زمین خریدی ہے ۔ اس پر83 ارب روپے سے عمارتیں بن رہی ہیں۔یہ دنیا میں امریکہ کا دوسرا سب سے بڑاسفارت خانہ ہوگا۔ اس وقت عراق کا سفارت خانہ سب سے بڑا ہے۔جو ایک مکمل ملٹری کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر ہے۔
حکومت پاکستان کی طرف سے امریکی سفارت خانہ کو 350افراد تک عملہ رکھنے کی اجازت ہے لیکن موجودہ تعداد750ہے ۔ اس میں میرین فوجی بھی شامل ہیں۔
اب کہا جارہا ہے کہ مزید میرین فوجی اور سینکڑں Dyncorp بکتر بند گاڑیاں منگوانے کے لیے حکومت پاکستان سے بات چیت ہورہی ہے۔جس کی کسی بھی عالمی اورمقامی سفارتی قانون میںگنجائش نہیں ہے۔
سندھ ہائی کورٹ میں ایک وکیل نے آئینی درخواست دائر کی ہے کہ اسلام آباد کے امریکی سفارت خانہ میں فوجی رہائش گاہوں کی تعمیر روکی جائے کیونکہ ڈپلومیٹک اینڈ قونصلر پریولیج ایکٹ مجریہ 1972کے مطابق کسی سفارت خانہ میںفوج نہیںرکھی جاسکتی اور ویانا کنونشن 1961 ڈپلومیٹک ریلیشنز کے مطابق بھی کوئی سفارت خانہ فوجی مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہوسکتا۔
عام پاکستانیوں کاخیال ہے کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں تک رسائی کے لیے امریکی سفارت خانہ میں زبردستی توسیع کی جارہی ہے۔بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ امریکہ اورچین کے درمیان سرد جنگ کاآغازہے۔ سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمدخان کے مطابق امریکہ یہاں بیٹھ کر پورا خطہ ریمورٹ کنٹرول سے چلاناچاہتا ہے۔
امریکہ کیا کرنا چاہتا ہے ۔اس کااندازہ ان واقعات سے لگایا جاسکتا ہے کہ حال ہی میں امریکی سفارت خانے نے ا سلام آباد میں کئی رہائشی بنگلے کرائے پر حاصل کئے ہیں۔جن میںمشکوک سرگرمیوں پر اسلام آباد کے کئی شہریوںنے احتجاج کیا ہے۔
جب میریٹ دھماکہ میں امریکی میرین کے مرنے ،زخمی اورفرارہونے کی خبریں آئیں تو مرزا اسلم بیگ نے بیان دیا تھا کہ اب ڈرون طیارے تربیلا سے کنٹرول ہوتے ہیں۔ تربیلا کی حقیقت یہ ہے کہ گذشتہ سال 300امریکی اہلکار ٹریننگ کے سلسلے میں تربیلا آئے تھے۔یہاں امریکہ نے کئی مربع کلو میٹر قطعہ اراضی خریدا ہے۔جس میںامریکی کنٹینرز رکھے گئے ہیںاورکسی پاکستانی کویہاںجانے کی اجازت نہیں ہے۔
یہ صورتحال اسلام آباد اورتربیلا تک محدود نہیں ہے۔کراچی کے اخبارات کے مطابق کراچی کے امریکی سفارت خانہ میں سمندر کی طرف سے ہیلی کاپٹروں کی براہ راست آمدورفت کااہتمام ہے۔ پورٹ قاسم انتظامیہ کوامریکی سفارت خانے کے لیے آنے والے کنٹینرز چیک کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
اسلام آباد کے ایک سینئر صحافی نے اپنی ویب سائٹ پریہ رپورٹ شائع کی ہے کہ پشاور میں ایک این جی او کے دفتر سے امریکی سیکورٹی ایجنسی بلیک واٹر کوکنٹرول کیاجاتا ہے اور این جی اوز کے دفاتر میں سیکورٹی گارڈز کے نام پربلیک واٹرزکے اہلکار رکھے جارہے ہیں۔یہ خبربھی ہے کہ بلوچستان کے ساحل پر امریکی نیول بیس کے قیام کے لیے پاکستان نیول ہیڈکوارٹر سے حکومت صلاح ومشورہ کررہی ہے۔
اسلام آباد میں امریکی پیش رفت کاسلسلہ اب سٹرکوںتک پہنچ گیا ہے۔ مقامی اخبارات کی خبر ہے کہ ایک امریکی صاحب نے اسلام آباد کی سڑک پرہمارے ایک پولیس والے کوپیٹ ڈالا۔ اس واقعہ پر حکومت نے احتجاج کیا توچند روز بعد ایک دوسرے امریکی صاحب نے راہ چلتے ایک شہری کے ساتھ یہی واقعہ دہرادیا ۔
ابھی پاکستان سے امریکی طالبان کا خونی شو ختم نہیں ہوا کہ ایک نیا کھیل شروع ہوگیا ہے ۔اس کھیل کے مقاصد امریکیوں کے بیانات سے سمجھے جاسکتے ہیں۔ ان دنوں امریکی پالیسیوں پر شائع ہونے والی کتاب
War of Necessity, War of Choice
کاشہرہ ہے۔ کتاب کے مصنف سابق امریکی پرنسپل ایڈوائزر Richard N. Haass نے ابھی دوماہ قبل نیویارکر سے انٹرویو میں پاکستان کی پوزیشن پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ
" پاکستان کے خلاف جنگ ناگزیرہے۔میں ایک مکمل جنگ یا قبضہ کی بات نہیںکررہا لیکن ایک ملٹری آپریشن کاتصور کرسکتا ہوں۔"
اس صورتحال میں امریکی سفارت خانہ میں توسیع ہمارے اخبارات کے لیے فرنٹ پیچ سٹوری تھی لیکن نوائے وقت کے علاوہ کسی نے اسے اہمیت ہی نہیں دی ۔ نہ کسی ٹی وی چینل کے ٹاک شو میں کسی اینکر نے اس پربات کی اورنہ کسی حکومتی یا اپوزیشن رہنماءنے اس پر تشویش کااظہار کیا۔اس مسئلہ پر ہماری حکومت اوراپوزیشن دونوں خاموش اوربے بس نظر آتے ہیں۔
صرف جماعت اسلامی نے اپنی روایات کے مطابق اپنا جمہوری حق استعمال کرتے ہوئے عوام سے احتجاج کی اپیل کی ہے۔جماعت اسلامی کاموقف ہے کہ امریکی سفارت خانہ میں چھاﺅنی اور پاکستان میں بڑھتے ہوئے امریکی اثرورسوخ کے خلاف آوازاٹھانا ہر پاکستانی کاقومی فرض اورجمہوری حق ہے۔ احتجاج کا مقصد پاکستانی حکومت کوغیرت دلانا اور امریکہ کوپیغام دینا ہے کہ پاکستانی عوام امریکہ کی پاکستان پرقبضے کی خواہش کبھی پوری نہیںہونے دیں گے۔پاکستان کی حفاظت ہمار افرض ہے اورہم اپنافرض ادا کریں گے۔
روزنامہ نوائے وقت، اسلام آباد 17 اگست2009
٭٭٭٭٭
No comments:
Post a Comment
Note: Only a member of this blog may post a comment.