی لیٹے ہوئے نظرآتے ہےں۔کئی خاندان گھاس پر بیٹھے پکنک کے انداز میں کھانابھی کھاتے ہیں۔
ایک جدید شہر میں دیہات کا یہ بے تکلف ماحول دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔
سابق چیئرمین سی ڈی اے کامران لاشاری کی دوراندیشی سے یہ کھلی جگہ لوڈشیڈنگ سے مرتے عوام کی جان بچانے کاذریعہ بن گئی ہے۔
یہاں ایک دوست سے ملنے گیا تو راستے میں گھاس پر لیٹے ہوئے ایک بابا جی مجھے حکومت کاآدمی سمجھ کرغصے میں آگئے اورڈانٹ کرپوچھنے لگے:بجلی کتھے گئی؟
انہیں کیابتاتا کہ حکومت کے وزیروں کاخیال ہے کہ بجلی کہیں نہیں گئی۔ ساری گڑ بڑ عوام کی وجہ سے ہے ۔ ابھی حال ہی میں ایک وفاقی وزیر نے بیان دیا ہے کہ لوڈشیڈنگ کے خلاف مظاہرہ کرنے والے عوام بجلی چور ہیں۔
جس روز جھنگ میں لوڈشیڈنگ کااندھیر ادور کرنے کے لیے مشتعل عوام نے ٹرین جلائی تو وزیر اعظم بھی چراغ پا ہوگئے اورفرمایا کہ میرے پاس کوئی الہ دین کاچراغ نہیں ہے۔وزیر اعظم نے بجلی کابحران حل کرنے کے لیے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے چھ وزیروں کی کمیٹی بنانے کااعلان بھی کیا۔
وزیر اعظم نے اپنے اختیارات استعمال کئے تو صدر نے بھی اپنے اختیارت استعمال کرتے ہوئے حکم دیا کہ پرائیویٹ اورپبلک سیکٹر دونوں مل کرایک نئی کمپنی بنائیں جو توانائی کے منصوبے شروع کرے کیونکہ عوام کے صبر کاپیمانہ لبریز ہوچکا ہے۔
ہمارے پبلک سیکرٹریٹ میں اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک تعلیم یافتہ درویش نے فکر مندی کااظہار کیا کہ نئی کمپنی سے صرف ٹین پرسینٹ مسئلہ حل ہوسکتا ہے کیونکہ عوام کے لیے بجلی کی پیداوار شروع ہونے میں کئی سال لگ جائیںگے۔
درویش کی بات جاری تھی کہ لوڈشیڈنگ پر ہمارا موقف جاننے کے لیے ایک ٹی وی چینل کے تیز رفتار رپورٹر تشریف لے آئے جو سب سے پہلے ،سب سے بُری خبر دینے کی دوڑ میں اکثر خبر وں سے آگے نکل جاتے ہیں۔
رپورٹر نے انگلیوں پر گن کربتایا کہ موجودہ سیٹ اپ کی پیداواری صلاحیت انیس ہزار میگا واٹ ہے۔ ہماری ضرورت پندرہ ہزار میگاواٹ ہے ۔ اس طرح ہمارے پاس چار ہزار میگا واٹ بجلی فالتو ہونی چاہئے تھی لیکن اس وقت پیداوارصرف بارہ ہزار میگا واٹ ہے۔اس لیے بجلی کاشارٹ فال تین ہزار میگا واٹ ہے ۔
اس وقت پبلک سیکرٹریٹ میںکافی لوگ تھے جو رپورٹر کی بات سے متاثر ہوئے۔ ایک صاحب نے دعا بھی کی کہ یہ رپورٹر بجلی کاوزیربن جائے تو اچھا ہے۔ ہمیں مسئلہ تو سمجھا سکے گا۔
وزیر اعظم کی نئی کمیٹی اورصدر کی نئی کمپنی بنانے کے اعلان کاعوام پرکوئی اثر نہیں ہوا۔ لاہور کے عوام سٹرکوں پر سینہ کوبی کررہے ہیں۔تاجرمارکیٹوں کے شٹرڈاﺅن کرکے سڑکوں پر ٹائر جلانے میں مصروف ہیں۔
کئی جگہ احتجاج نے غلط رخ اختیار کیا ہے اور بجلی فراہم کرنے والے اداروں کے دفاترجلائے گئے اورعملے کومارا پیٹا گیا ۔
مسلم لیگ ن سب کچھ دیکھ رہی ہے لیکن اس کے رہنماءکسی کوناراض نہیں کرنا چاہتے اس لیے خاموشی کاقفل لگائے بیٹھے ہیں۔ صرف جماعت اسلامی عوام کوسٹرکوں پر آنے اور پرامن احتجا ج کی کال دے رہی ہے۔اسلام آباد میں جماعت اسلامی نے سات روز میں سات احتجاجی مظاہرے کئے۔
لاہور کے تاجروں نے واپڈا ہاﺅس پر قبضہ کرنے کااعلان کردیا ہے۔ جس پر پاکستان الیکٹرک پاورکمپنی PEPCOکے سربراہ نے چار جولائی کو ایک چینل پر کالم نگاروں کے مباحثہ میں تجویز کیا کہ لوڈشیڈنگ کامسئلہ عوام خود حل کرسکتے ہیں۔ جس کاطریقہ یہ ہے کہ ملک میں تمام اے سی بند کردئے جائیں۔دوسرے روز ان کے ترجمان نے یہ اضافہ کیا کہ اس طرح ملک کے تمام گھروں میں چوبیس گھنٹے پنکھے چل سکتے ہیں۔
قومی ادارے کے ذمہ داران کے یہ بیانات ان کی قابلیت کے عکاس ہیں۔ اس فارمولے کے مطابق بجلی سے چلنے والی دیگر اشیاءبھی بند کردی جائیں تو بجلی کامسئلہ باقی نہیں رہے گا۔ہمارے ادارے بجلی کی پیداوار بڑھانے کے کی بجائے عوام کوبجلی کااستعمال نہ کرنے کے مشورے دے رہے ہیں۔
ہمارے حکمرانوں کی طرح ہمارے اداروںکے سربراہ بھی ایڈہاک ازم پرچل رہے ہیں۔یہاںکوئی اپنے عرصہ ملازمت اورعرصہ حکومت سے زیادہ سوچنے کے لیے تیار نہیں ۔اس لیے یہاں کسی ایک بھی شارٹ ٹرم ، مڈٹرم یا لانگ ٹرم منصوبے پرعمل نہیں ہورہا۔ سب لوگ ڈنگ ٹپاﺅ پالیسیوںپر چل رہے ہیں۔
اب حکومت نے کرائے پر جنریٹر لینے کااعلان کیا ہے۔جب متعلقہ وزیر صاحب سے پوچھا گیا کہ چارپانچ سال کرایہ کی صورت میںجتنی رقم خرچ ہوگی ۔اتنی رقم سے تو ہم اپنا منصوبہ شروع کرسکتے ہیں۔جس پر وفاقی وزیر کاجواب تھا کہ ہمارے پیش نظر اتنے ہی سال ہیں۔ہماری حکومت ،وزراءاوراداروں کے سربراہ یہ ماننے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں کہ بجلی کامسئلہ حل کرنا ان کی صلاحیت کاامتحان ہے۔
ہماری قوم تاریک راہوں میں ماری جارہی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں جماعتیں عوام کویہ بتانے کے لیے تیار نہیں ہیںکہ بجلی کابحران مصنوعی ہے۔ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنی پیداواری صلاحیت سے بہت کم بجلی پیدا کررہے ہیں اورجو پیدا ہورہی ہے اس کا ایک بڑاحصہ ضائع ہورہا ہے۔
پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ایشین بنک کے مطابق پاکستان کے زرخیز کھیت پورے ایشیاءکے لیے خوراک فراہم کرسکتے ہیں اورپاکستان اپنے دریاﺅں اورنہروں پر چھوٹے بڑے ڈیموں، دریائی اورسمندری پانی کی لہروں ، پن چکیوں اورشمسی توانائی کے استعمال سے پورے ایشیاءکو بجلی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
صرف پنجاب کے دریاﺅں اورنہروں سے اسی ہزارمیگا واٹ بجلی پیدا ہوسکتی ہے جو پاکستان کی ضروریات سے بہت زیادہ ہے۔ایشین بنک کے مطابق ان منصوبوں پرعمل کے لیے پاکستان کے پاس ماہرین بھی موجود ہیں۔ہم ایٹم بم بناسکتے ہیں تو بڑے سے بڑا ڈیم بھی بنا سکتے ہیں۔
اب تک دنیا میں بجلی پیدا کرنے کاسب سے سستا ترین طریقہ ونڈ ٹربائن ہے ۔ اس کے لیے ہوا کی کم ازکم رفتار تین میٹر فی سیکنڈ درکار ہوتی ہے۔ جس سے اکثر ممالک محروم ہیں اس لیے وہ ہوا کی بجائے دیگر مہنگے طریقوں سے بجلی بنانے پرمجبور ہیں لیکن پاکستان چند خوش قسمت ممالک میںسے ایک ہے جہاںہوا سے بجلی پیدا ہوسکتی ہے۔
ہمارے شہرا سلام آباد میں ہوا کی رفتار چھ سے سات میٹر فی سیکنڈ ہے۔ بجلی کے عالمی ماہرین نے ونڈ ٹربائن کے لیے پاکستان کو دنیا کابہترین ملک قراردیا ہے۔یہاںخیبر سے کراچی تک ہوا سے بجلی بنائی جاسکتی ہے۔ صرف کیٹی بندر سے پچاس ہزار میگا واٹ بجلی پیدا ہونے کااندازہ لگایا گیا ہے۔ ترکی کی ایک فرم نے تجارتی بنیادوں پر سندھ میں ایک چھوٹا وائنڈ ٹربائن لگایا ہے ۔جس سے برائے نام قیمت پر کامیابی سے بجلی حاصل ہورہی ہے۔اس بجلی کی قیمت چند پیسے فی یونٹ ہے۔
آخر، ان منصوبوں پر عمل کی راہ میں رکاوٹ کیا ہے؟بجلی کے کاروبار سے وابستہ مغربی ادارے اورہمارے منصوبہ ساز اداروں کی ملی بھگت کوسازش نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے؟
ہم ایک سازش کاشکار ہوکر ایک بحران کی دلدل میں ہیں۔ بجلی نہ ہونے سے ٹیوب ویلز بند ہیں۔ ان دنوںلوڈشیڈنگ ہماری اہم ترین فصلیں، کپاس، مکئی اورچاول کھارہی ہے۔
دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ مسلط کئے جانے کے بعدتوانائی کے بحران کاشکار قوم چاروں طرف سے گرداب میں ہے۔
سعودی گزٹ کے مطابق کراچی میں پچیس فی صد سے زیادہ سمال ٹریڈرز اپنا بوریابستر سمیٹ چکے ہیں۔فیصل آباد میں ہٹرتال کامنظر ہے۔ صنعتکار اورمزدور ہاتھ پرہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔ہرشہر کی شکایت ہے کہ لوڈشیڈنگ بڑھنے سے سٹریٹ کرائم بڑھے ہیں۔
لوڈشیڈنگ سے اکانومی کی ناقابل تلافی تباہی اپنی جگہ ہے۔ اس کے منفی نفسیاتی اثرات سے معاشرے کاسکون تباہ ہوگیاہے۔ نیند پوری نہ ہونے سے عام آدمی کامزاج بہت تلخ ہوگیا ہے ۔لوگ حکومت کاکچھ نہیںبگاڑسکتے تو آپس میں لڑ جھگڑ کرغصہ نکالتے ہیں۔
جن لوگوں کی جیب میں پیسہ ہے وہ اپنا مسئلہ جنریٹر اوریو پی ایس سے حل کرلیتے ہیں۔ لیکن غریب اپنا مسئلہ حل کرنے کے لیے حکومت کامنہ دیکھنے پر مجبور ہیں۔
گھروںمیںبزرگوں اورمریضوںکابراحال ہے۔طلبہ وطالبات کی زندگی عذاب ہے۔سب سے زیادہ برُی حالت اُن بیٹیوں اوربہنوں کی ہے جو شدید گرمی میں چولہے کے سامنے کام کرتی ہیں۔ایک بہن کاکہنا ہے کہ کھانا پکانے کے بعداپنا پکایا ہوا کھانا ہی کھانے کی سکت نہیں رہ جاتی۔
ابھی تعلیمی اداروںکی چھٹیاں ختم ہونے والی ہیں۔ لوڈشیڈنگ میں اساتذہ کیسے پڑھائیں گے اورمعصوم بچے کیسے پڑھیںگے۔
ہمارے ملک میں دانستہ یا نادانستہ ایک منفی انقلاب لایاجارہا ہے کہ عوام ماﺅ ف ہوکر سوچنے سمجھنے اورردعمل کی صلاحیت سے محروم ہوجائیں۔ دہشت گردی، بے یقینی ،بجلی کے بلوں میںاضافہ، لوڈشیڈنگ ، پٹرولیم مصنوعات میں اضافہ ، مہنگائی اوربے روزگاری سے ہماری بے بسی کی کیفیت کودن رات بڑھایاجارہا ہے کہ عوام آج یہ عذاب برداشت کرنے کے عادی ہوجائیں تو کل غیر ملکی طاقتوں اوران کے آلہ کارملکی رہنماﺅں کی سازشوں سے آنے والے اس سے بڑے عذاب کاعوام پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔
.............................................
میاں محمد اسلم ۔
0300-8558333
سابق ایم این اے ، اسلام آباد

میرا نصب العین اسلامی نظام زندگی اور اللہ تعالیٰ کی رضا کاحصول ہے اور زندگی میں کامیابی کے لئے اخلاق، دیانت ،خدمت اورجرٲت پر یقین ہے۔