یہ کیسا یوم آزادی ہےإ

یہ کیسا یوم آزادی ہے کہ عوام کی آنکھوں میں آنسو ہیں۔ ہرگھر میں پریشانی کے سائے ہیں ۔ ہر نیا دن کنفیوژن اور مسائل میں اضافہ کررہا ہے۔ہمارے ملک کوکس کی نظرلگ گئی ہے کہ لوگ اخبار پڑھتے اورٹی وی دیکھتے ہوئے ڈرتے ہیں ۔ ہرروز ایک بُری خبر آتی ہے۔ عوام سوال کرتے ہیں کہ دنیا ترقی کررہی ہے۔ ہمارا ملک ترقی کیوں نہیںکررہا؟ اس کاسادہ سا جواب ہے کہ ہم اس لیے ترقی نہیںکررہے کہ ہم نے ترقی کاراستہ اختیار نہیں کیا۔
ہماری بربادی کی وجہ آئین سے انحراف ہے۔ آئین اورقانون کے بغیر کسی ریاست کا تصور نہیں کیاجاسکتالیکن ہمارے حکمرانوںنے کبھی آئین کی پابندی نہیںکی ۔اسلام آباد کچی آبادی کے ایک مسیحی بھائی جمیل کھوکھر کا شکوہ ہے کہ ہمارے ملک میں کوئی سسٹم ہی نہیں ہے۔
ہماری 62سال کی تاریخ یہ ہے کہ یہاں کبھی قانُون کی حکمرانی نہیں رہی۔ ہمیشہ حکمرانوں کاقانُون چلتا رہاہے۔ ماورائے آئین اور جوڑتوڑ سے حکمران بننے والے صرف ذاتی فائدہ دیکھتے ہیں۔ ان کی حکومت عوام کی حمایت کی بجائے کرپشن اور لاقانونیت کے پہیوںسے چلتی ہے۔اس لیے 62برسوں میںجس چیز نے سب سے زیادہ ترقی کی ہے وہ لاقانونیت اور کرپشن ہے ۔ہم نے ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ فوجی راج کے سائے میں 62سال گذار دیے ہیں۔آزادی کے وقت نظریہ پاکستان اورویلفیئر سٹیٹ کاجو خواب دیکھا تھا ۔ اس کی تعبیر ابھی تک حاصل نہیں ہوئی۔
یہ آزادی ہمیں مفت میںنہیں ملی ۔ اس راہ میںخون کا دریا تھا ۔ آزادی کے لیے بوڑھے اورجوان قربان ہوئے۔ ہمارے خاندان سمیت کتنے قافلے راہ ِ آزادی میں لٹے۔یہ داستانیں بیان کرنے کے لیے جگر تھامناپڑتاہے۔ ہم نے آزادی کی جنگ دوقومی نظریے کے تحت لڑی کہ ہم اللہ کی زمین پر اللہ کانظام نافذ کرسکیں۔ہم دنیا کے سامنے اسلامی ریاست کانمونہ پیش کرنا چاہتے تھے۔
آج غریب آدمی کا یوم آزادی صرف کیلنڈر پرہے۔عوام کی اکثریت غذا، صحت،تعلیم اوررہائش کی سہولتوں سے محروم ہے۔ قومی ادارے ناکامی سے دوچار ہیں۔عام شہری کے لیے بجلی، پانی،ٹرانسپورٹ اوررہائش کی سہولت ایک خواب بن گئی ہے۔ عوام کی حالت دیکھ کر دِل خُون کے آنسور وتا ہے۔ ہرشہری بے بسی کی تصویر ہے۔گذشتہ دنوں ایک ماںاپنے بچوں کے گلے میں برائے فروخت کاکتبہ لگانے پر مجبور ہوگئی۔ اخبارات کے مطابق ہر ماہ کہیںنہ کہیں کوئی ماں بھوک سے تنک آکربچوں سمیت خوکشی کرلیتی ہے۔لاہور جیسے شہر میں 12گھنٹے لوڈشیڈنگ ہے۔جس سے تنگ آکرصنعتی یونٹ اورکاروباری ادارے بندہورہے ہیں۔بے روزگاری بڑھنے سے ڈکیتیاں بڑھ گئی ہیں۔
الفلاح ہال میں ایک سماجی تقریب کے دوران ایک غریب مزدور نے اٹھ کر مقررین سے سوال کیا کہ مجھے بتایا جائے کہ پاکستان نے مجھے کیا دیا ہے؟وہ کسی جواب سے مطمئن نہیں ہوا۔ اگرلوگ تنگ آکر کہتے ہیں کہ انگریز کادور اچھا تھا تواس کے ذمہ دار وہ حکمران ہیں جو62سال سے مختارکل ہیں۔
ہمارے پاس 8لاکھ مربع میل کاعلاقہ ہے ۔جس میں 60فی صد قیمتی پہاڑ ی علاقہ ہے ۔ تھل میں اتنا کوئلہ ہے کہ 4سوسال کے لیے بجلی پیدا ہوسکتی ہے۔ہمارا ملک خط استواپر ہے جہاں روزانہ 14گھنٹے سورج چمکتا ہے۔زراعت کے لیے 4موسم ہیں۔ بلندی سے نشیب کی طرف بہنے والے دریا اور سونا اگلتے دنیا کے بہترین زرعی میدان ہیں۔17کروڑ عوام محنت کے لیے موجود ہیں۔60فی صدسے زیادہ کھیتی باڑی جانتے ہیں۔ پاکستان گرم پانیوں کاملک ہے۔جس کے سمندر میں چوبیس گھنٹے جہازرانی ہوسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیںدو قدرتی بندرگاہیں دی ہیں۔وسیع کوسٹل ایریا ہے۔ ونڈ مل سے لاکھوں میگاواٹ بجلی پیدا ہوسکتی ہے۔تعلیمی صلاحیت کی کمی نہیںہے۔ ہمارے لوگ امریکہ اور برطانیہ جیسے ممالک میںان کے اداروں کے سربراہ ہیں۔
گذشتہ روز راولپنڈی پریس کلب میں اسلامی جمعیت طلبہ کی تقریب میں باصلاحیت طلبہ کوٹیلنٹ ایوارڈ دیے گئے ۔ذہین طلبہ اوران کے والدین کی گفتگو سن کراحساس ہوتا ہے کہ پاکستان میں ہرشخص اپنا پیٹ کاٹ کر بچوں کی اعلیٰ تعلیم کاشوق رکھتا ہے۔ اس وقت پاکستان میں ساڑھے تین کروڑ بچے زیر تعلیم ہیں۔ جن کی تعلیم و تربیت ہوجائے تو چند سال میں پاکستان تعلیم یافتہ افرادی قوت کابہترین ملک بن سکتا ہے لیکن کارپردازان حکومت اپنی ذات سے آگے سوچنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
ملک کے موجودہ بحران سے نکلنے کاایک ہی راستہ ہے کہ پاکستان میںدیانت دار، جرا
¿ت مند اورباصلاحیت قیادت میدان میںآئے۔جس کی سوچ انفرادی کی بجائے اجتماعی ہو اور سیاسی جماعتیں اپنے اقتدارکاکھیل کھیلنے کی بجائے قومی ادارے مضبوط بنائیں۔
وزارت خزانہ کہ سابق ڈپٹی سیکرٹری مختار احمد بھٹی ایک سینئر سٹیزن ہیں ۔ان کاشکوہ ہے کہ پاکستان کے فیصلے پاکستان میں نہیں ہوتے۔ یہ ملک ہمارا ہے ،حکمران ہمارے ہیں لیکن کھیل ہم عالمی طاقتوں کاکھیلتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ دنیا کی تاریخ کاسبق ہے کہ ا ٓزادی ایک نعمت ہے۔جس کی حفاظت نہ کی جائے تو یہ چھن بھی سکتی ہے۔
ایک مسلمان اورپاکستانی کی حیثیت سے دِلی تمنا ہے کہ پاکستان کامسقتبل روشن اورتابناک ہو ۔ہمارا عقیدہ ہے کہ یہ ملک اللہ کے نام پر بنا ہے اوراللہ کے نام پر قائم رہے گا ۔ آئیے، ہم عوام ہوں یاحکمران اپنے 63ویں یوم آزادی پر ہاتھ اٹھا کر عہد کریں کہ ہم مسلمان اورپاکستانی کی حیثیت سے زندہ رہیںگے اور اپنے ذاتی فائدے کی بجائے اس ملک کے فائدے کی فکر کریں گے۔ ﴿روزنامہ نوائےوقت ،راولپنڈی 14اگست 2009﴾

میرا نصب العین اسلامی نظام زندگی اور اللہ تعالیٰ کی رضا کاحصول ہے اور زندگی میں کامیابی کے لئے اخلاق، دیانت ،خدمت اورجرٲت پر یقین ہے۔