این آر او

این آر او

عوام نے عدلیہ کی بحالی اورآزادی کے لیے جو تحریک چلائی تھی ۔وہ ثمر آور ثابت ہوئے ہے۔آج  این آر او  اور آئین کافرق ہمارے سامنے آگیا ہے۔ قومی مفاہمت کے نام پر صدارتی آرڈیننس نے مجرموں کو وی آئی پی بنا دیا لیکن آئین نے مجرموں کوسزا دے کرجیل بھیجنے کاتقاضا کیاہے ۔
پاکستان میں قومی زوال کی کیفیت پر ایک حدیث پاک کاحوالہ دیاجاتا ہے کہ پرانی قومیں اس لیے تباہ ہوئیں کہ ان کے بڑے لوگ جرم کرتے تو انہیں چھوڑدیاجاتا اورچھوٹے لوگ جرم کرتے تو انہیں سزا ملتی لیکن پاکستان کے حالات پرانی قوموں سے بھی گئے گذرے ہیں۔ جھنگی سیداں کے معروف سماجی کارکن سید تنویر حسین شاہ کا کہنا ہے کہ ہمارے ملک میں جوجرم کرے اس سے مک مکا کیا جاتا ہے اورجو کوئی جرم نہ کرسکے اسے جیل بھیج دیا جاتا ہے۔ شیخ رشید احمد جب وفاقی وزیر تھے تو انہوں نے اپنی معلومات کی بنیاد پر کہا تھا کہ اڈیالہ جیل کے 90فی صد قیدی بے گناہ ہیں۔
یہ کیسا نظام ہے کہ بڑے لوگوں کی عزت واہمیت میں بڑے بڑے جرائم سے اضافہ ہوتا ہے۔ ان کی گاڑیوں کے آگے ہوٹر بجائے جاتے ہیں۔ پولیس سیلوٹ پیش کرتی ہے۔انہیں بربنائے عہدہ قیمتی گاڑیاں، خوراک اوررہائش کی سہولتیں مفت ملتی ہیں۔ کیایہ وہی سسٹم ہے ،جسے بچانے کے لیے صدر،وزیر اعظم اور اپوزیشن رہنماءیک زبان کہتے ہیں کہ ہم ہرقیمت پر سسٹم بچائیں گے۔
اس سسٹم سے فائدہ اٹھانے والے ہرقیمت پر یہ سسٹم بچانا چاہتے ہیں کیونکہ اس سسٹم میں تمام وسائل حکمران طبقہ کے لیے اورتمام مسائل غریبوں کے لیے ہیں۔ اسی لیے اس سسٹم نے ایسی شخصیات اورپارٹیاں پیدا کردی ہیں۔جو ہرقیمت پر ہرحکومت کاحصہ رہنا چاہتے ہیں۔
غیر ملکی اخبارات کے مطابق پاکستان کی اشرافیہ کے بیرون ملک اربوں ڈالرز کے اکاﺅنٹس ہیں۔اس طبقے کی سوچ قومی اورمقامی نہیں ہے ۔ اس لیے ان کی وفاداریاں بھی بیرون ملک ہیں۔ دولت ، جائیداد، رہائش ، علاج معالجہ اور ریٹائرمنٹ کی زندگی گذارنے کااہتمام بھی بیرون ملک ہوتا ہے۔
بدقسمتی سے یہ کرپٹ لوگ کسی ایک سیاسی پارٹی تک محدود نہیں ہیں۔ این آر او کے بعد قرضے معاف کرنے والوں کی فہرست بھی آ گئی تو معلوم ہوگا کہ اس سیاسی حمام میں کسی کے پاس لباس نہیں ہے۔
اس صورتحال میں جماعت اسلامی کاموقف ہمیشہ یہی رہا ہے کہ جمہوریت جیسی بھی ہو اسے چلنے دیا جائے تاکہ ان رہنماﺅں کے اصل چہرے پوری طرح قوم کے سامنے بے نقاب ہوجائیں اور یہ قوم کومزید دھوکہ نہ دے سکیں۔
ہمارے عوام کی اکثریت ناخواندہ ہے لیکن ہمارے عوام جاہل نہیں ہیں۔عوام کی اکثریت اسلامی احکامات، اسلامی معاشرے کے اصو ل ضوابط اور اسلامی روایات کاعلم رکھتی ہے۔ ہمارے عوام کے دل ودماغ میں ایک ایسے پیکر اخلاص اور عظیم الشان رہنماءکی مثال ہے جس کے پیٹ پر بھوک کی وجہ سے دوپتھر بندھے ہوتے ہیں۔ ایسے حکمران کی مثا ل بھی ہے جو دریا کنارے بھوک سے مرنے والے جانور کو اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے۔ عوام جانتے ہیں کہ یہ کتابی باتیں نہیں ہیں۔ یہ اسلامی نظام زندگی کی عملی مثالیں ہیں کہ سربراہ مملکت اپنے غلام کے اونٹ کی نکیل پکڑ کے چلتا ہے اور جسٹس کا معیار یہ ہے کہ جج اپنے بیٹے کوبھی سزادیتا ہے۔
پاکستان ایک اسلامی ملک ہے ، عوام بھی مسلمان ہیں اور اسلام کے مطابق ایک آئین بھی موجود ہے لیکن یہاں کوئی حکومت آئین پر عمل کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ہماراحکمران طبقہ آئین پر عمل کی بجائے ماورائے آئین زندگی گذارنے کاعادی ہے۔ ابھی ایک این آر او سامنے آیا ہے۔ پاکستان کی 62سال کی تاریخ میں قدم قدم پر این آر او ہیں۔ ہمارے حکمران طبقے نے 62سال میں ایک دن کے لیے بھی عوام سے انصاف نہیں کیا۔۔ جس کے نتیجے میں عوام کی اکثریت مہنگائی، بے روزگاری اورغربت کی مار کھارہی ہے۔ پاکستان میں وسائل کی کمی نہیں ہے لیکن ہمارے کسانوں کے گھر میں آٹا نہیں ہے۔ دن بھر مزدوری کرنے والے کے پاس بچوں کی فیس کے لیے پیسہ نہیں ہے۔آئین پرعمل کیا جاتا تو انصاف کے ساتھ ہر شہری کو عزت سے روٹی ،پانی، رہائش، علاج ،تعلیم اور رائے کی آزادی کاحق مل جاتا ۔ آئین پرعمل نہ کیا جائے تو پھر جنگل کاقانون ہے۔ جس میں صرف درندوں کی مرضی چلتی ہے۔ جیسے ہمارے معاشرے میں ایک محدود طبقہ وسائل لوٹ کر عیش وعشرت کی زندگی گزار رہا ہے ۔ یہ اپنی دولت اورطاقت سے پوری قوم کویرغمال بناکرخود کوشیر خیال کرتے ہیں اورعوام کوبھیڑیں سمجھ کران کاخون پیتے ہیں۔
این آر او کا پردہ اٹھنے کے بعد مجرموں کی نشاندہی ہوگئی ہے۔ ابھی سزا کامرحلہ باقی ہے۔ جن لوگوں پر کرپشن ،بوری بند لاشوں ،قتل ،زنا، کرپشن اور اغواءکے مقدمات ہیں۔ انہیں اب پارلیمینٹ کی بجائے عدالت کارخ کرنا ہوگا۔
جماعت اسلامی نے عوام کی ترجمانی کرتے ہوئے این آر او زدگان سے مستعفی ہونے کامطالبہ کیا ہے۔ حکومت مستعفی ہویا نہ ہو۔ اس کی ساکھ زیرو ہوچکی ہے۔ پاکستان کی جگہ کوئی دوسرا ملک ہوتا تو اب تک کئی وزراء شرم کے مارے خودکشی کرچکے ہوتے ۔ یہاں لوٹ مارگروپ کواپنی رسوائی کی پراوہ نہیں ہے لیکن میڈیا نے عوام کو باخبر اور باشعور بنادیا ہے۔ آزاد میڈیا اورآزاد عدلیہ کی موجودگی میں مجرموں کے معصوم بننے کاسلسلہ ختم ہوسکتا ہے اورہم ایک نئے سفر کاآغاز کرسکتے ہیں۔

٭٭٭
دسمبر 17 ، 2009

No comments:

Post a Comment

Note: Only a member of this blog may post a comment.


میرا نصب العین اسلامی نظام زندگی اور اللہ تعالیٰ کی رضا کاحصول ہے اور زندگی میں کامیابی کے لئے اخلاق، دیانت ،خدمت اورجرٲت پر یقین ہے۔