یہ دورنگی کیا رنگ لائے گی
یہاں کسی چیز کی کمی نہیں ہے۔ ہر گلی محلے میں مساجد ہیں۔ درس دینے والے علماءکرام ہیں۔ ہرگھر میں قران مجید کی تلاوت ہوتی ہے۔عوام کی اکثریت دین سے محبت کرتی ہے لیکن یہ سب کچھ ہونے کے باوجود عوام سمجھتے ہیں کہ ہماری زندگی میں برکت نہیں ہے۔ سکون ،چین اورزندگی کالطف نہیں ہے۔ ہم مسلمان ہیں لیکن ہمارے سروں پر بے یقینی ، خوف اورغربت کاعذاب مسلط ہے۔ ہماری دعائیں قبولیت سے محروم اورعبادات کا اثر عملی زندگی میں کم ہی نظر آتا ہے۔
حاجی سلطان بہت بڑ ے تاجر ہیں۔ کئی بار حج اورعمرے کی سعادت حاصل کرچکے ہیں۔ نماز، روزے اور اعتکاف کے پابند ہیں لیکن وہ حاجی بلیک کے نام سے مشہور ہیں۔ عوام نے انہیں یہ نام اس لیے دیا ہے کہ ان کی عبادت کا اثر ان کی تجارت پر نظر نہیں آتا۔ ان کی زندگی میں دورنگ ہیں۔ ذاتی زندگی میں وہ اخلاقیات سے مزّین ایک باشرع مسلمان ہیں لیکن تجارتی زندگی میں وہ کسی اخلاقی اصول ضابطے کے پابند نہیں ہیں۔ ان کی تجارت دوسروں کونقصان پہنچا کر منافع حاصل کرنے کے اصول پر چلتی ہے۔ ان کی شخصیت کے حوالے سے ایک دوست نے ایک پُرانی فلم کامکالمہ سنایا ۔ جس میں ہیرو کہتا ہے کہ چوری میرا پیشہ ہے اورنماز میرا فرض ہے۔
ہمارا معاشرہ ایسے ہیروز سے بھرگیا ہے۔ راولپنڈی میں جوئے کاسب سے بڑا اڈا چلانے والا خاندان اپنے علاقے میں مساجد کاسرپرست اورخیراتی سرگرمیوں کاچمپئین ہے۔ ہمارے عوام بُرے نہیں ہیں ۔ اس کے باوجود معاشرے میں یہ دورنگی اورتناقص بڑھ رہا ہے۔ ہمارے حکمران سرکاری تقریبات کا آغاز تلاوت اورنعتوں سے کرنے کے بعد میوزک سنتے اورڈانس دیکھتے ہیں۔
اسلامی یونی ورسٹی کے ایک استاد کا موقف ہے کہ ہماری قیادت کرنے والے دو لباس پہنتے ہیں۔عوام میں سفید لباس پہن کر کہتے ہیں ،ہم آپ میں سے ہیں اورجب سیاہ سوٹ پہن کر آپس میں مل بیٹھتے ہیں توہنستے ہیں کہ ہم عوام کوبیوقوف بنارہے ہیں۔
قائد اعظم کے بعد سے قیادت کے منصب پر انہی لوگوں کا قبضہ ہے جو عوام کی سادگی، دین سے محبت اوراخلاص کااستحصال کررہے ہیں۔حکومت اوراپوزیشن دونوں میں یہ سیاہ وسفید ہیروموجود ہیں اور اب نصف صدی میں ایک دوسرے کے رشتہ دار بن چکے ہیں۔ چینی اورآٹے کابحران یہی پیدا کرتے ہیں۔ یہ دوسروں کونقصان پہنچا کر منافع کمانے والے تاجر ہیں ۔ یہ چند خاندان ہیں جنہوں نے لمیٹڈ کمپنیوں کی طرز پرسیاسی جماعتیں بنائی ہوئی ہیں۔ جن میں کوئی دوسرا دخل نہیں دے سکتا۔ ہرجماعت کسی نہ کسی خاندان کے قبضے میں ہے۔ بزرگ صحافی غلام اکبر صاحب کہتے ہیں کہ اگر قبضہ ہی قیادت کااصول ہے تو ملک پر بھی قبضہ کااصول ہی چلے گااوریہ قبضہ کسی کابھی ہوسکتا ہے۔
عوام دیکھ رہے ہیں کہ کسی جرنیل کی آمریت آئے یا ان خاندانوں کی جمہوریت آئے۔ کشتہ ستم غریب ہی بنتے ہیں۔ حکومت کے اپوزیشن اوراپوزیشن کے حکومت بن جانے سے عوام کی زندگی پرکوئی اثر نہیں ہوتا۔ یہ جمہوریت کوبھی عوام کے لیے آمریت جیسا بنا دیتے ہیں اورجب چاہیں عوام کوآٹے ،چینی اورگھی کے لیے قطاروں میں کھڑا کرکے ڈنڈے برسانا شروع کردیتے ہیں۔ان سیاسی تاجروں کا بجلی،پٹرول اوراشیائے خوردونوش پر مکمل قبضہ ہے۔ان کے اختیار میں ہے کہ عوام کوجتناچاہیں اورجیسے چاہیں لوٹتے رہیں۔
ہمارا معاشرہ ان قبضہ گروپوں کے قبضے میں ہے۔ یہ معاشرے کوگائیڈ کرنے کی بجائے مس گائیڈ اورلیڈ ر بن کر مس لیڈ کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے معاشرے اورسیاست میں قیادت ہی عوام کے لیے رول ماڈل ہوتی ہے۔ یہ اس قیادت کاشاخسانہ ہے کہ خرابی اوپر سے نیچے تک آچکی ہے اور اس قیادت کی پیروی میں گلی گلی قبضہ گروپ پیدا ہورہے ہیں۔
سرگودھا میں ایک سیاسی کارکن نے روداد سنائی کہ وہ ایم اے سیاسیات ہے اور تین بار کونسلر کا الیکشن ہارچکا ہے۔اسے ہمیشہ ایک منشیات فروش شکست دے جاتا ہے۔ اس سیاسی کارکن کا خیال ہے کہ عوام باشعور نہیں ہیں۔ یہ بات جزوی طور پردرست ہوسکتی ہے کہ ہمارے ملک کی 70فی صد آبادی اپنا نام بھی نہیں لکھ سکتی لیکن تجربہ یہ ہے کہ عوام باشعور ہیں اور قبضہ گروپوں کے مقابلے میں کسی کمزور شخص کوووٹ نہیں دیتے کیونکہ عوام نے گلے محلے میں رہنا ہے۔
اس خرابی کا ایک ہی علاج ہے کہ معاشرے کے باشعورافراد قیادت کے لیے جرأت سے آگے بڑھیں اورقبضہ گروپوں کے مقابلے میں ڈٹ کرکھڑے ہوجائیں اورعوام کوتحفظ فراہم کریں۔
ہمارے معاشرے کو اس مقام تک پہنچنے کے لیے ایک سماجی ارتقاءکی ضرورت ہے ۔ جس سے ملک میں سیاسی انقلاب آجائے۔ جماعت اسلامی کاموقف ہے کہ عوام میں فکر ی بیداری، تنظیم اور معاشرتی اصلاح سے اصول واقدار کی بنیاد پر ایک جرأت مند, باصلاحیت اوردیانت دار قیادت سامنے آئے گی۔
یہ درست ہے کہ جماعت اسلامی جس نظریاتی، دینی، سماجی اورسیاسی انقلاب کے لیے کوشش کررہی ہے وہ ابھی تک نہیں آیا لیکن وہ اسی جمہوری راستے کودرست سمجھتی ہے اوراسی پر اپنی استطاعت کے مطابق گامزن ہے۔ ہمارے بہت سے دوست اس طریق انقلاب سے اختلاف کرتے ہیں۔ وہ اسے ایک طویل ہومیوپیتھک طریقہ انقلاب کہتے ہیں لیکن وہ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ عوام کی سوچ بدلے گی تومعاشرے کی قیادت بدل جائے گی۔
پاکستان میں ایک امید افزاءاور اہم تبدیلی میڈیا کاجادو ہے جوسر چڑھ کربول رہاہے۔ یہ انفارمیشن ایج کا دورہے جوانسانی زندگی میں زراعت اور صنعت کے بعد آنے والی سب سے بڑی تبدیلی ہے۔ صحافت کی دنیا میں خاندانی قبضہ اورسرکاری عہدہ نہیں چلتا ۔ صحافی کارکن معاشرے کی باٹم لائن سے آتے ہیں اور ذاتی حیثیت میں عوام کی سوچ، دکھ اورتمناﺅں سے واقف ہیں۔ اس لیے کسی قبضہ گروپ سے ذہنی طور پر سمجھوتہ نہیں کرتے۔
اب صحافیوں کے ہاتھوں بڑے بڑوں کے پول کھل رہے ہیں۔ عوام حیران ہیں کہ کیسے کیسوں کا کیسا کیساک ردارسامنے آرہاہے۔ اس طوفان میں بڑے بڑے ٹائی ٹینک ڈوب رہے ہیں۔ اس خوش آئند تبدیلی سے عوام کی سوچ کا رخ بدل رہا ہے۔عوام کی سوچ بدلے گی تو بہت کچھ بدل جائے گا۔ معاشرے سے منافقت رخصت ہو گی تو برکت آئے گی اورپھر عبادت مسجد تک
محدود نہیں رہے گی۔ ہماری پوری زندگی عبادت بن جائے گی۔انشاءاللہ۔
(نوائے وقت، اسلام آباد 10ستمبر2009)
No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.