بجلی کتھے گئی؟


اسلام آباد میں لوڈشیڈنگ کامشکل وقت گذارنے کے لیے ہر رات ہزاروں خواتین، بچے اوربوڑھے پشاور موڑ کے قریب نئی شاہراہ کے کنارے گھومتے پھرتے، بیٹھے اورکبھی لیٹے ہوئے نظرآتے ہےں۔کئی خاندان گھاس پر بیٹھے پکنک کے انداز میں کھانابھی کھاتے ہیں۔
ایک جدید شہر میں دیہات کا یہ بے تکلف ماحول دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔
سابق چیئرمین سی ڈی اے کامران لاشاری کی دوراندیشی سے یہ کھلی جگہ لوڈشیڈنگ سے مرتے عوام کی جان بچانے کاذریعہ بن گئی ہے۔
یہاں ایک دوست سے ملنے گیا تو راستے میں گھاس پر لیٹے ہوئے ایک بابا جی مجھے حکومت کاآدمی سمجھ کرغصے میں آگئے اورڈانٹ کرپوچھنے لگے:بجلی کتھے گئی؟
انہیں کیابتاتا کہ حکومت کے وزیروں کاخیال ہے کہ بجلی کہیں نہیں گئی۔ ساری گڑ بڑ عوام کی وجہ سے ہے ۔ ابھی حال ہی میں ایک وفاقی وزیر نے بیان دیا ہے کہ لوڈشیڈنگ کے خلاف مظاہرہ کرنے والے عوام بجلی چور ہیں۔
جس روز جھنگ میں لوڈشیڈنگ کااندھیر ادور کرنے کے لیے مشتعل عوام نے ٹرین جلائی تو وزیر اعظم بھی چراغ پا ہوگئے اورفرمایا کہ میرے پاس کوئی الہ دین کاچراغ نہیں ہے۔وزیر اعظم نے بجلی کابحران حل کرنے کے لیے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے چھ وزیروں کی کمیٹی بنانے کااعلان بھی کیا۔
وزیر اعظم نے اپنے اختیارات استعمال کئے تو صدر نے بھی اپنے اختیارت استعمال کرتے ہوئے حکم دیا کہ پرائیویٹ اورپبلک سیکٹر دونوں مل کرایک نئی کمپنی بنائیں جو توانائی کے منصوبے شروع کرے کیونکہ عوام کے صبر کاپیمانہ لبریز ہوچکا ہے۔
ہمارے پبلک سیکرٹریٹ میں اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک تعلیم یافتہ درویش نے فکر مندی کااظہار کیا کہ نئی کمپنی سے صرف ٹین پرسینٹ مسئلہ حل ہوسکتا ہے کیونکہ عوام کے لیے بجلی کی پیداوار شروع ہونے میں کئی سال لگ جائیںگے۔
درویش کی بات جاری تھی کہ لوڈشیڈنگ پر ہمارا موقف جاننے کے لیے ایک ٹی وی چینل کے تیز رفتار رپورٹر تشریف لے آئے جو سب سے پہلے ،سب سے بُری خبر دینے کی دوڑ میں اکثر خبر وں سے آگے نکل جاتے ہیں۔
رپورٹر نے انگلیوں پر گن کربتایا کہ موجودہ سیٹ اپ کی پیداواری صلاحیت انیس ہزار میگا واٹ ہے۔ ہماری ضرورت پندرہ ہزار میگاواٹ ہے ۔ اس طرح ہمارے پاس چار ہزار میگا واٹ بجلی فالتو ہونی چاہئے تھی لیکن اس وقت پیداوارصرف بارہ ہزار میگا واٹ ہے۔اس لیے بجلی کاشارٹ فال تین ہزار میگا واٹ ہے ۔
اس وقت پبلک سیکرٹریٹ میںکافی لوگ تھے جو رپورٹر کی بات سے متاثر ہوئے۔ ایک صاحب نے دعا بھی کی کہ یہ رپورٹر بجلی کاوزیربن جائے تو اچھا ہے۔ ہمیں مسئلہ تو سمجھا سکے گا۔
وزیر اعظم کی نئی کمیٹی اورصدر کی نئی کمپنی بنانے کے اعلان کاعوام پرکوئی اثر نہیں ہوا۔ لاہور کے عوام سٹرکوں پر سینہ کوبی کررہے ہیں۔تاجرمارکیٹوں کے شٹرڈاﺅن کرکے سڑکوں پر ٹائر جلانے میں مصروف ہیں۔
کئی جگہ احتجاج نے غلط رخ اختیار کیا ہے اور بجلی فراہم کرنے والے اداروں کے دفاترجلائے گئے اورعملے کومارا پیٹا گیا ۔
مسلم لیگ ن سب کچھ دیکھ رہی ہے لیکن اس کے رہنماءکسی کوناراض نہیں کرنا چاہتے اس لیے خاموشی کاقفل لگائے بیٹھے ہیں۔ صرف جماعت اسلامی عوام کوسٹرکوں پر آنے اور پرامن احتجا ج کی کال دے رہی ہے۔اسلام آباد میں جماعت اسلامی نے سات روز میں سات احتجاجی مظاہرے کئے۔
لاہور کے تاجروں نے واپڈا ہاﺅس پر قبضہ کرنے کااعلان کردیا ہے۔ جس پر پاکستان الیکٹرک پاورکمپنی PEPCOکے سربراہ نے چار جولائی کو ایک چینل پر کالم نگاروں کے مباحثہ میں تجویز کیا کہ لوڈشیڈنگ کامسئلہ عوام خود حل کرسکتے ہیں۔ جس کاطریقہ یہ ہے کہ ملک میں تمام اے سی بند کردئے جائیں۔دوسرے روز ان کے ترجمان نے یہ اضافہ کیا کہ اس طرح ملک کے تمام گھروں میں چوبیس گھنٹے پنکھے چل سکتے ہیں۔
قومی ادارے کے ذمہ داران کے یہ بیانات ان کی قابلیت کے عکاس ہیں۔ اس فارمولے کے مطابق بجلی سے چلنے والی دیگر اشیاءبھی بند کردی جائیں تو بجلی کامسئلہ باقی نہیں رہے گا۔ہمارے ادارے بجلی کی پیداوار بڑھانے کے کی بجائے عوام کوبجلی کااستعمال نہ کرنے کے مشورے دے رہے ہیں۔
ہمارے حکمرانوں کی طرح ہمارے اداروںکے سربراہ بھی ایڈہاک ازم پرچل رہے ہیں۔یہاںکوئی اپنے عرصہ ملازمت اورعرصہ حکومت سے زیادہ سوچنے کے لیے تیار نہیں ۔اس لیے یہاں کسی ایک بھی شارٹ ٹرم ، مڈٹرم یا لانگ ٹرم منصوبے پرعمل نہیں ہورہا۔ سب لوگ ڈنگ ٹپاﺅ پالیسیوںپر چل رہے ہیں۔
اب حکومت نے کرائے پر جنریٹر لینے کااعلان کیا ہے۔جب متعلقہ وزیر صاحب سے پوچھا گیا کہ چارپانچ سال کرایہ کی صورت میںجتنی رقم خرچ ہوگی ۔اتنی رقم سے تو ہم اپنا منصوبہ شروع کرسکتے ہیں۔جس پر وفاقی وزیر کاجواب تھا کہ ہمارے پیش نظر اتنے ہی سال ہیں۔ہماری حکومت ،وزراءاوراداروں کے سربراہ یہ ماننے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں کہ بجلی کامسئلہ حل کرنا ان کی صلاحیت کاامتحان ہے۔
ہماری قوم تاریک راہوں میں ماری جارہی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں جماعتیں عوام کویہ بتانے کے لیے تیار نہیں ہیںکہ بجلی کابحران مصنوعی ہے۔ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنی پیداواری صلاحیت سے بہت کم بجلی پیدا کررہے ہیں اورجو پیدا ہورہی ہے اس کا ایک بڑاحصہ ضائع ہورہا ہے۔
پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ایشین بنک کے مطابق پاکستان کے زرخیز کھیت پورے ایشیاءکے لیے خوراک فراہم کرسکتے ہیں اورپاکستان اپنے دریاﺅں اورنہروں پر چھوٹے بڑے ڈیموں، دریائی اورسمندری پانی کی لہروں ، پن چکیوں اورشمسی توانائی کے استعمال سے پورے ایشیاءکو بجلی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
صرف پنجاب کے دریاﺅں اورنہروں سے اسی ہزارمیگا واٹ بجلی پیدا ہوسکتی ہے جو پاکستان کی ضروریات سے بہت زیادہ ہے۔ایشین بنک کے مطابق ان منصوبوں پرعمل کے لیے پاکستان کے پاس ماہرین بھی موجود ہیں۔ہم ایٹم بم بناسکتے ہیں تو بڑے سے بڑا ڈیم بھی بنا سکتے ہیں۔
اب تک دنیا میں بجلی پیدا کرنے کاسب سے سستا ترین طریقہ ونڈ ٹربائن ہے ۔ اس کے لیے ہوا کی کم ازکم رفتار تین میٹر فی سیکنڈ درکار ہوتی ہے۔ جس سے اکثر ممالک محروم ہیں اس لیے وہ ہوا کی بجائے دیگر مہنگے طریقوں سے بجلی بنانے پرمجبور ہیں لیکن پاکستان چند خوش قسمت ممالک میںسے ایک ہے جہاںہوا سے بجلی پیدا ہوسکتی ہے۔
ہمارے شہرا سلام آباد میں ہوا کی رفتار چھ سے سات میٹر فی سیکنڈ ہے۔ بجلی کے عالمی ماہرین نے ونڈ ٹربائن کے لیے پاکستان کو دنیا کابہترین ملک قراردیا ہے۔یہاںخیبر سے کراچی تک ہوا سے بجلی بنائی جاسکتی ہے۔ صرف کیٹی بندر سے پچاس ہزار میگا واٹ بجلی پیدا ہونے کااندازہ لگایا گیا ہے۔ ترکی کی ایک فرم نے تجارتی بنیادوں پر سندھ میں ایک چھوٹا وائنڈ ٹربائن لگایا ہے ۔جس سے برائے نام قیمت پر کامیابی سے بجلی حاصل ہورہی ہے۔اس بجلی کی قیمت چند پیسے فی یونٹ ہے۔
آخر، ان منصوبوں پر عمل کی راہ میں رکاوٹ کیا ہے؟بجلی کے کاروبار سے وابستہ مغربی ادارے اورہمارے منصوبہ ساز اداروں کی ملی بھگت کوسازش نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے؟
ہم ایک سازش کاشکار ہوکر ایک بحران کی دلدل میں ہیں۔ بجلی نہ ہونے سے ٹیوب ویلز بند ہیں۔ ان دنوںلوڈشیڈنگ ہماری اہم ترین فصلیں، کپاس، مکئی اورچاول کھارہی ہے۔
دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ مسلط کئے جانے کے بعدتوانائی کے بحران کاشکار قوم چاروں طرف سے گرداب میں ہے۔
سعودی گزٹ کے مطابق کراچی میں پچیس فی صد سے زیادہ سمال ٹریڈرز اپنا بوریابستر سمیٹ چکے ہیں۔فیصل آباد میں ہٹرتال کامنظر ہے۔ صنعتکار اورمزدور ہاتھ پرہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔ہرشہر کی شکایت ہے کہ لوڈشیڈنگ بڑھنے سے سٹریٹ کرائم بڑھے ہیں۔
لوڈشیڈنگ سے اکانومی کی ناقابل تلافی تباہی اپنی جگہ ہے۔ اس کے منفی نفسیاتی اثرات سے معاشرے کاسکون تباہ ہوگیاہے۔ نیند پوری نہ ہونے سے عام آدمی کامزاج بہت تلخ ہوگیا ہے ۔لوگ حکومت کاکچھ نہیںبگاڑسکتے تو آپس میں لڑ جھگڑ کرغصہ نکالتے ہیں۔
جن لوگوں کی جیب میں پیسہ ہے وہ اپنا مسئلہ جنریٹر اوریو پی ایس سے حل کرلیتے ہیں۔ لیکن غریب اپنا مسئلہ حل کرنے کے لیے حکومت کامنہ دیکھنے پر مجبور ہیں۔
گھروںمیںبزرگوں اورمریضوںکابراحال ہے۔طلبہ وطالبات کی زندگی عذاب ہے۔سب سے زیادہ برُی حالت اُن بیٹیوں اوربہنوں کی ہے جو شدید گرمی میں چولہے کے سامنے کام کرتی ہیں۔ایک بہن کاکہنا ہے کہ کھانا پکانے کے بعداپنا پکایا ہوا کھانا ہی کھانے کی سکت نہیں رہ جاتی۔
ابھی تعلیمی اداروںکی چھٹیاں ختم ہونے والی ہیں۔ لوڈشیڈنگ میں اساتذہ کیسے پڑھائیں گے اورمعصوم بچے کیسے پڑھیںگے۔
ہمارے ملک میں دانستہ یا نادانستہ ایک منفی انقلاب لایاجارہا ہے کہ عوام ماﺅ ف ہوکر سوچنے سمجھنے اورردعمل کی صلاحیت سے محروم ہوجائیں۔ دہشت گردی، بے یقینی ،بجلی کے بلوں میںاضافہ، لوڈشیڈنگ ، پٹرولیم مصنوعات میں اضافہ ، مہنگائی اوربے روزگاری سے ہماری بے بسی کی کیفیت کودن رات بڑھایاجارہا ہے کہ عوام آج یہ عذاب برداشت کرنے کے عادی ہوجائیں تو کل غیر ملکی طاقتوں اوران کے آلہ کارملکی رہنماﺅں کی سازشوں سے آنے والے اس سے بڑے عذاب کاعوام پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔
.............................................
میاں محمد اسلم ۔
0300-8558333
سابق ایم این اے ، اسلام آباد

No comments:

Post a Comment

Note: Only a member of this blog may post a comment.


میرا نصب العین اسلامی نظام زندگی اور اللہ تعالیٰ کی رضا کاحصول ہے اور زندگی میں کامیابی کے لئے اخلاق، دیانت ،خدمت اورجرٲت پر یقین ہے۔